اردو رپورٹ ڈیسک
پاکستان تحریک انصاف نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بہن علیمہ خان کی گرفتاری کی مذمت کی ہے، جبکہ لاہور کے ڈپٹی کمشنر نے انہیں 30 روز کے لیے نظر بند کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔
30 روزہ نظر بندی کا حکم
لاہور کے ڈپٹی کمشنر کیپٹن (ر) محمد علی اعجاز نے 20 ستمبر کو مینٹیننس آف پبلک آرڈر (ایم پی او) آرڈیننس 1960 کی دفعہ 3 کے تحت نظر بندی کا حکم جاری کیا۔
حکم نامے کے مطابق علیمہ خان کے ڈرائیور محمد عامر کو بھی ان کے ہمراہ 30 روز کے لیے نظر بند کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ دونوں کو گرفتاری کی تاریخ سے 30 روز کے لیے سینٹرل جیل کوٹ لکھپت میں رکھا جائے گا۔
حکم نامے میں نظر بندی کی وجہ عوامی تحفظ اور امن و امان برقرار رکھنے سے متعلق خدشات کو قرار دیا گیا ہے۔
پولیس اور انٹیلی جنس رپورٹس کا حوالہ
حکم نامے کے مطابق لاہور کیپیٹل سٹی پولیس افسر نے ایس پی سول لائنز ڈویژن اور ڈسٹرکٹ انٹیلی جنس برانچ کے انچارج کی جانب سے پیش کی گئی رپورٹس کی بنیاد پر نظر بندی کی درخواست ارسال کی تھی۔
رپورٹس میں الزام عائد کیا گیا کہ علیمہ خان اور محمد عامر 9 مئی کے احتجاج اور سڑکوں کی بندش میں ملوث رہے اور انہوں نے کارکنوں کو سرکاری اور عوامی املاک کو نقصان پہنچانے پر اکسایا۔
رپورٹس میں مزید کہا گیا کہ دونوں افراد دوبارہ سوشل میڈیا اور عوامی اجتماعات کے ذریعے کارکنوں کو متحرک کر رہے تھے، جس سے امن و امان کی صورتحال پیدا ہونے کا خدشہ تھا۔
حکومت اور اداروں کے خلاف نعرے لگانے کا الزام
پولیس اور انٹیلی جنس رپورٹس میں دونوں پر حکومت اور اداروں کے خلاف ایسے نعرے لگانے کا بھی الزام عائد کیا گیا جنہیں حکم نامے میں ’’قابل اعتراض نعرے‘‘ قرار دیا گیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق اس عمل کا مقصد عوام کو مشتعل یا اکسانا تھا۔
نظر بندی کی درخواست کے حق میں متعدد مقدمات کا حوالہ بھی دیا گیا، جن میں ریس کورس تھانے میں درج ایف آئی آر نمبر 96/23 بھی شامل ہے۔
پی ٹی آئی کا ردعمل
پاکستان تحریک انصاف نے علیمہ خان کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے ان کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔


