اردو رپورٹ ڈیسک
پنجاب حکومت نے اسکولوں میں بچوں کو جسمانی سزا دینے کے خاتمے کے لیے قانون سازی کرنے پر اصولی اتفاق کرلیا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے کہا کہ بچوں کے خلاف جسمانی تشدد ان کی زندگیوں پر دیرپا اثرات مرتب کرسکتا ہے۔
تعلیمی اصلاحات سے متعلق خصوصی اجلاس
یہ فیصلے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیر صدارت تعلیم کے شعبے میں اصلاحات سے متعلق خصوصی اجلاس میں کیے گئے، جس میں صوبے کے اسکولوں میں تدریس اور سیکھنے کے عمل کو بہتر بنانے کے لیے مختلف اقدامات پر غور کیا گیا۔
اجلاس میں کلاس رومز میں جسمانی سزا کے متبادل کے طور پر ’’ڈسپلن کارنرز‘‘ قائم کرنے کی تجویز بھی زیر بحث آئی، تاکہ طلبہ میں نظم و ضبط برقرار رکھنے کے لیے غیرتشدد پر مبنی طریقے اختیار کیے جاسکیں۔
نصاب اور درسی کتب میں تبدیلیاں
حکومت نے اسکولوں کے نصاب میں تبدیلیوں کی بھی منظوری دی جبکہ درسی کتب کے حجم میں 25 فیصد کمی کرنے کا منصوبہ پیش کیا گیا۔
حکام کے مطابق اس اقدام سے کلاس روم میں رٹنے کے بجائے طلبہ میں تصورات کو سمجھنے اور سیکھنے پر زیادہ توجہ دینے میں مدد ملے گی۔
نئی درسی کتب میں مختلف موضوعات سے متعلق ویڈیو اسباق تک رسائی کے لیے کیو آر کوڈز بھی شامل کیے جائیں گے، جنہیں طلبہ اسکین کرکے متعلقہ تعلیمی مواد دیکھ سکیں گے۔
طلبہ کی ذہنی صحت پر بھی توجہ
اجلاس میں طلبہ کی ذہنی صحت کے معاملے پر بھی غور کیا گیا۔ حکومت نے اساتذہ کو ذہنی صحت سے متعلق تربیت فراہم کرنے کا منصوبہ بنایا ہے جبکہ ہر ضلع میں وزٹنگ فیکلٹی سائیکالوجسٹس کی تعیناتی کی تجویز بھی زیر غور آئی۔
مریم نواز نے طلبہ کے لیے آن لائن مشاورتی سہولیات تیار کرنے کی بھی ہدایت کی۔
اساتذہ کی تربیت کا نیا نظام
حکومت نے اساتذہ کی تربیت کے لیے ہر ہفتے ایک دن مختص کرنے کا منصوبہ بھی بنایا ہے۔ نئی درسی کتب تیار کرنے والے مصنفین خود اساتذہ کو نظرثانی شدہ کتب کے استعمال کے طریقہ کار سے آگاہ کریں گے۔


