پیر, 28 ستمبر 2026
  • Home  
  • پاکستان میں 100 سے زائد جان بچانے والی ادویات کی قلت، مریضوں کو مشکلات
- دنیا

پاکستان میں 100 سے زائد جان بچانے والی ادویات کی قلت، مریضوں کو مشکلات

پاکستان میں 100 سے زائد ضروری اور جان بچانے والی ادویات مارکیٹ سے نایاب ہوگئی ہیں، جبکہ کمپنیوں کا کہنا ہے کہ موجودہ قیمتوں پر کئی ادویات کی تیاری تجارتی طور پر ناقابلِ عمل ہوگئی ہے۔

اردو رپورٹ ڈیسک

پاکستان میں ضروری اور جان بچانے والی ادویات کی قلت بڑھتی جا رہی ہے، جہاں 100 سے زائد ادویات مارکیٹ میں دستیاب نہیں رہیں۔ دوا ساز کمپنیوں کے مطابق ان ادویات کی تیاری اس لیے روک دی گئی ہے کہ موجودہ منظور شدہ قیمتیں پیداواری لاگت پوری نہیں کر رہیں۔

ادویات کی قلت سے کینسر، بلند فشار خون اور ذیابیطس سمیت سنگین بیماریوں کے علاج کے لیے استعمال ہونے والی ادویات متاثر ہوئی ہیں۔ دوا سازوں اور سپلائرز کے مطابق یہ مسئلہ گزشتہ دو برس کے دوران پیداواری اخراجات میں اضافے اور ادویات کی منظور شدہ قیمتیں برقرار رہنے کے باعث بتدریج پیدا ہوا۔

قیمتوں میں اضافے کی درخواستیں زیر التوا

دوا ساز صنعت کی نمائندہ تنظیم کے مطابق اس وقت تقریباً 105 ادویات کی قلت کا ذکر کیا جا رہا ہے، تاہم یہ تعداد مسئلے کی مکمل شدت کی عکاسی نہیں کرتی۔

کمپنیوں نے نئی قیمتوں میں اضافے کی درخواستیں دینا بھی بڑی حد تک روک دی ہیں کیونکہ پہلے سے جمع کرائی گئی درخواستیں طویل عرصے سے زیر التوا ہیں۔

پالیسی کے تحت 60 سے 90 دن میں فیصلہ ضروری

پاکستان فارماسیوٹیکل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے ایک سابق عہدیدار کے مطابق ڈرگ پرائسنگ پالیسی 2018 کے تحت مالی طور پر ناقابلِ عمل ادویات کے لیے جمع کرائی گئی مشکلات سے متعلق درخواستوں پر 60 سے 90 دن کے اندر فیصلہ ہونا چاہیے۔

ان کے مطابق گزشتہ دو برس کے دوران جمع کرائی گئی درخواستیں اب بھی فیصلوں کی منتظر ہیں۔

جعلی اور اسمگل شدہ ادویات کا خطرہ

ادویات کی قلت مریضوں کے لیے بھی خطرات پیدا کر رہی ہے۔ اصل ادویات دستیاب نہ ہونے کی صورت میں بعض افراد مہنگی اسمگل شدہ یا جعلی ادویات خریدنے کی طرف جا سکتے ہیں۔

زندگی بچانے والی ادویات کی قیمتیں حکومتی کنٹرول میں

حکومت اس وقت جان بچانے والی ادویات کی قیمتوں کو کنٹرول کرتی ہے۔ یہ ادویات پاکستان میں فروخت ہونے والی مجموعی ادویات کا تقریباً 40 فیصد ہیں اور ان میں تقریباً 500 مالیکیولز شامل ہیں۔

ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کو مزید اختیار دینے کا مطالبہ

دوا ساز کمپنیوں نے اب قیمتوں کے تعین کا طریقہ کار تبدیل کرنے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ مشکلات سے متعلق درخواستوں پر حتمی فیصلہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی پاکستان خود کرسکے اور معاملہ وفاقی کابینہ کو بھیجنے کی ضرورت نہ رہے۔

وزرا سے معاملے پر بات چیت

دوا ساز کمپنیوں نے حال ہی میں وفاقی وزیر برائے قومی صحت، ضوابط و رابطہ مصطفیٰ کمال، وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال اور وزیراعظم کے مشیر برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر کے سامنے بھی یہ معاملہ اٹھایا۔

دوا سازوں کے مطابق انہیں پیداواری اور تقسیم کے اخراجات پورے کرنے، کاروباری سرگرمیاں جاری رکھنے اور اضافی پیداواری صلاحیت و نئی مصنوعات میں سرمایہ کاری کے لیے تقریباً 10 سے 15 فیصد منافع درکار ہوتا ہے۔

urdureport.com@2025. All Rights Reserved

Your license hasn’t been activated yet. Activate it now!