اردو رپورٹ ڈیسک
حکومت اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے درمیان 4 اکتوبر کو ہونے والے لانگ مارچ اور دیگر سیاسی معاملات پر مذاکرات کا پہلا دور اسلام آباد میں بغیر کسی حتمی فیصلے کے ختم ہوگیا۔
سینیٹ میں قائد حزب اختلاف علامہ راجہ ناصر عباس کے مطابق مذاکرات کا اگلا دور ہفتہ کو دوپہر 2 بجے قومی اسمبلی کے سپیکر سردار ایاز صادق کے چیمبر میں ہوگا۔
علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ مذاکرات جاری رہیں گے اور اگلے اجلاس کے بعد فریقین آئندہ کے لائحہ عمل کا فیصلہ کریں گے۔
مذاکرات میں مختلف امور پر گفتگو
پارلیمنٹ ہاؤس میں قومی اسمبلی کے سپیکر سردار ایاز صادق کی زیر نگرانی ہونے والے اجلاس میں حکومت، پاکستان پیپلز پارٹی (پیپلز پارٹی) اور پی ٹی آئی کے نمائندوں نے شرکت کی۔
قومی اسمبلی کے ترجمان کے مطابق شرکا نے مذاکرات کے دوران ایک دوسرے کو اپنے اپنے مؤقف سے آگاہ کیا اور مختلف امور پر تحمل کے ساتھ تفصیلی گفتگو کی۔
حکومت اور پیپلز پارٹی نے قومی مسائل کو مذاکرات اور بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
جب علامہ راجہ ناصر عباس سے پوچھا گیا کہ آیا اجلاس میں عمران خان سے متعلق معاملہ زیر بحث آیا تو انہوں نے کہا کہ اگلا اجلاس ہفتہ کو ہوگا اور اس کے بعد ہی اس بارے میں بات کی جاسکے گی۔
حکومت کا مذاکرات کے ماحول پر مؤقف
وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے کہا کہ مذاکرات اچھے ماحول میں ہوئے اور موجودہ صورت حال پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔
انہوں نے بتایا کہ مذاکرات ہفتہ کو دوپہر 2 بجے تک مؤخر کیے گئے ہیں، جس کے بعد فریقین دوبارہ اجلاس میں شریک ہوں گے۔
4 اکتوبر کے لانگ مارچ کو مؤخر کرنے سے متعلق سوال پر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ مذاکرات کی تفصیلات سامنے نہ لانے پر اتفاق ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مذاکرات کا مقصد ایک دوسرے کو تحمل اور برداشت کے ساتھ سننا اور بات چیت کے ذریعے سیاسی حل تلاش کرنا ہے۔
پی ٹی آئی رہنماؤں کی عمران خان سے ملاقات کے سوال پر وفاقی وزیر نے کہا کہ وہ اس بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتے۔
مذاکرات میں کون کون شریک تھا؟
حکومت کی جانب سے وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری، وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ، وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری اور وفاقی وزیر امیر مقام نے شرکت کی۔
پیپلز پارٹی کی نمائندگی شیری رحمٰن، نوید قمر اور اعجاز جاکھرانی نے کی۔
پی ٹی آئی کے وفد میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان، علامہ راجہ ناصر عباس، اسد قیصر، عامر ڈوگر، سلمان اکرم راجہ اور حلیم عادل شیخ شامل تھے۔
4 اکتوبر کا لانگ مارچ
مذاکرات ایسے وقت میں ہورہے ہیں جب پی ٹی آئی نے 4 اکتوبر کو اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کر رکھا ہے۔ پارٹی نے ابتدا میں لانگ مارچ 27 ستمبر کو کرنے کا اعلان کیا تھا، جسے بعد میں 4 اکتوبر تک مؤخر کردیا گیا۔
مذاکرات کے پہلے دور میں موجودہ سیاسی صورت حال اور قومی اہمیت کے دیگر معاملات پر گفتگو ہوئی، جبکہ فریقین نے ہفتہ کو دوپہر 2 بجے مذاکرات دوبارہ شروع کرنے پر اتفاق کیا۔


