اردو رپورٹ ڈیسک
وفاقی حکومت نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد صوبے میں سول انتظامیہ کی معاونت کے لیے پاک فوج کی تعیناتی کی منظوری دے دی ہے۔ وزارت داخلہ نے اتوار 11 اکتوبر 2026 کو اس حوالے سے باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کردیا۔
حکومتی اعلامیے کے مطابق فوج کی تعیناتی کا مقصد امن و امان برقرار رکھنے، شہریوں کی جان و مال، سرکاری املاک اور تنصیبات کے تحفظ کو یقینی بنانے میں سول انتظامیہ کی مدد کرنا ہے۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی گرفتاری کا دعویٰ
خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی گرفتاری کا دعویٰ سامنے آیا ہے۔
پاکستان تحریک انصاف کے صوبائی صدر جنید اکبر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر دعویٰ کیا کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور انہیں گرفتار کرلیا گیا ہے۔ تاہم فراہم کردہ معلومات میں ان گرفتاریوں کی آزادانہ تصدیق موجود نہیں۔
ذرائع کے مطابق ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد وزیراعلیٰ سے ملاقاتوں پر پابندی عائد کردی گئی تھی۔ وزیراعلیٰ ہاؤس میں داخلے کی اجازت بھی نہیں تھی، جبکہ وہاں تعینات عملے کی تعداد محدود کردی گئی تھی۔
ڈاکٹر فخر عالم نئے چیف سیکریٹری مقرر
وفاقی حکومت نے ڈاکٹر فخر عالم کو خیبرپختونخوا کا نیا چیف سیکریٹری مقرر کردیا ہے۔ ان کی تعیناتی کا باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے۔
یہ تقرری صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد انتظامی امور کی تنظیم نو کے سلسلے میں کی گئی ہے۔
آئین کے تحت پاک فوج کی تعیناتی
وزارت داخلہ کے نوٹیفکیشن کے مطابق خیبرپختونخوا میں پاک فوج کے دستے آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت سول انتظامیہ کی معاونت کریں گے۔
حکومتی حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ فوجی دستے امن و امان برقرار رکھنے اور شہریوں کی جان و مال سمیت سرکاری تنصیبات کے تحفظ میں مدد فراہم کریں گے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق خیبرپختونخوا میں تعینات کیے جانے والے فوجی دستوں اور وسائل کی تعداد کا تعین گورنر، جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) کے ملٹری آپریشنز ڈائریکٹوریٹ سے مشاورت کے بعد کریں گے۔
پاک فوج کی تعیناتی سے متعلق حکم نامہ گزٹ آف پاکستان کے حصہ دوم میں شائع کیا جائے گا۔
خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کا نفاذ
پاک فوج کی تعیناتی کا فیصلہ وفاقی حکومت کی جانب سے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
صدر مملکت آصف علی زرداری نے وزیراعظم شہباز شریف کے مشورے اور وفاقی کابینہ کی سفارش پر آئین کے آرٹیکلز 232(1) اور 234(1) کے تحت ایمرجنسی کے اعلان کی منظوری دی تھی۔
ایوان صدر کے مطابق اس فیصلے کی بنیاد صوبے میں دہشت گردی کے بڑھتے واقعات، امن و امان کی خراب صورت حال اور شہریوں کی جان و مال کو لاحق خطرات کو بنایا گیا۔ اعلامیے میں سرکاری تنصیبات، بنیادی ڈھانچے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملوں میں اضافے کا بھی ذکر کیا گیا۔
وفاقی حکومت کا مؤقف ہے کہ صوبائی حکومت دہشت گردی اور لاقانونیت کی روک تھام کے لیے مطلوبہ اقدامات کرنے میں ناکام رہی۔ گورنر خیبرپختونخوا کی رپورٹ میں بھی صوبے کے آئینی نظام میں تعطل کی نشاندہی کیے جانے کا بتایا گیا۔
آئین کے آرٹیکل 234 کے تحت مخصوص حالات میں صوبائی حکومت کے بعض یا تمام اختیارات گورنر کو تفویض کیے جاسکتے ہیں، جبکہ آرٹیکل 232 غیر معمولی حالات میں ہنگامی اقدامات کی اجازت دیتا ہے۔
گورنر کی معاونت کے لیے 11 رکنی مشاورتی کونسل تشکیل
ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد وفاقی حکومت نے صوبے کے انتظامی امور چلانے کے لیے 11 رکنی مشاورتی کونسل تشکیل دی ہے۔
کونسل میں طارق محمود پاشا، ڈاکٹر عامر عبداللہ، لیفٹیننٹ جنرل (ر) نگار جوہر، ثمر ہارون بلور، ڈاکٹر سرفراز علی، عامر جاوید، ڈاکٹر ایم ارشاد، کفایت اللہ، طیب قریشی، عثمان سیف اللہ خان اور آصف رفیق شامل ہیں۔
حکم نامے کے مطابق گورنر خیبرپختونخوا وفاق کی جانب سے صوبائی امور انجام دیں گے اور مشاورتی کونسل ان کی معاونت کرے گی۔
حکم نامے کے تحت ثنا اللہ ایڈووکیٹ کو خیبرپختونخوا کا ایڈووکیٹ جنرل بھی مقرر کیا گیا ہے۔ صوبے کے انتظامی امور گورنمنٹ رولز آف بزنس 1985 کے مطابق چلائے جائیں گے۔ یہ اقدامات فوری طور پر نافذالعمل قرار دیے گئے ہیں۔
وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے اس سے قبل بتایا تھا کہ صوبے کے 12 متاثرہ اضلاع کے لیے ایک سیکریٹریٹ قائم کیا گیا ہے، جہاں سے وفاقی حکومت کو براہ راست رپورٹ دی جائے گی۔ ان کے مطابق کونسل کی نگرانی کی ذمہ داری ایڈیشنل چیف سیکریٹری سنبھالیں گے۔
12 اضلاع میں امن و امان کی صورت حال خراب ہے، محسن نقوی
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ سے قبل اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا تھا کہ خیبرپختونخوا کے 12 اضلاع میں امن و امان کی صورت حال انتہائی خراب ہے۔ ان کے مطابق بعض علاقوں میں لوگ شام کے بعد گھروں سے باہر نکلنے سے بھی گریز کرتے ہیں۔
محسن نقوی نے کہا کہ وفاقی حکومت ایک ماہ سے زائد عرصے تک صوبائی حکومت کو اعتماد میں لینے کی کوشش کرتی رہی تاکہ دہشت گردی کے خلاف مشترکہ اقدامات کیے جاسکیں۔
ان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت کو پی ٹی آئی کے دھرنے پر اعتراض نہیں تھا اور نہ ہی دھرنا ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ ان کے مطابق دھرنا مؤخر کرنے کی شرط پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے رکھی گئی تھی، جبکہ وفاقی حکومت کی بنیادی توجہ دہشت گردی کے خلاف تعاون پر تھی۔
وزیر داخلہ کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کے بیرون ملک روانہ ہونے سے قبل اپوزیشن رہنماؤں سے ملاقات اور مذاکراتی کمیٹی تشکیل دینے کی کوشش کی گئی۔ پی ٹی آئی کے ساتھ دو روز مذاکرات ہوئے اور مسودے میں کئی ترامیم بھی قبول کی گئیں، تاہم آخری مرحلے پر نیا مسودہ سامنے آنے کے بعد اتفاق رائے نہ ہوسکا۔
محسن نقوی نے بتایا کہ گزشتہ رات 11 بج کر 45 منٹ تک پی ٹی آئی رہنماؤں سے رابطہ رہا اور انہیں مسودے میں تبدیلیوں کے لیے تجاویز دینے کا موقع بھی دیا گیا، لیکن ان کے بقول کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران خیبرپختونخوا میں 518 پولیس اہلکار شہید ہوئے، جبکہ دہشت گردی کے بڑھتے واقعات نے سیکیورٹی صورت حال کو مزید سنگین کردیا ہے۔
وفاقی حکومت کا آئینی اقدامات سے متعلق مؤقف
وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا تھا کہ وفاقی کابینہ کے تفصیلی اجلاس میں خیبرپختونخوا کی امن و امان کی صورت حال کا جائزہ لیا گیا، جس کے بعد وزیراعظم کو صدر مملکت کو آئینی اقدامات کی تجویز دینے کا مشورہ دیا گیا۔
ان کے مطابق صوبے میں دہشت گردی کے واقعات اور سیکیورٹی اہلکاروں پر حملوں میں اضافے کے باعث متعلقہ آئینی دفعات کے تحت اقدامات کرنا ضروری ہوگیا تھا۔
اعظم نذیر تارڑ نے بتایا کہ گورنر خیبرپختونخوا نے اپنی رپورٹ وفاق کو بھجوائی، جس کے بعد صدر مملکت نے وزیراعظم کی ایڈوائس پر ایمرجنسی کے اعلان کی منظوری دی۔
انہوں نے کہا کہ صوبائی امور کی انجام دہی اور سول انتظامیہ کی معاونت کے لیے نیا انتظامی ڈھانچہ تشکیل دیا گیا ہے، جبکہ پاک فوج کی تعیناتی بھی اسی سلسلے کا حصہ ہے۔
عطا اللہ تارڑ کے پی حکومت پر الزامات
وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے پی ٹی آئی اور خیبرپختونخوا حکومت پر دہشت گرد عناصر کو سہولت فراہم کرنے کے الزامات عائد کیے تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت کے پاس ان الزامات سے متعلق شواہد موجود ہیں اور دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کے لیے صوبائی حکومت کا تعاون ضروری ہے۔ یہ الزامات وفاقی حکومت کا مؤقف ہیں۔
پی ٹی آئی کا لانگ مارچ اور سیاسی کشیدگی
خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کا نفاذ ایسے وقت میں ہوا ہے جب پی ٹی آئی کے اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ اور وفاقی و صوبائی حکومتوں کے درمیان سیکیورٹی پالیسی پر اختلافات کے باعث سیاسی کشیدگی میں اضافہ ہوا۔
پی ٹی آئی اپنے احتجاج کے ذریعے بانی چیئرمین عمران خان کی رہائی کا مطالبہ کرتی رہی ہے، جبکہ وفاقی حکومت نے دہشت گردی کے خلاف اقدامات اور صوبائی حکومت کے ساتھ سیکیورٹی تعاون کو بنیادی مسئلہ قرار دیا۔
فراہم کردہ خبر کے مطابق خبر رساں اداروں رائٹرز اور ایسوسی ایٹڈ پریس نے بھی رپورٹ کیا کہ وفاقی حکومت نے دہشت گردی کے بڑھتے واقعات اور صوبائی حکومت کے ساتھ سیکیورٹی پالیسی پر اختلافات کو ایمرجنسی کے نفاذ کی وجوہات قرار دیا، جبکہ پی ٹی آئی نے اس اقدام پر اعتراض کیا ہے۔
پاک فوج کی تعیناتی کے نوٹیفکیشن کے اجرا کے بعد اب صوبے میں سول انتظامیہ کی معاونت کے لیے فوجی دستوں کی تعیناتی کا انتظامی عمل شروع ہوگیا ہے۔ حکومت کے مطابق اس اقدام کا مقصد شہریوں، سرکاری املاک اور تنصیبات کا تحفظ یقینی بنانا اور صوبے میں امن و امان برقرار رکھنے میں مدد فراہم کرنا ہے۔


