اردو رپورٹ ڈیسک
امریکی ماہرینِ فلکیات نے زمین سے تقریباً 7.5 نوری سال دور واقع مشتری کے حجم کے برابر ایک سرد بھورے بونے ستارے کی فضا میں پانی کے بادلوں کی موٹائی میں تبدیلی کی پہلی براہِ راست تصدیق کر دی ہے۔ اس دریافت سے نظامِ شمسی سے باہر موجود فلکیاتی اجسام کے موسمی اور فضائی نظام کو سمجھنے میں مدد ملے گی۔
سائنسی جریدے دی ایسٹرو فزیکل جرنل میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق، ایریزونا یونیورسٹی کی ماہرِ فلکیات برٹنی مائلز کی سربراہی میں تحقیق کرنے والی ٹیم نے جیمز ویب خلائی دوربین کی مدد سے اس فلکیاتی جرم کا مسلسل 11 گھنٹے تک مشاہدہ کیا۔
یہ جرم اب تک دریافت ہونے والے سرد ترین بھورے بونے ستاروں میں شمار ہوتا ہے، جس کا درجہ حرارت تقریباً 265 کیلون ہے۔
بھورا بونا ستارہ کیا ہوتا ہے؟
بھورے بونے ایسے فلکیاتی اجسام ہوتے ہیں جن کی کمیت عام سیاروں سے زیادہ ہوتی ہے، لیکن وہ ستاروں کی طرح جوہری عمل کے ذریعے توانائی پیدا کرنے کے لیے درکار کمیت نہیں رکھتے۔ اسی وجہ سے انہیں سیاروں اور ستاروں کے درمیان ایک الگ قسم کا فلکیاتی جرم سمجھا جاتا ہے۔
فضا میں پانی کے بادلوں کی تبدیلی
تحقیق کے مطابق اس فلکیاتی جرم کی گردش کے دوران اس کی فضا میں موجود پانی کے بادلوں کی موٹائی میں تبدیلی آتی رہتی ہے۔ بعض اوقات یہ بادل زیادہ موٹے ہو جاتے ہیں، جبکہ بعض اوقات ان کی موٹائی کم ہو جاتی ہے۔
سائنس دانوں نے یہ بھی مشاہدہ کیا کہ اس کی فضا کی گہری تہوں میں موجود کیمیائی گیسیں حرارتی عمل کے باعث اوپر کی جانب منتقل ہوتی ہیں۔ یہ تبدیلیاں ماہرین کو دور دراز فلکیاتی اجسام کی فضا میں وقت کے ساتھ رونما ہونے والے تغیرات کا جائزہ لینے کا موقع فراہم کرتی ہیں۔
جیمز ویب خلائی دوربین سے مشاہدہ
تحقیقی ٹیم نے 11 گھنٹے کے مشاہدے کے دوران ہر 15 منٹ بعد اس فلکیاتی جرم سے آنے والی روشنی کا طیف ریکارڈ کیا۔ اس طریقے سے سائنس دانوں کو اس کی فضا میں ہونے والی تبدیلیوں اور بادلوں کی ساخت کا تفصیلی جائزہ لینے میں مدد ملی۔
روشنی کے طیف کے تجزیے کے ذریعے ماہرین یہ جان سکتے ہیں کہ کسی فلکیاتی جرم کی روشنی میں وقت کے ساتھ کیا تبدیلیاں آتی ہیں اور یہ تبدیلیاں اس کی فضا کے بارے میں کیا معلومات فراہم کرتی ہیں۔
دریافت کی سائنسی اہمیت
ماہرین کے مطابق یہ تحقیق نظامِ شمسی سے باہر موجود دنیاؤں کے موسمی حالات اور فضائی نظام کو سمجھنے کی جانب اہم پیش رفت ہے۔
اس تحقیق سے مستقبل میں دوسرے دور دراز فلکیاتی اجسام کی فضا، بادلوں کی ساخت اور ان کے ماحول کو تشکیل دینے والے طبعی عوامل کے مطالعے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔


