اردوEnglish
ہفتہ, 17 اکتوبر 2026
  • Home  
  • مراقبہ کے مضر اثرات: ذہنی سکون کی کوشش بھی بے چینی کا سبب بن سکتی ہے
- صحت و تندرستی

مراقبہ کے مضر اثرات: ذہنی سکون کی کوشش بھی بے چینی کا سبب بن سکتی ہے

مراقبہ ذہنی دباؤ کم کرنے اور توجہ بہتر بنانے میں مدد دے سکتا ہے، تاہم بعض افراد کو اس کے بعد بے چینی، اداسی، چکر اور نیند کی کمی جیسے مسائل کا سامنا بھی ہو سکتا ہے۔

اردو رپورٹ ڈیسک

مراقبہ کو ذہنی سکون حاصل کرنے، تناؤ کم کرنے اور توجہ بہتر بنانے کا مؤثر طریقہ سمجھا جاتا ہے، لیکن بعض افراد کے لیے یہ عمل بے چینی، اداسی اور نیند میں خلل کا سبب بھی بن سکتا ہے۔ خاص طور پر پہلے سے ذہنی دباؤ، افسردگی یا ماضی کے کسی تکلیف دہ واقعے سے متاثرہ افراد کو مراقبے کے دوران مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔

خاموشی سے بیٹھ کر اپنے خیالات اور احساسات پر توجہ دینے سے بعض اوقات ایسی یادیں اور جذبات بھی سامنے آ سکتے ہیں جنہیں انسان روزمرہ کی مصروفیات میں نظر انداز کرتا رہتا ہے۔ تاہم، اس کا مطلب یہ نہیں کہ مراقبہ ہر شخص کے لیے نقصان دہ ہے۔ بہت سے افراد کے لیے یہ مفید ثابت ہوتا ہے، لیکن اس دوران اپنی جسمانی اور ذہنی کیفیت پر توجہ دینا ضروری ہے۔

بے چینی اور گھبراہٹ میں اضافہ

مراقبے کے دوران خاموش بیٹھ کر اپنے خیالات پر توجہ دینے سے بعض لوگوں کو سکون ملنے کے بجائے پریشانی زیادہ محسوس ہونے لگتی ہے۔ انہیں گھبراہٹ، بے سکونی یا بار بار اٹھنے کی خواہش ہو سکتی ہے۔

ایسی صورت میں خود کو زبردستی پرسکون کرنے کی کوشش کرنے کے بجائے مراقبہ روک دینا بہتر ہے۔ کچھ دیر آرام کریں یا ایسی سرگرمی اختیار کریں جس سے آپ کو سکون محسوس ہوتا ہو۔

چکر آنے کی شکایت

مراقبے کے دوران بعض افراد جان بوجھ کر بہت گہری یا تیز سانسیں لینے لگتے ہیں۔ اس طرح سانس لینے سے خون میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار تبدیل ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں چکر آنے یا سر ہلکا محسوس ہونے کا امکان ہوتا ہے۔

اس مسئلے سے بچنے کے لیے قدرتی اور آرام دہ انداز میں سانس لیں اور اسے غیر ضروری طور پر تیز یا بہت گہرا نہ کریں۔ اگر چکر آنے لگیں تو مراقبہ روک دیں۔ چکر برقرار رہنے یا بار بار آنے کی صورت میں ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔

اچانک رونا یا اداسی محسوس ہونا

مراقبے کے دوران بعض اوقات ماضی کی تکلیف دہ یادیں تازہ ہو سکتی ہیں۔ کسی پرانے واقعے، رشتے کے خاتمے، نقصان یا دبے ہوئے جذبات کی وجہ سے انسان اداس ہو سکتا ہے اور بعض اوقات اچانک رونے بھی لگتا ہے۔

روزمرہ کی مصروفیات کے دوران جن احساسات پر توجہ نہیں دی جاتی، وہ خاموشی میں بیٹھنے کے دوران نمایاں ہو سکتے ہیں۔ ایسا ہونا لازماً کمزوری کی علامت نہیں، لیکن اگر ان یادوں سے شدید تکلیف ہو یا اداسی طویل عرصے تک برقرار رہے تو اسے نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ ضرورت پڑنے پر ماہرِ نفسیات یا ذہنی صحت کے ماہر سے مدد لینا مناسب ہے۔

اردگرد کی دنیا اجنبی محسوس ہونا

بعض افراد کو طویل وقت تک مراقبہ کرنے کے بعد ایسا محسوس ہو سکتا ہے جیسے وہ اپنے اردگرد کی دنیا سے کٹ گئے ہوں۔ انہیں ماحول خواب جیسا محسوس ہونے لگتا ہے یا آس پاس کی چیزیں معمول سے مختلف دکھائی دیتی ہیں۔

ایسی کیفیت محسوس ہونے پر مراقبہ روک دیں، اپنے اردگرد موجود چیزوں پر توجہ مرکوز کریں، پاؤں زمین پر رکھیں اور آرام سے تھوڑی چہل قدمی کریں۔ اگر یہ کیفیت برقرار رہے یا بار بار پیش آئے تو طبی مشورہ حاصل کریں۔

رات کو نیند آنے میں دشواری

مراقبہ عام طور پر ذہنی سکون میں مدد دیتا ہے، لیکن اس کے اثرات ہر شخص میں یکساں نہیں ہوتے۔ بعض افراد مراقبے کے بعد ذہنی طور پر زیادہ چوکنا یا متحرک محسوس کرتے ہیں، جس سے رات کو نیند آنے میں مشکل پیش آ سکتی ہے۔

اگر سونے سے پہلے مراقبہ کرنے کے بعد نیند متاثر ہو رہی ہو تو اسے دن کے کسی دوسرے وقت کرنے کی کوشش کریں۔ نیند کی دشواری مسلسل برقرار رہنے کی صورت میں ڈاکٹر سے مشورہ کرنا بہتر ہے۔

جسمانی درد اور ہاتھ پاؤں میں سنسناہٹ

مراقبے کے دوران زیادہ دیر تک ایک ہی حالت میں بیٹھے رہنے سے کمر، گردن اور کندھوں میں درد ہو سکتا ہے۔ اسی طرح غلط انداز میں بیٹھنے یا جسم کے بعض حصوں پر دباؤ پڑنے سے ہاتھوں اور پاؤں میں سنسناہٹ محسوس ہو سکتی ہے۔

ان مسائل سے بچنے کے لیے آرام دہ انداز میں بیٹھیں اور ضرورت پڑنے پر اپنی نشست تبدیل کر لیں۔ مراقبے کے لیے زمین پر آلتی پالتی مار کر بیٹھنا ضروری نہیں؛ کرسی پر بیٹھ کر بھی یہ عمل کیا جا سکتا ہے۔

اگر درد یا سنسناہٹ برقرار رہے تو طبی مشورہ حاصل کریں۔

بے چینی اور افسردگی کی علامات میں اضافہ

جن افراد کو پہلے سے بے چینی، افسردگی یا ماضی کے کسی تکلیف دہ واقعے کی یادوں سے پریشانی ہوتی ہے، انہیں مراقبے کی بعض اقسام کے دوران زیادہ مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔

خاموشی میں اپنے خیالات اور احساسات پر مسلسل توجہ دینے سے پریشان کن یادیں تازہ ہو سکتی ہیں اور ذہنی دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ ایسے افراد کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی کیفیت کو سمجھیں اور ایسی مشق جاری رکھنے پر اصرار نہ کریں جس سے ان کی پریشانی میں اضافہ ہو رہا ہو۔

مراقبہ کرتے وقت کن باتوں کا خیال رکھیں؟

مراقبے کے بعد بے چینی یا دیگر مسائل ہر شخص کو پیش نہیں آتے، لیکن اگر یہ علامات بار بار ظاہر ہوں تو انہیں نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔

ابتدا میں روزانہ پانچ سے دس منٹ تک کسی آرام دہ جگہ پر بیٹھ کر ہلکی نوعیت کا مراقبہ کرنا بہتر ہے۔ دورانِ مشق اپنی سانس کو قدرتی رکھیں اور ایسی کیفیت محسوس ہونے پر وقفہ لے لیں جو آپ کے لیے پریشان کن ہو۔

اگر مسلسل چکر آنے، شدید اداسی، بے چینی یا نیند کی خرابی کی شکایت ہو تو ڈاکٹر یا ذہنی صحت کے ماہر سے مشورہ کریں۔ مراقبے کا بنیادی مقصد انسان کو بہتر اور پرسکون محسوس کروانا ہے، نہ کہ اسے ذہنی یا جسمانی تکلیف میں مبتلا کرنا۔

urdureport.com@2025. All Rights Reserved

Your license hasn’t been activated yet. Activate it now!