اردوEnglish
جمعرات, 22 اکتوبر 2026
  • Home  
  • پاکستان میں غربت کی شرح 29 فیصد ہوگئی، ہر چھٹا پاکستانی بے روزگار
- پاکستان

پاکستان میں غربت کی شرح 29 فیصد ہوگئی، ہر چھٹا پاکستانی بے روزگار

عالمی بینک کی پاکستان ڈیولپمنٹ اپ ڈیٹ رپورٹ 2026 کے مطابق گزشتہ چھ سال میں پاکستان میں غربت کی شرح 22 فیصد سے بڑھ کر 29 فیصد ہوگئی، جبکہ بے روزگاری کی شرح 7 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ رپورٹ میں معاشی استحکام کے باوجود روزگار کے مواقع بڑھانے اور بنیادی معاشی اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔

اردو رپورٹ ڈیسک

عالمی بینک نے پاکستان میں معاشی استحکام کے باوجود بڑھتی ہوئی غربت، بے روزگاری اور روزگار کے محدود مواقع پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ پاکستان ڈیولپمنٹ اپ ڈیٹ رپورٹ 2026 کے مطابق ملک میں گزشتہ چھ سال کے دوران غربت کی شرح میں 7 فیصد پوائنٹس کا اضافہ ہوا، جبکہ ہر سال 36 لاکھ نوجوان روزگار کی تلاش میں لیبر مارکیٹ میں داخل ہو رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان میں معاشی ترقی کے ثمرات عام شہریوں تک پہنچانے کے لیے ساختی اصلاحات، نجی شعبے میں روزگار کے مواقع کی توسیع اور مزدوروں کی آمدن میں بہتری ناگزیر ہے۔

غربت کی شرح 22 سے بڑھ کر 29 فیصد ہوگئی

عالمی بینک کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 2018-2019 کے دوران غربت کی شرح 22 فیصد تھی، جو 2024-2025 میں بڑھ کر 29 فیصد ہوگئی۔ اس طرح گزشتہ چھ سال کے دوران غربت کی شرح میں 7 فیصد پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

رپورٹ میں غربت میں اضافے کی اہم وجوہات میں مزدوروں کی حقیقی آمدن میں کمی، بلند مہنگائی اور پیداواری صلاحیت میں سست رفتار ترقی شامل ہیں۔ خواتین اور نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح بھی زیادہ ہے۔

بے روزگاری اور روزگار کے مواقع کا بحران

عالمی بینک کے مطابق پاکستان میں 2024 کے دوران بے روزگاری کی شرح 7 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ ہر سال 36 لاکھ نوجوان روزگار کی تلاش میں مارکیٹ میں داخل ہو رہے ہیں، جس کے باعث معیشت پر روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کا دباؤ بڑھ رہا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2018 سے اب تک ملک میں ایک کروڑ 77 لاکھ روزگار کے مواقع پیدا ہوئے، تاہم ان میں سے بڑی تعداد کم اجرت اور کم پیداواری صلاحیت والے شعبوں میں تھی۔

پاکستان میں 2014 سے 2024 کے دوران سالانہ محنت کی پیداواری صلاحیت میں اوسط اضافہ صرف 0.4 فیصد رہا۔ عالمی بینک کے مطابق کم پیداواری صلاحیت اور مزدوروں کی آمدن میں کمی غربت کے مسئلے کو مزید سنگین بنا رہی ہے۔

معاشی ترقی اور مہنگائی کا تخمینہ

رپورٹ کے مطابق گزشتہ مالی سال پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار میں اضافے کی شرح 3.7 فیصد رہی، جبکہ رواں مالی سال معاشی ترقی کی شرح 3.8 فیصد رہنے کا امکان ہے۔

عالمی بینک نے رواں مالی سال مہنگائی کی اوسط شرح 8.2 فیصد رہنے کا تخمینہ بھی پیش کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق مالی سال 2027-2026 میں مہنگائی بلند سطح پر رہ سکتی ہے، جس سے عام شہریوں کی قوتِ خرید اور حقیقی آمدن متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

عالمی بینک کے اندازوں کے مطابق 2030-2031 تک درمیانی مدت میں پاکستان کی معاشی ترقی کی شرح 4.5 فیصد تک پہنچ سکتی ہے۔ تاہم، سالانہ 6 فیصد ترقی حاصل کرنے کے لیے تیز رفتار ساختی اصلاحات اور نجی شعبے کے ذریعے روزگار کے مواقع پیدا کرنا ضروری ہوگا۔

معیشت کو درپیش چار بڑے خطرات

عالمی بینک نے پاکستان کی معیشت کو درپیش چار بڑے خطرات کی نشاندہی کی ہے، جن میں مشرقِ وسطیٰ کا تنازع، ایل نینو، بیرونی مالی ضروریات اور مالی وسائل کی کمی شامل ہیں۔

رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری بحران پاکستان کے توانائی کے درآمدی بل میں 30 فیصد تک اضافے کا سبب بن سکتا ہے۔ اس صورت میں درآمدات، قرضوں کی ادائیگی اور بیرونی مالی ضروریات پر دباؤ بڑھنے کا خدشہ ہے۔

عالمی بینک کے مطابق پاکستان کو اپنی بیرونی مالی ضروریات پوری کرنے کے لیے سالانہ مجموعی قومی پیداوار کے 15 فیصد کے مساوی بیرونی مالی معاونت درکار ہوگی۔

معاشی اصلاحات کے لیے اہم سفارشات

عالمی بینک نے پاکستان میں معاشی ترقی کی رفتار تیز کرنے کے لیے توانائی کے شعبے میں اصلاحات، سرکاری خدمات کی فراہمی بہتر بنانے اور افرادی قوت کی فنی مہارتوں میں اضافے پر زور دیا ہے۔

رپورٹ میں کاروبار کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے، ٹیکس کے دائرے کو وسیع کرنے اور قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ پر عمل درآمد کی سفارش بھی کی گئی ہے۔ توانائی کے شعبے میں غیر ضروری سبسڈیز ختم کرنے کو بھی اہم قرار دیا گیا ہے۔

عالمی بینک کے مطابق بنیادی معاشی اصلاحات پر مؤثر عمل درآمد کے ذریعے پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار میں اضافے کی شرح 6.2 سے 6.9 فیصد تک پہنچ سکتی ہے۔ اس مقصد کے لیے نجی سرمایہ کاری، کاروباری سرگرمیوں اور پیداواری صلاحیت میں اضافہ ضروری ہوگا۔

ترسیلاتِ زر اور بیرونی مالی صورتحال

رپورٹ کے مطابق گزشتہ مالی سال بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے 41.6 ارب ڈالر کی ترسیلاتِ زر نے ملکی معیشت کو سہارا دیا، تاہم اسی عرصے میں تجارتی خسارہ 33.7 ارب ڈالر رہا۔

پاکستان نے چار سال میں پہلی مرتبہ 4 ارب ڈالر کے یورو بانڈز بھی جاری کیے۔ اس کے علاوہ 25 کروڑ ڈالر کے پانڈا بانڈ اور 75 کروڑ ڈالر اور 3 ارب ڈالر کے یورو بانڈز کے اجرا کا ذکر بھی رپورٹ میں کیا گیا ہے۔

عالمی بینک کے مطابق موڈیز اور ایس اینڈ پی کی جانب سے پاکستان کی درجہ بندی میں بہتری اور بانڈز کے اجرا سے بیرونی مالی دباؤ سے نمٹنے میں مدد ملی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کو 2050 تک بالائی متوسط آمدن والے ملک کا درجہ حاصل کرنے کے لیے معاشی اصلاحات پر عمل درآمد اور پائیدار ترقی کی بنیاد مضبوط بنانا ہوگی۔

urdureport.com@2025. All Rights Reserved

Your license hasn’t been activated yet. Activate it now!