اردوEnglish
ہفتہ, 24 اکتوبر 2026
  • Home  
  • لاہور زیادتی کیس: آذربائیجانی خاتون کو بیان بدلنے کے لیے 2 کروڑ روپے دینے کا الزام
- پاکستان

لاہور زیادتی کیس: آذربائیجانی خاتون کو بیان بدلنے کے لیے 2 کروڑ روپے دینے کا الزام

لاہور میں مبینہ اجتماعی زیادتی کیس میں پولیس ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ آذربائیجانی خاتون ڈیانا نے ملزمان کے حق میں بیان دینے کے لیے 2 کروڑ روپے وصول کیے۔ دوسری جانب ملزم احمد تنویر کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے۔

اردو رپورٹ ڈیسک

لاہور میں آذربائیجان سے تعلق رکھنے والی خاتون ڈیانا سے مبینہ اجتماعی زیادتی کے مقدمے میں نیا موڑ سامنے آیا ہے۔ پولیس ذرائع کا دعویٰ ہے کہ خاتون نے تین ملزمان کے خلاف الزامات سے منحرف ہونے اور ان کے حق میں بیان دینے کے لیے مبینہ طور پر 2 کروڑ روپے وصول کیے۔

ڈیانا نے ابتدائی طور پر تین مردوں پر اجتماعی زیادتی کا الزام عائد کیا تھا اور ضابطۂ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کرائے گئے بیان میں احمد تنویر کو بھی نامزد کیا تھا۔ تاہم جمعے کو سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیوز میں انہوں نے احمد تنویر کو بے قصور قرار دیتے ہوئے مقدمہ ختم کرنے کی اپیل کی۔

پولیس ذرائع کی جانب سے رقم کی ادائیگی سے متعلق کیے گئے دعووں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔

مبینہ رقم کی ادائیگی اور خاتون سے رابطے

پولیس ذرائع کے مطابق احمد تنویر کا تعلق ایک دولت مند اور بااثر خاندان سے ہے، جبکہ ان کے والد بڑے ٹھیکیدار ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ احمد تنویر کے رشتہ داروں اور وکیل نے خاتون سے فون پر رابطہ کیا تاکہ انہیں ملزم کے حق میں ویڈیو بیان دینے پر آمادہ کیا جا سکے۔

ذرائع کے مطابق ڈیانا کی رضامندی کے بعد احمد تنویر کے والد لندن سے آذربائیجان پہنچے۔ انہی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ رقم وصول کرنے کے بعد ڈیانا دبئی میں موجود ہیں۔

تاہم احمد تنویر کے وکیل صفدر شاہین نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ نہ کبھی آذربائیجان گئے، نہ ڈیانا سے ملاقات کی اور نہ ہی ان سے فون پر بات ہوئی۔ انہوں نے مقدمے میں کسی قسم کے مالی سمجھوتے سے بھی لاعلمی ظاہر کی۔

ویڈیوز میں ڈیانا کا مؤقف

جمعے کو سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں ڈیانا نے کہا کہ احمد تنویر نے نہ ان کے ساتھ زیادتی کی اور نہ ہی ان کے موبائل فون چھینے۔ انہوں نے اپنے سابقہ بیانات کو دباؤ کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے متعلقہ حکام سے مقدمے کی کارروائی ختم کرنے کی اپیل کی۔

ایک دوسری ویڈیو میں ڈیانا نے دعویٰ کیا کہ وہ خود عدالت میں پیش ہونا چاہتی تھیں، لیکن انہیں بتایا گیا کہ ان کی جان کو خطرہ ہے۔ ان کے مطابق انہیں زبردستی پاکستان سے بھیج دیا گیا۔

ڈیانا نے دیگر دو ملزمان محسن اور علی زین کو بھی معاف کرنے کا اعلان کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ معاملے کو مزید آگے نہیں بڑھانا چاہتیں اور ذاتی تنازعات میں ان کا نام استعمال نہ کیا جائے۔

مریم نواز کا مبینہ سمجھوتے پر ردعمل

ویڈیوز سامنے آنے کے بعد وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر ایک مقدمے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ملزم کے امیر خاندان کی جانب سے مبینہ طور پر خاتون کو الزامات واپس لینے کے لیے ڈیڑھ کروڑ سے 2 کروڑ روپے تک کی پیشکش کی گئی، حالانکہ ان کا بیان ضابطۂ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت پہلے ہی ریکارڈ کیا جا چکا تھا۔

مریم نواز نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ ملزم کو ضمانت دینے والے جج کو رشوت دی گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر یہ الزامات درست ہیں تو اس سے نظامِ انصاف کی ساکھ اور جنسی تشدد کے مقدمات میں متاثرین پر مالی دباؤ ڈالنے کے حوالے سے سنگین سوالات پیدا ہوتے ہیں۔

وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ وہ ایسے مقدمات پر نظر رکھیں گی تاکہ کوئی بھی ملزم دولت، اثرورسوخ یا تعلقات کی بنیاد پر انصاف سے نہ بچ سکے۔ انہوں نے زور دیا کہ انصاف فروخت نہیں ہونا چاہیے اور کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں ہے۔

احمد تنویر 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل منتقل

دوسری جانب لاہور کی مقامی عدالت نے ہفتے کے روز مقدمے میں گرفتار ملزم احمد تنویر کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔

عدالت نے پولیس کو ملزم کا طبی معائنہ کرانے اور شناخت پریڈ کا عمل مکمل کرنے کی ہدایت بھی کی۔ جوڈیشل مجسٹریٹ احمد سعید صائم نے پولیس کی درخواست پر محفوظ فیصلہ سنایا۔

سماعت کے دوران ملزم کے وکیل صفدر شاہین پیرزادہ نے پولیس کی درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے الزام لگایا کہ ان کے مؤکل کو رات بھر تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

وکیل نے ملزم کا مکمل طبی معائنہ کرانے کی استدعا کی۔ عدالت نے احمد تنویر سے پوچھا کہ کیا ان پر تشدد کیا گیا اور کیا وہ طبی معائنہ کرانا چاہتے ہیں۔ ملزم نے جواب دیا کہ ان پر تشدد ہوا ہے اور وہ طبی معائنہ کرانا چاہتے ہیں۔

دفاعی وکیل نے یہ مؤقف بھی اختیار کیا کہ پولیس ایک پرانے واقعے کو نئے واقعے کے طور پر پیش کر رہی ہے اور احمد تنویر اس مقدمے میں پہلے ہی ضمانت حاصل کر چکے ہیں۔ احمد تنویر کے خلاف تھانہ اچھرہ میں مقدمہ درج ہے۔

مبینہ اجتماعی زیادتی کیس کا پس منظر

ڈیانا ستمبر کے آخری ہفتے میں منظرعام پر آئی تھیں اور انہوں نے لاہور میں اجتماعی زیادتی کا نشانہ بننے کا الزام عائد کیا تھا۔

تھانہ ڈیفنس سی میں درج مقدمے کے مطابق خاتون نے دو خواتین مسکان اور نمرہ، جبکہ تین مردوں محسن، احمد تنویر اور علی زین پر الزام لگایا تھا کہ انہوں نے مبینہ طور پر انہیں نشہ آور چیز پلانے کے بعد اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا۔

خاتون کے مطابق ملزمان ان کا سامان اور موبائل فون چھیننے کے بعد انہیں ہوائی اڈے کے قریب چھوڑ کر فرار ہو گئے تھے۔

مقدمہ درج ہونے کے بعد پولیس نے جائے وقوعہ سے فرانزک شواہد اور ڈی این اے کے نمونے جمع کیے۔ مبینہ طور پر واقعے میں استعمال ہونے والی گاڑی بھی برآمد کی گئی، جبکہ مرکزی ملزم محسن سمیت متعدد افراد کو حراست میں لیا گیا۔

دیگر ملزمان کے بیانات

عدالتی کارروائی کے دوران ملزمہ مسکان نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ ان کی ڈیانا سے ملاقات ایک پارٹی میں ہوئی تھی۔ ان کے مطابق ڈیانا نے وہاں ان کے اور نمرہ کے ساتھ موبائل نمبروں کا تبادلہ کیا اور انہیں مختلف پارٹیوں میں مدعو کرنے کی پیشکش کی۔

مقدمے کے مرکزی ملزم محسن نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ ان کی ڈیانا سے پہلی ملاقات 25 ستمبر کو ایک نجی رہائشی سوسائٹی میں ہوئی تھی۔

ایک اور ملزم علی نے دعویٰ کیا تھا کہ ڈیفنس کے ایک فلیٹ میں پارٹی کے دوران ڈیانا اپنا ضبط کھو بیٹھی تھیں۔ اس کے مطابق غازی روڈ پہنچنے پر ڈیانا نے گاڑی میں ہاتھا پائی شروع کردی اور بعدازاں زبردستی گاڑی سے اتر گئیں۔

تفتیش میں مبینہ تضادات اور آذربائیجان واپسی

بعدازاں اطلاعات سامنے آئیں کہ پولیس تفتیش کے دوران ڈیانا کی سفری تفصیلات اور ان کے بعض بیانات میں تضادات پائے گئے۔

پاکستان میں ان کی موجودگی، ایک پاکستانی نوجوان سے مبینہ شادی اور عروسی لباس میں ان کی ویڈیو سے متعلق خبریں بھی سامنے آئی تھیں۔

رواں ماہ کے آغاز میں لاہور پولیس کی نگرانی میں ڈیانا کو واپس آذربائیجان روانہ کر دیا گیا تھا۔

مقدمے میں رقم کی مبینہ ادائیگی، الزامات سے انحراف اور رشوت سے متعلق دعووں نے معاملے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ تاہم مالی سمجھوتے اور رشوت کے الزامات تاحال ثابت نہیں ہوئے۔

urdureport.com@2025. All Rights Reserved

Your license hasn’t been activated yet. Activate it now!