اردوEnglish
ہفتہ, 24 اکتوبر 2026
  • Home  
  • نئی آٹو پالیسی: الیکٹرک گاڑیوں کے لیے 85 ارب روپے کے سیلز ٹیکس ریلیف کی تجویز
- کار پرائس

نئی آٹو پالیسی: الیکٹرک گاڑیوں کے لیے 85 ارب روپے کے سیلز ٹیکس ریلیف کی تجویز

پاکستان کی مجوزہ نئی آٹو پالیسی میں الیکٹرک گاڑیوں پر سیلز ٹیکس ایک فیصد کرنے کی تجویز ہے، جس سے 85 ارب روپے کا ریلیف مل سکتا ہے۔ تاہم، اقدامات کا نفاذ آئی ایم ایف کی منظوری سے مشروط ہوگا۔

اردو رپورٹ ڈیسک

پاکستان کی نئی مجوزہ آٹو پالیسی میں الیکٹرک گاڑیوں کے لیے 85 ارب روپے کے سیلز ٹیکس ریلیف کی تجویز زیر غور ہے۔ اس ریلیف سے ہونے والی ممکنہ ٹیکس آمدن کی کمی پوری کرنے کے لیے حکومت متبادل محصولات حاصل کرنے کے اقدامات پر غور کر رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق 75 ہزار ڈالر تک مالیت کی الیکٹرک گاڑیوں پر سیلز ٹیکس ایک فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ تاہم، بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے الیکٹرک گاڑیوں پر سیلز ٹیکس کی شرح ایک فیصد سے بڑھا کر 18 فیصد کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

مجوزہ اقدامات تاحال زیر غور ہیں اور ان پر عمل درآمد آئی ایم ایف کی منظوری سے مشروط ہوگا۔

پیٹرول گاڑیوں پر آٹوموٹیو ڈیولپمنٹ لیوی کی تجویز

مجوزہ آٹو پالیسی میں پیٹرول اور دیگر اندرونی احتراق والے انجن کی گاڑیوں پر آٹوموٹیو ڈیولپمنٹ لیوی عائد کرنے کی تجویز بھی شامل ہے۔ اس کا اطلاق مقامی طور پر تیار ہونے والی اور درآمد کی جانے والی گاڑیوں پر ہو سکتا ہے۔

تجویز کے مطابق ایک ہزار ایک سی سی سے 2 ہزار سی سی تک انجن کی حامل گاڑیوں پر 2 فیصد لیوی عائد کی جا سکتی ہے، جبکہ 2 ہزار ایک سی سی یا اس سے زیادہ انجن والی گاڑیوں پر 10 فیصد لیوی لگانے کی تجویز ہے۔

ان اقدامات کا مقصد الیکٹرک گاڑیوں کے لیے مجوزہ ٹیکس ریلیف کے باعث ہونے والی ممکنہ آمدن کی کمی کو پورا کرنا ہے۔

مہنگی الیکٹرک گاڑیوں پر 10 فیصد ڈیوٹی زیر غور

ذرائع کے مطابق 2 کروڑ روپے سے زائد مالیت کی الیکٹرک گاڑیوں پر 10 فیصد وفاقی ایکسائز ڈیوٹی عائد کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔

مجوزہ پالیسی کے تحت پیٹرول، ڈیزل اور دیگر اندرونی احتراق والے انجن کی گاڑیوں پر کاربن لیوی برقرار رکھنے کا بھی امکان ہے۔

مختلف لیویز سے کتنی آمدن متوقع ہے؟

مجوزہ منصوبے کے تحت پیٹرول اور ڈیزل گاڑیوں پر کاربن لیوی سے 25 ارب روپے حاصل ہونے کا تخمینہ ہے، جبکہ مجموعی لیویز سے 37 ارب روپے کی آمدن متوقع ہے۔

ذرائع کے مطابق بسوں اور ٹرکوں پر آٹوموٹیو ڈیولپمنٹ لیوی کے ذریعے مزید 45 ارب روپے حاصل ہونے کا اندازہ لگایا گیا ہے۔

یہ اقدامات الیکٹرک گاڑیوں کے لیے مجوزہ 85 ارب روپے کے سیلز ٹیکس ریلیف کے متبادل کے طور پر آمدن حاصل کرنے کے منصوبے کا حصہ ہوں گے۔

فنانس بل میں ترمیم کا امکان

ذرائع کا کہنا ہے کہ مجوزہ اقدامات کو حتمی شکل دینے کے لیے فنانس بل میں ترامیم بھی متعارف کرائی جا سکتی ہیں۔

تاہم، نئی آٹو پالیسی کی تجاویز ابھی منظور نہیں ہوئیں۔ ان پر عمل درآمد اور حتمی فیصلے کا انحصار آئی ایم ایف کی منظوری پر ہوگا۔

urdureport.com@2025. All Rights Reserved

Your license hasn’t been activated yet. Activate it now!