اردو رپورٹ ڈیسک
پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کو پہلی بار بوئنگ 787 طیارہ پاکستان میں چلانے کی اجازت مل گئی ہے۔ ہوا بازی کے حکام نے ناروے کے شہر اوسلو کے ہوائی اڈے پر طیارے کا معائنہ مکمل کرنے کے بعد اس کے آپریشن کی منظوری دی۔
تفصیلات کے مطابق سول ایوی ایشن اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل نادر شفیع ڈار کی سربراہی میں ایک وفد نے طیارے کا معائنہ کیا اور اسے آپریشن کے لیے کلیئر قرار دیا۔
مزید دو طیاروں کا معائنہ ہوگا
پی آئی اے کے دوسرے بوئنگ 787 طیارے کا معائنہ پیر کو اوسلو ایئرپورٹ پر کیا جائے گا، جبکہ تیسرے طیارے کا معائنہ 20 نومبر کو لندن ایئرپورٹ پر شیڈول ہے۔
رواں ماہ کے آغاز میں پی آئی اے نے ناروے کے ہوا بازی کے گروپ نورس اٹلانٹک کے ساتھ دو بوئنگ 787-9 ڈریم لائنر طیاروں کے حصول کا معاہدہ کیا تھا۔ اس اقدام کا مقصد پاکستان اور برطانیہ کے درمیان طویل فاصلے کی پروازوں کی گنجائش بڑھانا ہے۔
پہلی پرواز 31 اکتوبر کو روانہ ہوگی
پی آئی اے بوئنگ 787 طیارے کے ذریعے اپنی پہلی پرواز 31 اکتوبر کو چلائے گی۔ پرواز پی کے 786 لندن سے اسلام آباد کے لیے روانہ ہوگی اور مسافروں کو لے کر یکم نومبر کو اسلام آباد پہنچنے کی توقع ہے۔
نئے طیارے کے آپریشن کے آغاز کے موقع پر پی آئی اے اپنے عملے کے لیے نئی وردی بھی متعارف کرائے گی۔
بین الاقوامی پروازوں کے نیٹ ورک میں توسیع
رپورٹس کے مطابق تین بوئنگ 787 طیاروں کی شمولیت سے پی آئی اے کے بین الاقوامی پروازوں کے نیٹ ورک کو مضبوط بنانے اور مسافروں کو بہتر سہولتیں فراہم کرنے میں مدد ملنے کی توقع ہے۔
ایئرلائن اپنے بوئنگ 777 طیاروں کے کیبنز کو جدید بنانے پر بھی کام کر رہی ہے تاکہ طویل فاصلے کے سفر کے دوران مسافروں کے تجربے کو بہتر بنایا جا سکے۔

