جمعیت علماء اسلام (جے یو آئی) اور تحریک انصاف میں محمود اچکزئی کی بطور اپوزیشن لیڈر نامزدگی پر اتفاق ہوگیا جبکہ دوسری جانب پارلیمانی ذرائع کے مطابق محمود خان اچکزئی کی عدلیہ اور افواج مخالف تقاریر اپوزیشن لیڈر کی تقرری میں رکاوٹ بن سکتا ہے جس کا سپیکر نے ریکارڈ منگوا لیا ہے۔
مولانا فضل الرحمان سے پی ٹی آئی وفد نے ملاقات کی، اس موقع پر جے یو آئی سربراہ نے پارلیمنٹ میں اپوزیشن کو متحد کرنے کےلیے کردار ادا کرنے کی اپیل کی۔اس دوران پی ٹی آئی نے خیبر پختونخوا میں امن و امان سے متعلق قومی جرگے پر بھی مشاورت کی، مولانا فضل الرحمان نے جرگے کی تجویز کا خیر مقدم کیا۔
پارلیمانی ذرائع کے مطابق محمود خان اچکزئی کی عدلیہ اور افواج مخالف تقاریر اپوزیشن لیڈر کی تقرری میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے محمود اچکزئی کی ایوان میں تقاریر کا ریکارڈ منگوا لیا۔ محمود اچکزئی کی عدلیہ اور افواج مخالف تقاریر کا قانونی جائزہ جاری ہے۔ آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 کی روشنی میں تقاریر کا جائزہ لیا جارہا ہے۔
ذرائع کے مطابق ایوان میں افواج یا اعلیٰ عدلیہ پر تنقید خلاف آئین تصور کی جاتی ہے، تقاریر کا مواد اپوزیشن لیڈر کی تقرری میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔
یہ پڑھئیے
2024 کا مینڈٹ چوری کا ہوا ، اسلام آباد جانے کی تیاری کر یں۔مولانا فضل الرحمن – urdureport.com


