عمران خان کی بینائی پندرہ فیصد رہ جانے کی اطلاعات کے بعد جمعے کی شام پارلیمان ہاؤس کی سیڑھیوں پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ارکان نے دھرنا دیا۔
اسلام آباد پولیس کا خیبرپختونخواہ ہاوس کے سامنے پر امن پارلیمنٹیرینز پر تشدد اور لاٹھی چارج۔۔
اس وقت پارلیمنٹ لاجز میں موجود ایم این ایز کا اسلام آباد پولیس نے گھیراو کیا ہوا ہے جبکہ دوسری طرف نیشنل اسمبلی میں بھی ایم این ایز کو نظر بند کیا ہوا ہے۔۔
پاکستان پر اس وقت وہ ٹولہ… pic.twitter.com/drBVvTh2BX
— Shahid Khattak (@ShahidkhattakSk) February 13, 2026
اس موقع پر ریڈ زون کو سیل کر دیا گیا، بکتر بند گاڑیاں تعینات کی گئیں اور پولیس کی بھاری نفری نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔
سینیٹ میں قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی نے مطالبہ کیا کہ عمران خان کو شفاہ ہسپتال منتقل کر کے ان کی مرضی کے ڈاکٹروں سے علاج کروایا جائے، بصورت دیگر احتجاج جاری رکھا جائے گا۔
سوشل میڈیا پر ردعمل اور عوامی تقسیم
سوشل میڈیا پر عمران خان کے حامی ان کی صحت کے حوالے سے شدید تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔ ایک صارف نے لکھا کہ جو شخص ہر پاکستانی کو مفت علاج کی سہولت دینے کا دعویدار تھا، وہ خود اپنے علاج سے محروم ہے۔
اس معاملے پر عوامی حلقوں میں دو مختلف آراء سامنے آ رہی ہیں۔
ایک طبقے کا خیال ہے کہ جیسے نواز شریف نے عدالتی ریلیف حاصل کیا تھا، ویسے ہی عمران خان کی بیماری کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے تاکہ ان کو بیرون ملک بھجوایا جاسکے۔
جبکہ دوسرا طبقہ سمجھتا ہے کہ عمران خان کی صحت کو واقعی سنگین خطرات لاحق ہیں اور انہیں معیاری طبی سہولتیں فراہم نہیں کی جا رہیں۔
اس طبقے کا خیال ہے کہ عمران خان کسی بھی صورت ڈیل کر کے با ہر نہیں جایں گے۔
کیا قانونی طور پر رہائی ممکن ہے؟
سینئر تجزیہ کاروں کے مطابق اگر عمران خان کو کچھ ہوا تو اس کے ملکی سیاست پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ قانونی ماہرین کے مطابق کسی عضو کے ضائع ہونے کا خدشہ ضمانت کی بنیاد بن سکتا ہے، تاہم موجودہ صورتحال ابھی مکمل طور پر واضح نہیں۔
عمران خان کے مخالف حلقے انہیں بیماری کی بنیاد پر باہر بھیجنے کا رسک شاید نہ لیں، کیونکہ اگر بیماری کی بنیاد پر ریلیف ملا تو اس سے ان کی سیاسی ساکھ متاثر ہو سکتی ہے۔
حکومتی مؤقف اور الزامات
حکومتی وزراء کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی اس معاملے پر سیاست کر رہی ہے۔ ان کے مطابق عمران خان کو قانون کے مطابق طبی سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں۔
تاہم بعض وزراء نے یہ بھی کہا ہے کہ اگر علاج میں کسی قسم کی غفلت ثابت ہوئی تو ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
ذمہ داری کا سوال
عمران خان کے قریبی عزیز اور تجزیہ کار حفیظ اللہ نیازی نے کہا کہ اگر عمران خان کو کچھ ہوا تو اس کی ذمہ داری حکومت اور اسٹیبلشمنٹ دونوں پر عائد ہو گی، کیونکہ وہ ملک کے مقبول ترین سیاسی رہنماؤں میں شمار ہوتے ہیں۔
ایک سابق جیل سپرنٹنڈنٹ مطابق عام حالات میں جیلوں میں ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل اسٹاف موجود ہوتا ہے، ایمرجنسی کی صورت میں آئی جی جیل خانہ جات کی منظوری سے قیدیوں کو بیرونِ جیل علاج کی سہولت دی جا سکتی ہے۔
طبی پہلو: آنکھوں کی بیماری کیا ہے؟
عمران خان کی آنکھوں کو خون اور آکسیجن فراہم کرنے والی رگوں میں رکاوٹ پیدا ہو چکی ہے۔ اگر اس بیماری کا بروقت اور مناسب علاج نہ کیا جائے تو بینائی ضائع ہونے کا خطرہ موجود ہوتا ہے۔
گزشتہ ماہ پی ٹی آئی نے دعویٰ کیا تھا کہ عمران خان کی دائیں آنکھ میں سینٹرل ریٹینل وین آکلوژن کی تشخیص ہوئی ہے، جو ایک سنگین بیماری ہے۔
بعد ازاں اسلام آباد کے پمز ہسپتال نے بھی تصدیق کی کہ سابق وزیر اعظم کو دائیں آنکھ کی بینائی کمزور ہونے پر آپریشن تھیٹر میں طبی علاج فراہم کیا گیا۔
ڈاکٹرز کے مطابق اس بیماری کے درست تجزیے کے لیے مکمل ٹیسٹ اور رپورٹوں کا اجراء ضروری ہے، ورنہ قیاس آرائیاں جاری رہیں گی۔
یہ بھی پڑھئیے

