پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی لمیٹڈ (پی ٹی سی ایل) کو بڑھتے ہوئے مالی دباؤ، بھاری قرضوں اور سخت مسابقتی ماحول کے باعث سنگین چیلنجز کا سامنا ہے۔
سرکاری اداروں کی مالی سال 2025 کی سالانہ مجموعی رپورٹ کے مطابق کمپنی نے گزشتہ مالی سال میں 10.462 ارب روپے کا خالص نقصان ریکارڈ کیا، جس کے بعد اس کے مجموعی جمع شدہ نقصانات بڑھ کر 50.150 ارب روپے تک پہنچ گئے ہیں۔
رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ پی ٹی سی ایل کی مالی پوزیشن پر سب سے بڑا خطرہ اس کا بڑھتا ہوا قرض اور اس سے جڑی فنانسنگ لاگت ہے۔
مالی سال 2025 کے دوران کمپنی کو 36.55 ارب روپے کی فنانس لاگت برداشت کرنا پڑی، جو اس کے 20.1 ارب روپے کے آپریٹنگ منافع سے تقریباً دگنی ہے۔
رپورٹ کے مطابق اگر شرح سود میں مزید اضافہ ہوا یا آپریشنل کیش فلو متاثر ہوا تو کمپنی کی مالی بقا (سالوینسی) کو سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
پی ٹی سی ایل کی رسک پروفائل میں ایک اہم عنصر ٹیلی نار کے 400 ملین ڈالر کے حصول کا معاہدہ بھی ہے، جسے انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن (آئی ایف سی) سے حاصل کردہ ڈالر قرض کے ذریعے فنڈ کیا گیا۔
چونکہ کمپنی کی آمدنی زیادہ تر پاکستانی روپے میں ہے جبکہ قرض امریکی ڈالر میں ہے، اس لیے روپے کی قدر میں کمی قرض کی ادائیگی کو مزید مہنگا بنا سکتی ہے۔
رپورٹ میں اس پہلو کی بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ اگر کمپنی ڈالر قرض کی بروقت ادائیگی نہ کر سکی تو حکومت کی اکثریتی شیئر ہولڈنگ کے باعث یہ بوجھ بالواسطہ طور پر وفاقی خزانے پر منتقل ہو سکتا ہے۔
مارکیٹ کے حوالے سے پی ٹی سی ایل کو اب مکمل مسابقتی ماحول کا سامنا ہے۔ ماضی کی اجارہ داری ختم ہو چکی ہے اور نجی شعبے کی مضبوط کمپنیوں سے مقابلہ جاری ہے۔
بحالی کے لیے سینٹرل مانیٹرنگ یونٹ (سی ایم یو) نے متعدد اقدامات تجویز کیے ہیں، جن میں غیر استعمال شدہ اثاثوں کی فروخت، قرض کی ری اسٹرکچرنگ اور کرنسی ہیجنگ شامل ہیں تاکہ شرح مبادلہ کے اتار چڑھاؤ کے اثرات کو کم کیا جا سکے۔
ماہرین کے مطابق شفاف مالی حکمت عملی، اخراجات میں نظم و ضبط اور قرض کے بوجھ میں کمی کے بغیر پی ٹی سی ایل کی منافع بخش بحالی ایک مشکل مرحلہ ثابت ہو سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھئیے


