امریکا کے حملوں میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللّٰہ علی خامنہ ای شہید ہوگئے۔ ایران کے سرکاری میڈیا نے آیت اللّٰہ کی شہادت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران بھر میں 7 روزہ تعطیل اور 40 روز کے سوگ کا اعلان کیا گیا ہے۔
ایران کی سرکاری میڈیا کا کہنا ہے کہ امریکا اور اس رائ یل کے ان حملوں میں ایران کے سپریم لیڈر کی بیٹی، داماد اور نواسی بھی شہید ہوئے ہیں۔
غیر ملکی میڈیا کا کہنا ہے کہ ایران کے سپریم لیڈر اپنے ساتھیوں کے ہمراہ زیر زمین بینکر میں تھے، آیت اللّٰہ علی خامنہ ای کے کمپاؤنڈ پر 30 بم گرائے گئے۔
ایرانی سپریم لیڈر درجنوں ساتھیوں سمیت مارے گئے۔
#BREAKING
People in Iran mourn following the official announcement of the martyrdom of Grand Ayatollah Imam Khamenei. pic.twitter.com/LkuovUVitR— Tehran Times (@TehranTimes79) March 1, 2026
قبل ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللّٰہ علی خامنہ ای مارے جاچکے ہیں۔
اپنے سوشل میڈیا بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ ایران کے آیت اللّٰہ خامنہ ای کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔ ایرانی عوام کے لیے اپنا ملک واپس لینے کا واحد سب سے بڑا موقع ہے۔
انہوں نے کہا کہ خامنہ ای کی موت نہ صرف ایرانی عوام بلکہ دنیا کے لیے انصاف ہے، اہداف کے حصول تک ایران پر شدید بمباری جاری رہے گی۔
امریکی صدر نے کہا کہ خامنہ ای ہمارے انٹیلیجنس اور ٹریکنگ سسٹم کو مات نہیں دے سکتے تھے، ہمارے اور اس رائی ل کے مشترکہ کھوج کے سامنے وہ اور اسکے ساتھی کچھ نہیں کرسکتے تھے
جبکہ ایرانی نیوز ایجنسی نے صدر ٹرمپ کے دعوے کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ ان کا آیت اللہ خامنہ ائی کی شہادت کا دعویٰ درست نہیں
اس رائی یلی وزیر اعظم ن یت ن یاہ و کے اس بیان کے بعد کہ قوی امکان ہے کہ ایرانی رہبر اعلیٰ اب نہیں رہے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز نے سینیئر حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی میت مل چکی ہے تاہم بی بی سی کا کہنا ہے کہ ابھی تک بی بی سی اس دعوے کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کر سکا۔
خبر رساں ادارے ایگزیؤس نے ایک ذریعے کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ میں اس رائ یل کے سفیر نے امریکی حکام کو مطلع کیا ہے کہ خامنہ ای سنیچر کی صبح ان کے دفتر کے کمپاؤنڈ پر ہونے والے حملے میں ہلاک ہوئے ہیں۔
اسی طرح متعدد ذرائع ابلاغ نے بھی حکام کے حوالے سے خامنہ ای کی ہلاکت کی خبر نشر کی ہے۔


