ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کی خبر کے بعد کراچی کے مختلف علاقوں میں احتجاجی مظاہرے شروع ہو گئے۔
اس موقع پر فائرنگ اور اموات کی اطلاعات بھی موصول ہو رہی ہیں۔
کراچی میں مظاہرین نے توڑ پھوڑ کرتے ہوئے امریکی کونسل خانے کو آگ لگا دی۔پاکستان میں گلگت بلتستان اور دیگر جبہوں پر بھی لوگ گھروں سے باہر نکل آئے۔
کراچی میں مظاہرے امریکی قونصل خانے میں آگ لگا دی pic.twitter.com/lSIgejtCHf
— Urdu Report (@UrduReportpk) March 1, 2026
جبکہ ایران کے مختلف شہروں میں لوگ بڑے پیمانے پر گھروں سے نکل آئے اور امریکی کے خلاف نعرے بازی اور احتجاج جاری ہے۔
Large crowd of people in Isfahan hit streets to mourn Leader of Islamic Revolution martyrdom pic.twitter.com/wpofOyCJgu
— Press TV 🔻 (@PressTV) March 1, 2026
کراچی شہر کے اہم مقامات نمائش چورنگی، عباس ٹاؤن اور ٹاور پر بڑی تعداد میں مظاہرین جمع ہوئے اور سڑکوں پر نعرے بازی کی۔ بعد ازاں کچھ مظاہرین امریکی قونصل خانہ کراچی کی جانب بڑھ گئے جہاں پہلے سے سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔
🚨🇺🇸🇵🇰 Protesters stormed the entrance area of the U.S Consulate in Karachi, Pakistan, setting fire to the guardhouse.pic.twitter.com/ZQoN3wkzVU https://t.co/BVXySzu92c
— Mario Nawfal (@MarioNawfal) March 1, 2026
عینی شاہدین کے مطابق قونصل خانے کے اطراف کشیدگی دیکھنے میں آئی اور بعض افراد کی جانب سے پتھراؤ کی اطلاعات سامنے آئیں۔ کچھ غیر مصدقہ رپورٹس میں فائرنگ کا بھی ذکر کیا گیا ہے، تاہم سرکاری سطح پر اس کی تصدیق نہیں کی گئی۔
🚨🇮🇷 Iranian state media confirmed that Chief of Staff of the Iranian Armed Forces, Abdolrahim Mousavi, has been killed.
He assumed the position following the assassination of his predecessor, Mohammad Bagheri, during the June 2025 Israeli strikes on Iran.
Source: Clash Report https://t.co/WuSImRNnZJ pic.twitter.com/LKQk09eDXC
— Mario Nawfal (@MarioNawfal) March 1, 2026
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ مظاہرین کو منتشر کرنے کی کوشش جاری ہے اور صورتحال کو قابو میں رکھنے کے لیے اضافی نفری طلب کر لی گئی ہے۔ انتظامیہ نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ پرامن رہیں، قانون ہاتھ میں نہ لیں اور افواہوں پر توجہ نہ دیں۔
جبکہ اطلاعات آرہی ہیں کہ سکردو میں عوام نے اقوام متحدہ کے دفتر کو آگ لگا دی ہے۔
حکام کے مطابق شہر کے مختلف علاقوں میں حالات پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے اور امن و امان برقرار رکھنے کے لیے ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھئِے


