گلگت بلتستان میں پُرتشدد مظاہروں کے بعد گلگت اور سکردو کے اضلاع میں آئندہ تین روز کے لیے کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے جبکہ صورتحال کو قابو میں رکھنے کے لیے فوج کو بھی طلب کر لیا گیا ہے۔
اتوار کی علی الصبح ایران کی جانب سے سید علی خامنہ ای کی ہلاکت کی تصدیق کے بعد پاکستان کے مختلف شہروں اور گلگت بلتستان میں بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوا۔ مظاہرین کی جانب سے ملک میں قائم امریکی قونصل خانوں اور سفارتخانے کی جانب مارچ کرنے کی کوشش کی گئی جس کے دوران پولیس، رینجرز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں سے جھڑپیں ہوئیں۔
ہلاکتیں اور زخمی
قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ جھڑپوں کے نتیجے میں اب تک کم از کم 23 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے۔
- کراچی میں 10 افراد
- اسلام آباد میں 3 افراد
- گلگت میں 5 افراد
- سکردو میں 5 افراد
گلگت میں سینیئر پولیس اور محکمہ صحت کے حکام نے پانچ ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے تاہم مقامی شیعہ نمائندہ تنظیموں کا کہنا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد سات ہے اور ان افراد کی اجتماعی نماز جنازہ آج ادا کی جائے گی۔
پرتشدد مظاہروں کے دوران پولیس اہلکاروں سمیت درجنوں افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔
حکومتی ردعمل
حکومتِ پاکستان نے سید علی خامنہ ای کی ہلاکت کی مذمت کرتے ہوئے شہریوں سے پُرامن رہنے کی اپیل کی ہے۔ کئی شہروں میں دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے جس کے تحت پانچ یا اس سے زائد افراد کے اجتماع پر پابندی عائد ہے۔
حکام کے مطابق مظاہرین کو حساس مقامات سے دور رکھنے کے لیے آنسو گیس، ربڑ کی گولیوں اور ہوائی فائرنگ کا استعمال کیا گیا۔
حکام کا کہنا ہے کہ صورتحال پر قابو پانے کے لیے اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے جبکہ گلگت اور سکردو میں کرفیو کے دوران غیر ضروری نقل و حرکت پر مکمل پابندی ہوگی۔
یہ بھی پڑھئیے


