غیر ملکی میڈیا کی جانب سے مجتبیٰ خامنہ ای کو ایران کا سپریم لیڈر منتخب کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔تاہم ایران کے سرکاری حکام نے ابھی تک اس کی تصدیق نہیں کی۔
اس سے پہلے میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ اٹھاسی رکنی مجلس خبرگان رهبری نئے سپریم لیڈر کا انتخاب آن لائن کررہی ہے اور یہ معاملہ حتمی مرحلے میں داخل ہوچکا ہے۔

مجلس خبرگان رهبری کی قم میں واقع عمارت کو امریکا نے حملے کرکے تباہ کردیا تھا تاہم عمارت پہلے ہی خالی کرالی گئی تھی اس لیے جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔
دوسری جانب ایرانی سپریم لیڈر آیت اللّٰہ خامنہ ای کی تدفین تہران میں بڑے تعزیتی اجتماع کے بعد مشہد میں ہوگی۔
ایرانی خبر ایجنسی کے مطابق آیت اللّٰہ علی خامنہ ای کی تدفین کا تہران میں تعزیتی اجتماع امام خمینی ہال تہران میں ہوگا، سپریم لیڈر کی مشہد میں تدفین کےدن کا تعین نہیں کیا گیا۔
واضح رہے کہ ایران کے سپریم لیڈر کے انتخاب کا عمل ’مجلسِ خبرگان‘ یعنی ’اسمبلی آف ایکسپرٹس‘ کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔
یہ مجلس 88 جید علمائے دین اور فقہا پر مشتمل ہوتی ہے، جن کا انتخاب ہر 8 سال بعد براہِ راست عوامی ووٹوں کے ذریعے کیا جاتا ہے
یہ بھی پڑھئِے


