اردو رپورٹ ڈیسک
آسٹریلیا کے سات سابق کرکٹ کپتانوں نے اپنی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سابق پاکستانی وزیرِاعظم اور کرکٹ لیجنڈ عمران خان کے جیل میں مبینہ سلوک پر پاکستانی حکام سے بات کرے۔
آسٹریلوی نیوز ویب سائٹ کوڈ اسپورٹس کے مطابق یہ خط سابق آسٹریلوی کپتان گریگ چیپل کی قیادت میں وزیرِ خارجہ پینی وونگ کے نام لکھا گیا ہے۔
خط پر سابق آسٹریلوی کپتانوں مارک ٹیلر، اسٹیو وا، این چیپل، کم ہیوز اور ایلن بارڈر کے دستخط بھی موجود ہیں، جبکہ آسٹریلیا کی خواتین کرکٹ ٹیم کی سابق کپتان بیلیندا کلارک نے بھی اس اپیل کی حمایت کی ہے۔
سابق کپتانوں نے عمران خان کی حراست کو ’’بنیادی انسانی ہمدردی کا معاملہ‘‘ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ یہ خط سفارت کاروں یا سیاسی شخصیات کی حیثیت سے نہیں بلکہ سابق کپتانوں کی حیثیت سے لکھ رہے ہیں، جو اس معاملے پر آواز اٹھانے پر مجبور ہوئے۔
طبی سہولیات کی فراہمی کا مطالبہ
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب گزشتہ ماہ دنیا کے 21 سابق کرکٹ کپتانوں نے وزیراعظم شہباز شریف کے نام خط لکھ کر عمران خان کو آزاد طبی ماہرین سے علاج کرانے اور جیل میں مناسب سہولیات فراہم کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔
اس سے قبل فروری 2026 میں آسٹریلیا، انگلینڈ، بھارت اور دیگر ممالک کے 14 سابق کپتانوں نے بھی اسی نوعیت کی اپیل کی تھی۔
آسٹریلوی اخبار دی سڈنی مارننگ ہیرلڈ کے مطابق آسٹریلوی وزیرِ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ آسٹریلیا پاکستان کے ساتھ ہونے والی بات چیت میں عمران خان کا معاملہ باقاعدگی سے اٹھاتا ہے۔
ترجمان کے مطابق آسٹریلوی حکام نے متعلقہ اداروں پر زور دیا ہے کہ عمران خان کو مناسب طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔
سابق کپتانوں کے تین مطالبات
تازہ خط میں عمران خان کو اسپتال منتقل کرنے سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد، اہلِ خانہ سے ہفتہ وار ملاقات کی اجازت اور آزادانہ طبی معائنے کی بنیاد پر فوری علاج شروع کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
سابق کپتانوں نے کہا کہ وہ عمران خان کے سابق ساتھیوں کی حیثیت سے خط لکھ رہے ہیں، جنہوں نے کرکٹ کے میدان میں ان کے ساتھ وقت گزارا۔ ان کے مطابق کرکٹ ایسا کھیل ہے جو سرحدوں اور سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر لوگوں کو ایک دوسرے سے جوڑتا ہے۔
خط میں کہا گیا کہ سپریم کورٹ نے عمران خان کے طبی معائنے کے لیے ایک آزاد میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کا حکم دیا تھا، تاہم سابق کپتانوں کے مطابق اطلاعات ہیں کہ عدالتی ہدایات کے برخلاف سرکاری ڈاکٹروں کی ٹیم نے ان کا معائنہ کرکے انہیں صحت مند قرار دیا۔
سابق کپتانوں نے مطالبہ کیا کہ سپریم کورٹ کی ہدایت پر قائم میڈیکل بورڈ کو عمران خان کی صحت، خصوصاً ان کی دائیں آنکھ کی بینائی متاثر ہونے سے متعلق اطلاعات کا مکمل اور آزادانہ جائزہ لینے کی اجازت دی جائے۔
انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ عمران خان کو ہر ہفتے اہلِ خانہ سے ملاقات کی اجازت دی جائے اور اس عمل میں انتظامی تاخیر یا رکاوٹ پیدا نہ کی جائے۔ خط میں طبی معائنے کے بعد فوری علاج شروع کرنے پر بھی زور دیا گیا ہے۔
اسپتال منتقلی کا معاملہ
یہ اپیل ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب عمران خان کو 20 اگست کی شب راولپنڈی کی اڈیالہ جیل سے اسلام آباد کے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز منتقل کیا گیا تھا۔ طبی معائنے کے بعد انہیں دوبارہ اڈیالہ جیل بھیج دیا گیا۔
سپریم کورٹ نے اس سے قبل عمران خان کو علاج کے لیے اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا تھا۔ تاہم حکومت کا کہنا تھا کہ پاکستان تحریکِ انصاف کے کارکنوں کی جانب سے اسپتال کے راستے اور اطراف میں پیدا کی گئی سکیورٹی صورتحال کے باعث انہیں شفا اسپتال منتقل نہیں کیا جا سکا۔
حکومت نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ پمز میں طبی معائنے کے بعد عمران خان صحت مند پائے گئے۔ پاکستان تحریکِ انصاف نے اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے عدالتی حکم کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا اور توہینِ عدالت کی درخواست دائر کی۔ حکومت نے بھی سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف نظرِثانی کی درخواست دائر کی تھی۔
حکومت کا مؤقف
پاکستانی حکومت کی جانب سے سابق آسٹریلوی کپتانوں کے تازہ خط پر تاحال کوئی ردِعمل سامنے نہیں آیا۔
وفاقی وزیرِ اطلاعات عطا تارڑ نے اس سے قبل کہا تھا کہ سکیورٹی وجوہات کی بنا پر عمران خان کو پمز منتقل کیا گیا۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں ان کا دعویٰ تھا کہ طبی معائنے کے دوران شفا انٹرنیشنل اسپتال کے ڈاکٹرز بھی موجود تھے۔
عطا تارڑ کے مطابق عمران خان کو ماضی میں بھی طبی سہولیات فراہم کی جاتی رہی ہیں اور آئندہ بھی ضرورت پڑنے پر انہیں علاج کی سہولت دی جائے گی۔
دوسری جانب عمران خان کی بہن ڈاکٹر عظمیٰ خان، جنہوں نے پمز میں طبی معائنے کے دوران ان سے ملاقات کی تھی، نے بعد ازاں ایک نیوز کانفرنس میں دعویٰ کیا کہ عمران خان نے انہیں بتایا کہ انہیں قیدِ تنہائی میں رکھا جا رہا ہے اور درخواست کے باوجود ان کا علاج نہیں کرایا جا رہا۔


