18 اگست 2026
اردو رپورٹ ڈیسک
وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ کے اس حکم کے خلاف نظرثانی اپیل دائر کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے تحت سابق چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کو شفا انٹرنیشنل اسپتال میں علاج کرانے کی اجازت دی گئی ہے۔
وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کے مطابق حکومت نے عمران خان کے شفا انٹرنیشنل اسپتال میں علاج سے متعلق سپریم کورٹ کے حکم کا جائزہ لیا ہے اور اسپتال میں ان کے طبی معائنے کے حوالے سے متعلقہ حکام سے مشاورت بھی کی گئی ہے۔
اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ سپریم کورٹ کا یہ حکم سزا یافتہ قیدیوں سے متعلق قوانین کے مطابق نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ عدالت کے حکم کے دیگر پہلوؤں کا بھی جائزہ لیا گیا ہے۔
حکومت کا عمران خان کی شفا ہسپتال منتقلی کے خلاف سپریم کورٹ میں نظرثانی اپیل دائر کرنے کا فیصلہ pic.twitter.com/C8uf2tF5Kx
— Urdu Report (@UrduReportpk) August 18, 2026
متعلقہ حکام کا فیصلہ
وزیر قانون نے کہا کہ متعلقہ حکام عمران خان کی صحت سے متعلق اپنا فیصلہ جاری کرچکے ہیں، تاہم حکومت اس فیصلے پر نظرثانی کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کرے گی۔
اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ جیلوں میں بہت سے قیدی صحت کے مسائل سے دوچار ہیں اور سزا یافتہ قیدیوں کو سرکاری اسپتالوں میں علاج کی سہولت فراہم کی جاتی ہے۔
یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب سپریم کورٹ میں عمران خان کی صحت اور اہلخانہ و ڈاکٹروں سے ملاقاتوں سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔
عمران خان کے وکیل کی درخواست
عمران خان کے وکیل عذیر کرامت بھنڈاری عدالت میں پیش ہوئے اور انہوں نے پی ٹی آئی کے بانی کو علاج کے لیے شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کی استدعا کی۔
سپریم کورٹ نے استدعا منظور کرتے ہوئے عمران خان کو منگل کے روز ہی شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کی ہدایت کردی۔


