اردو رپورٹ ڈیسک
آذربائیجان میں سرکاری اسکولوں کے لباس سے متعلق نئے ضوابط کے باعث حجاب پہننے والی طالبات اور اساتذہ کے داخلے کا معاملہ تنازع کی شکل اختیار کر گیا ہے۔ بعض اسکولوں میں طالبات کو حجاب اتارنے کی ہدایت دینے اور اسکارف پہننے والی طالبات اور اساتذہ کو داخلے سے روکنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جس کے بعد احتجاج بھی شروع ہوگیا ہے
آذربائیجان کی کابینہ نے 21 ستمبر 2026 کو سرکاری اسکولوں کے طلبہ کے لباس سے متعلق ضوابط میں ترمیم کی تھی۔ ان قواعد میں ایسے لباس پر پابندی شامل ہے جسے اسکول یونیفارم کے تقاضوں یا تعلیم کے سیکولر اصولوں سے متصادم سمجھا جائے۔
اگرچہ ضوابط میں حجاب پر واضح طور پر ملک گیر پابندی کا ذکر نہیں کیا گیا، تاہم ان کے نفاذ کے بعد بعض تعلیمی اداروں میں حجاب پہننے والی طالبات کو کلاسوں میں شرکت سے روکے جانے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
طالبات اور اساتذہ کو مشکلات کا سامنا
الجزیرہ کی 14 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق باکو میں انگریزی کی ایک استاد گلشن علیئیوا نے بتایا کہ انہیں حجاب پہن کر اسکول پہنچنے پر داخلے سے روک دیا گیا، جبکہ ان کی بیٹی کو بھی اسکول میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ملی۔
اس معاملے پر بعض اساتذہ نے اپنے روزگار اور طالبات نے تعلیم جاری رکھنے کے حوالے سے خدشات ظاہر کیے ہیں۔ باکو کے محکمہ تعلیم نے بھی اسکولوں میں نئے ضوابط پر عمل درآمد کا جائزہ لینے کے لیے نگرانی کا اعلان کیا ہے
لباس کے نئے قواعد کے خلاف احتجاج بھی ہوا ہے۔ آذربائیجان کی وزارت داخلہ کے مطابق پیر کے روز عوامی نظم و ضبط میں خلل ڈالنے کے الزام میں 37 افراد کو حراست میں لیا گیا۔
حجاب کے معاملے نے ملک میں مذہبی آزادی اور سیکولر نظامِ تعلیم کے درمیان توازن سے متعلق بحث کو بھی تیز کردیا ہے۔
حجاب پر تنازع کیوں ہے؟
آذربائیجان ایک مسلم اکثریتی ملک ہے۔ وہاں کی آبادی کی اکثریت مسلمان ہے، جن میں زیادہ تر شیعہ مسلمان جبکہ ایک بڑی تعداد سنی مسلمانوں کی بھی ہے۔ آذربائیجان سابق سوویت یونین کا حصہ رہا ہے اور اس کا آئین ریاست اور مذہب کو الگ رکھتا ہے۔ اسی وجہ سے بعض سرکاری تعلیمی اداروں میں لباس کے ضوابط اور مذہبی آزادی کے درمیان اختلافات سامنے آتے ہیں۔
حکومت کا مؤقف اور مذہبی آزادی کی بحث
آذربائیجان کی پارلیمان کی انسانی حقوق کمیٹی کے سربراہ زاہد اوروج نے کہا ہے کہ اسکولوں سے باہر اسکارف پہننے پر پابندی نہیں ہے۔ ان کے مطابق نئے قواعد کا بنیادی مقصد تعلیمی اداروں میں لباس کے یکساں ضوابط برقرار رکھنا ہے۔
دوسری جانب، قفقاز مسلم بورڈ کے سربراہ شیخ الاسلام اللہ شکور پاشازادہ نے حجاب کو ایک اہم مذہبی فریضہ قرار دیا ہے۔ اس معاملے پر آذربائیجان کے بعض سیاسی رہنماؤں اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے بھی اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے
اسپتالوں میں حجاب پر پابندی کی خبر جعلی قرار
15 اکتوبر 2026 کو آذربائیجان کی وزارتِ صحت اور میڈیا و نشریاتی کونسل نے مشترکہ بیان میں واضح کیا کہ طبی مراکز میں حجاب پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والا خط جعلی ہے۔
حکام کے مطابق وزارتِ صحت نے ایسا کوئی حکم جاری نہیں کیا اور نہ ہی اسپتالوں یا طبی مراکز کو حجاب پر پابندی لگانے کی ہدایت دی ہے۔ حکام نے ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا صارفین پر زور دیا کہ وہ معلومات کی تصدیق سرکاری ذرائع سے کریں اور جعلی دستاویزات پھیلانے سے گریز کریں۔
ملک گیر پابندی کی صورتِ حال
دستیاب اطلاعات کے مطابق تنازع بنیادی طور پر سرکاری اسکولوں میں لباس کے نئے ضوابط اور ان کے نفاذ سے متعلق ہے۔ پورے آذربائیجان میں ہر جگہ حجاب پہننے پر مکمل پابندی کا اعلان سامنے نہیں آیا، جبکہ طبی مراکز میں حجاب پر پابندی کی خبر کو حکام نے مسترد کردیا ہے۔
آئندہ صورتِ حال کا انحصار اسکولوں میں ان ضوابط کے نفاذ اور مذہبی آزادی سے متعلق اٹھائے جانے والے قانونی و انتظامی اقدامات پر ہوگا۔


