اردو رپورٹ:حالیہ برسوں میں باکو دنیا کے تیزی سے ابھرتے ہوئے سیاحتی مقامات میں شامل ہو چکا ہے جہاں دنیا بھر سے سیاح رخ کر رہے ہیں۔
بحیرہ قزوین کے کنارے واقع یہ شہر مشرق اور مغرب کے سنگم پر ہونے کی وجہ سے مختلف ثقافتوں کا حسین امتزاج پیش کرتا ہے۔ روس، یورپ اور جنوبی ایشیا سمیت دنیا بھر سے سیاح یہاں کا رخ کر رہے ہیں، جبکہ پاکستانی سیاحوں کی تعداد میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
آذربائیجان کے عوام پاکستانیوں سے خاص محبت کا اظہار کرتے ہیں اور انہیں “کاردش” (بھائی) کہہ کر خوش آمدید کہتے ہیں۔
آذربائیجان میں سیاحت

آذربائیجان نے تیل کی معیشت پر انحصار کم کرنے کے لیے 2016 کے بعد سیاحت کے فروغ پر خصوصی توجہ دی۔ ای ویزا سہولت، جدید انفراسٹرکچر اور نئے سیاحتی مقامات کی تعمیر نے اس شعبے کو تیزی سے ترقی دی۔ 2019
تک سیاحوں کی تعداد 32 لاکھ سالانہ تک پہنچ گئی تھی، اور اب حکومت 2026 تک اس تعداد کو مزید بڑھانے کے لیے کوشاں ہے۔ انہی اقدامات کے باعث باکو کو “قفقاز کا دبئی” بھی کہا جانے لگا ہے۔
باکو کی تاریخی حثیت
تاریخی طور پر باکو ایک قدیم شہر ہے جس کا مطلب “ہواؤں کا شہر” لیا جاتا ہے۔ آذربائیجان کا نام بھی فارسی الفاظ “آذر” (آگ) اور “بائیگان” (محافظ) سے مل کر بنا ہے، جس کا مطلب “آگ کے رکھوالے” ہے۔
قدرتی گیس کے ذخائر کی وجہ سے یہاں کئی مقامات پر صدیوں سے آگ جلتی رہی ہے، جس نے قدیم مذاہب خصوصاً زرتشت کے ماننے والوں کے لیے اس خطے کو مقدس بنا دیا۔
باکو کو “قفقاز کا پیرس” بھی کہا جاتا ہے، جس کی ایک دلچسپ وجہ یورپی طرزِ تعمیر ہے۔ بیسویں صدی کے آغاز میں امیر تاجر مرتضی مختاروف نے اپنی اہلیہ کے لیے پیرس سے متاثر ہو کر ایک شاندار محل تعمیر کروایا، جو آج “ہیپینیس پیلس” کے نام سے مشہور ہے۔
اس کے بعد شہر میں یورپی طرز کی عمارتوں کا رجحان بڑھ گیا، جو آج بھی سیاحوں کو اپنی جانب متوجہ کرتا ہے۔

آذربائیجان کا ای ویزا
پاکستانی شہریوں کے لیے باکو جانا نسبتاً آسان ہے کیونکہ 2017 سے ای ویزا کی سہولت دستیاب ہے۔
صرف بنیادی معلومات اور پاسپورٹ کی کاپی کے ذریعے 30 دن کا ویزا حاصل کیا جا سکتا ہے، جو عموماً چند گھنٹوں یا دنوں میں جاری ہو جاتا ہے۔
اس کے علاوہ پاکستان سے براہِ راست پروازیں بھی دستیاب ہیں، جس سے سفر مزید سہل ہو گیا ہے۔

باکو میں سست رہائش اور کھانے
رہائش کے لیے باکو میں مختلف آپشنز موجود ہیں۔ نظامی سٹریٹ اور قدیم اچاری شہر سیاحوں کے لیے بہترین مقامات ہیں، جہاں ہوٹل اور Airbnb مناسب قیمتوں پر دستیاب ہیں۔ ان علاقوں کی خاص بات یہ ہے کہ زیادہ تر سیاحتی مقامات پیدل گھومے جا سکتے ہیں، جبکہ ساحل بھی قریب ہوتا ہے۔
اخراجات کے لحاظ سے باکو یورپ اور امریکہ کے مقابلے میں اب بھی سستا سمجھا جاتا ہے۔ پانچ دن کے سفر میں ٹکٹ، رہائش اور دیگر اخراجات ملا کر تقریباً سوا تین لاکھ پاکستانی روپے خرچ آ سکتا ہے۔
کھانے پینے کی قیمتیں بھی مناسب ہیں اور یہاں مقامی کھانوں کے ساتھ ترک، عرب اور پاکستانی کھانے بھی آسانی سے مل جاتے ہیں۔
باکو کے سیاحتی مقامات

باکو میں دیکھنے کے لیے کئی دلچسپ مقامات موجود ہیں۔ باکو بلیوارڈ ساحل کے ساتھ لمبی واک کے لیے بہترین جگہ ہے، جبکہ میڈن ٹاور اور حیدر علییف سینٹر شہر کی تاریخی اور جدید پہچان ہیں۔
اس کے علاوہ فلیم ٹاورز، لٹل وینس اور ہائی لینڈ پارک جیسے مقامات بھی سیاحوں کو خوب متاثر کرتے ہیں۔
اگر آپ شہر کی ہلچل سے ہٹ کر دیہی زندگی دیکھنا چاہتے ہیں تو بالاخانی گاؤں ایک منفرد تجربہ فراہم کرتا ہے، جہاں صاف ستھرا ماحول اور دیواروں پر آرٹ کے خوبصورت نمونے دیکھنے کو ملتے ہیں۔
مجموعی طور پر، باکو ایک ایسا شہر ہے جہاں تاریخ، ثقافت اور جدید طرزِ زندگی ایک ساتھ نظر آتے ہیں، اور یہی چیز اسے سیاحوں کے لیے ایک بہترین منزل بناتی ہے۔
یہ بھی پڑھئیں


