اردوEnglish
ہفتہ, 17 اکتوبر 2026
  • Home  
  • دس روزہ بسنت تہوار کے خلاف لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر
- سیاحت

دس روزہ بسنت تہوار کے خلاف لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر

درخواست گزار شاہد اسلام نے پنجاب حکومت کی جانب سے 29 جنوری سے 7 فروری 2027 تک بسنت منانے کے فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے اسے صرف ایک دن تک محدود کرنے کی استدعا کی ہے۔

اردو رپورٹ ڈیسک

بسنت 2027 کی تقریبات کا دورانیہ 10 روز سے کم کرکے ایک دن کرنے کے لیے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کردی گئی ہے۔ عدالت میں پنجاب حکومت کے فیصلے کو چیلنج کیا گیا ہے، جس کے تحت 29 جنوری سے 7 فروری 2027 تک بسنت منانے کی اجازت دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہرام سرور چوہدری شہری شاہد اسلام کی درخواست پر سماعت کریں گے۔ عدالت کے رجسٹرار آفس نے درخواست کو سماعت کے لیے مقرر کردیا ہے۔

بسنت کا دورانیہ چیلنج

درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ پنجاب حکومت کی جانب سے 10 روزہ بسنت منانے کے اعلان کو غیرقانونی قرار دیا جائے اور تقریبات کا دورانیہ صرف ایک دن تک محدود کیا جائے۔

درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ کئی روز تک پتنگ بازی کی سرگرمیاں جاری رہنے سے شہریوں کو زیادہ حفاظتی خطرات کا سامنا ہوسکتا ہے۔

حادثات اور جانی نقصان کا خدشہ

درخواست گزار کے مطابق پتنگ کی تیز دھار ڈور سے زخمی ہونے، بجلی کا کرنٹ لگنے اور چھتوں سے گرنے جیسے حادثات کا خطرہ موجود ہے۔

درخواست میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ 2026 میں بسنت کی تقریبات کے دوران 17 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔ تاہم یہ تعداد درخواست گزار کا دعویٰ ہے، عدالت کی جانب سے اس کی تصدیق یا توثیق نہیں کی گئی۔

شاہد اسلام نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ بسنت کی تقریبات طویل ہونے سے شور، ماحولیاتی آلودگی اور حادثات میں اضافہ ہوسکتا ہے، جس سے شہریوں کے بنیادی حقوق متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

پنجاب حکومت اور اعلیٰ حکام فریق

درخواست میں پنجاب حکومت کے علاوہ صوبائی چیف سیکریٹری، ہوم سیکریٹری، ڈپٹی کمشنر، انسپکٹر جنرل پولیس اور لاہور کے کیپیٹل سٹی پولیس افسر کو بھی فریق بنایا گیا ہے۔

صوبائی حکومت کی جانب سے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خواجہ محسن عباس پیش ہوں گے۔ توقع ہے کہ وہ درخواست کے قابلِ سماعت ہونے پر اعتراض اٹھائیں گے۔

urdureport.com@2025. All Rights Reserved

Your license hasn’t been activated yet. Activate it now!