اردو رپورٹ ڈیسک
ARTICLE
کینیڈا نے بین الاقوامی ماسٹرز اور پی ایچ ڈی طلبہ کے لیے اسٹڈی پرمٹ کا عمل آسان کر دیا ہے، جبکہ حکومت نے اعلیٰ تعلیم اور گریجویٹ سطح کے امیدواروں پر زیادہ توجہ مرکوز کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
امیگریشن، ریفیوجیز اینڈ سٹیزن شپ کینیڈا (IRCC) کے مطابق جنوری سے جون 2026 کے دوران جاری کیے گئے نئے اسٹڈی پرمٹس میں گریجویٹ طلبہ کا حصہ 21 فیصد رہا، جو گزشتہ سال اسی عرصے میں 12 فیصد تھا۔
بین الاقوامی طلبہ کی تعداد میں کمی
یہ تبدیلی ایسے وقت میں کی گئی ہے جب کینیڈا مجموعی طور پر بین الاقوامی طلبہ کی تعداد کم کر رہا ہے۔ 2024 کے بعد ملک میں بین الاقوامی طلبہ کی تعداد تقریباً ایک تہائی کم ہو چکی ہے۔
جنوری سے جون 2026 کے دوران کینیڈا آنے والے نئے بین الاقوامی طلبہ کی تعداد 2024 کے اسی عرصے کے مقابلے میں 82 فیصد کم رہی۔
یونیورسٹی طلبہ کا حصہ بڑھ گیا
دوسری جانب نئے اسٹڈی پرمٹ حاصل کرنے والوں میں یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کا تناسب بھی بڑھا ہے۔ یہ شرح 2024 میں 30 فیصد سے بڑھ کر 2025 میں 40 فیصد ہو گئی، جس سے اعلیٰ سطح کی تعلیم پر بڑھتی ہوئی توجہ ظاہر ہوتی ہے۔
ماسٹرز اور پی ایچ ڈی طلبہ کے لیے آسانیاں
زیادہ تر گریجویٹ ڈگری پروگرامز کے طلبہ سادہ طریقہ کار سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں، جبکہ ڈاکٹریٹ پروگرامز کے درخواست دہندگان کے اسٹڈی پرمٹ کی درخواستیں دو ہفتوں کے اندر نمٹائی جا سکتی ہیں۔
یکم جنوری 2026 سے سرکاری تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کرنے والے اہل ماسٹرز اور ڈاکٹریٹ طلبہ کو صوبائی یا علاقائی تصدیقی خط کی شرط سے بھی مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔
خاندان کو ساتھ لانے کی سہولت
گریجویٹ طلبہ تعلیم کے دوران اپنے اہل خانہ کے اہل افراد کو بھی کینیڈا ساتھ لانے کے اہل ہو سکتے ہیں۔
تعلیم مکمل کرنے کے بعد بین الاقوامی گریجویٹس پوسٹ گریجویشن ورک پرمٹ کے لیے اہل ہو سکتے ہیں، جس کے ذریعے انہیں کینیڈا میں کام کا تجربہ حاصل کرنے کا موقع مل سکتا ہے۔
اعلیٰ تعلیم اور تحقیق پر توجہ
کینیڈین حکومت نے کہا ہے کہ وہ دنیا کے بہترین اور باصلاحیت محققین اور گریجویٹ طلبہ کو کینیڈا کی جانب راغب کرنا چاہتی ہے اور اسی مقصد کے تحت ماسٹرز اور ڈاکٹریٹ پروگرامز کو زیادہ ترجیح دی جا رہی ہے۔


