اردو رپورٹ ڈیسک
چمن میں 3 سالہ بچی کا 60 سالہ شخص سے نکاح کرانے کے الزام میں پولیس نے بچی کے والد عبدالباقی کو گرفتار کرلیا ہے۔ پولیس کے مطابق نکاح 25 لاکھ روپے ولور کے عوض کرایا گیا۔
معاملے کی چھان بین کے دوران حکام کو معلوم ہوا کہ بچی کی 15 سالہ بہن شکریہ بی بی، جو 60 سالہ صلاح الدین کی بہو تھیں، 7 ستمبر کو مبینہ طور پر قتل ہوچکی ہیں۔
پولیس کے مطابق شکریہ بی بی کے قتل کے الزام میں ان کے شوہر کامران کو گرفتار کیا گیا ہے، جبکہ صلاح الدین کی گرفتاری کے لیے کارروائی جاری ہے۔
والد کا مؤقف
عبدالباقی نے ایک ویڈیو بیان میں دعویٰ کیا کہ غربت اور مجبوری کے باعث انہوں نے اپنی بڑی بیٹی کی جان بچانے کے لیے 3 سالہ بیٹی کا رشتہ صلاح الدین کو دیا تھا۔
حکام کا کہنا ہے کہ تین سالہ بچی کے نکاح اور شکریہ بی بی کے قتل کے معاملات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں اور دونوں واقعات کی تحقیقات جاری ہیں۔
ولور کی رسم
چمن پولیس کے مطابق بچی کے والد عبدالباقی نے اپنی تین سالہ بیٹی کا نکاح 25 لاکھ روپے ’ولور‘ کے بدلے میں صلاح الدین نامی 60 سالہ شخص سے کیا تھا۔
ولور جسے بلوچی زبان میں ’لبّ‘ بھی کہا جاتا ہے ایک ایسی مکروہ اور فرسودہ روایت ہے جس کے تحت لڑکی کے گھر والے رشتے کے بدلے لڑکے والوں سے رقم لیتے ہیں۔
شکریہ بی بی کا قتل
ایس ڈی پی او عبدالجبار خان کے مطابق عبدالباقی نے دو برس قبل اپنی 15 سالہ بیٹی شکریہ بی بی کی شادی 15 لاکھ روپے ولور کے عوض 60 سالہ صلاح الدین کے بیٹے کامران سے کی تھی، جبکہ چند ماہ قبل اپنی 3 سالہ بیٹی کا نکاح بھی صلاح الدین سے کرایا۔
بعد ازاں صلاح الدین نے 3 سالہ بچی کے بجائے 8 سالہ بیٹی کی رخصتی کا مطالبہ کیا، جس پر دونوں خاندانوں میں تنازع ہوا اور مبینہ طور پر شکریہ بی بی کو قتل کردیا گیا۔


