اردو رپورٹ ڈیسک
اسلام آباد کے پمز اسپتال میں آتشزدگی کے واقعے کے بعد ایک نومولود بچی کے 22 روز بعد انتقال کی خبر گردش کرنے لگی، تاہم بچی کے والد جہانزیب اختر نے اس خبر کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی بیٹی الحمدللہ زندہ ہے اور گھر میں ان کے پاس موجود ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جہانزیب اختر نے کہا کہ جس بچی کے انتقال کی خبر چلائی جا رہی ہے، اس کے ساتھ ان کی بیٹی کی تصویر استعمال کی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر کسی دوسری بچی کا انتقال ہوا ہے تو اسی کی تصویر استعمال کی جائے، ان کی بیٹی کی تصویر لگا کر یہ تاثر نہ دیا جائے کہ 22 دن بعد ان کی بچی انتقال کر گئی۔
بچی کی صحت سے متعلق والد کا بیان
جہانزیب اختر کے مطابق ان کی بیٹی کو پیدائش کے وقت معمولی انفیکشن تھا، جس کے باعث اسے پولی کلینک لے جایا گیا جہاں وہ دو روز زیرِ علاج رہی۔ بعد ازاں اس کی حالت بہتر ہوگئی۔
ان کا کہنا تھا کہ بچی اس وقت ان کے گھر میں موجود ہے اور خیریت سے ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ اس سے قبل بھی نیوز اداروں سے درخواست کر چکے ہیں کہ ان کی بیٹی کی تصویر استعمال نہ کی جائے۔
پمز آتشزدگی کے وقت کیا ہوا؟
جہانزیب اختر نے بتایا کہ جس روز پمز میں آتشزدگی کا واقعہ پیش آیا، وہ گھر میں موجود تھے۔ ان کے مطابق شام تقریباً 6 بج کر 15 منٹ پر ان کی اہلیہ نے فون کرکے بتایا کہ بچی کو ابھی پمز لایا گیا ہے اور فی الحال کوئی زیادہ مسئلہ نہیں، اس لیے وہ اطمینان سے آئیں۔
انہوں نے بتایا کہ تقریباً 15 منٹ بعد، ساڑھے 6 بجے کے قریب دوبارہ اطلاع ملی کہ اسپتال کے اندر آگ لگ گئی ہے۔ وہ موٹر سائیکل پر تقریباً 10 سے 12 منٹ میں اسپتال پہنچے۔
والد کے مطابق اس وقت اسپتال کے اندر دھواں بہت زیادہ تھا اور گارڈز سمیت لوگ باہر کھڑے تھے، جبکہ اندر جانا مشکل تھا۔ انہوں نے دو تین دیگر افراد کے ساتھ اندر جانے کی کوشش کی، جبکہ گارڈز باری باری اندر گئے، شیشے توڑے اور دھویں کے درمیان سے باہر نکلے۔
ریسکیو ٹیم تقریباً 7 بجے پہنچی
جہانزیب اختر کا کہنا تھا کہ ریسکیو ٹیم اور دیگر متعلقہ افراد تقریباً 7 بجے کے قریب پہنچے، اس وقت تک آگ کافی پھیل چکی تھی اور اندر موجود چیزیں جل چکی تھیں۔
ان کے مطابق بعد میں فائر بریگیڈ کی گاڑیوں نے آگ بجھانے کا عمل شروع کیا اور اندر سے پانچ بچوں کی لاشیں ملیں۔
بچی کو نرسری سے نکالنے کے حوالے سے جہانزیب اختر نے اپنی سالی کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ وہ تقریباً 6 بجے بچی کو نرسری میں چھوڑ کر آئی تھیں۔
ان کے مطابق وہاں موجود عملے نے بتایا تھا کہ بچی کو دو فیڈز کرائی جائیں گی اور اس کے بعد اسے داخل کیا جائے گا، کیونکہ اسے معمولی انفیکشن تھا۔
والد نے بتایا کہ ان کی سالی نرسری کے سامنے موجود وارڈ میں بیٹھی ہوئی تھیں۔ اسی دوران انہوں نے ایک نرس اور آیا کو بار بار اندر باہر جاتے دیکھا۔ پوچھنے پر انہیں بتایا گیا کہ کسی مرد کو بلائیں۔
تصویر دوبارہ استعمال ہونے پر قانونی کارروائی کی دھمکی
جہانزیب اختر نے کہا کہ اگر آئندہ کسی نیوز ادارے یا کسی اور شخص نے ان کی بیٹی کی تصویر ایسی خبر کے ساتھ استعمال کی جس میں اس کے انتقال کا دعویٰ کیا گیا تو وہ اس کے خلاف ایف آئی آر درج کرائیں گے اور معاملہ اعلیٰ حکام تک لے کر جائیں گے۔
انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف سے بھی مطالبہ کیا کہ جو خبر درست ہے اسے درست اور جو غلط ہے اسے غلط قرار دیا جائے، جھوٹ کو سچ نہ بنایا جائے۔
یاد رہے کہ پمز سانحے میں 14 بچے جاں بحق ہوگئے تھے، جبکہ ایک بچی کو ریسکیو کر لیا گیا تھا۔


