تحریر : طارق اقبال چوہدری

سابق صدر و چیف آف آرمی سٹاف پرویز مشرف کو باوردی صدر بنانے کے خلاف جسٹس (ر) وجیہ الدین احمد کیس کی سپریم کورٹ کے اس وقت کے سینیر ترین جج جسٹس جاوید اقبال کی سربراہی میں گیارہ رکنی بینچ سماعت کے سامنے سماعت جاری تھی ،میری عدالتی رپورٹنگ کے دوران یہ اہم واقعہ دیکھنے کو ملا ،جسٹس خلیل الرحمن رمدے کو اس وقت کے بحال ہونے والے چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری نے خصوصی اس بینچ کا حصہ بنایا اور ان کی ایک موقع پر صدر پرویز مشرف کے وکیل سید شریف الدین پیرزادہ سے تکرار ہوئی تو مسٹر پیرزادہ نے روسٹرم سے ہٹ کر کہا کہ میں اپنے دلائل تحریری صورت میں دے دوں گا جس پر ایک جج صاحب کا کہنا تھا کہ اس سے ہم شرمندہ ہو رہے ہیں تاہم معاملہ سلجھایا گیا دلائل دئیے گئے اور کیس کی سماعت کبھی مکمل نہ ہو سکی۔

آئینی جادوگر نے اس مرتبہ سب کچھ نوشتہ دیوار پڑھ لیا 3 نومبر 2007 کو ایمرجنسی اور عبوری آئینی حکم (PCO) نافذ ہونے کے بعد یہ سماعت مکمل نہ ہو سکی اور فیصلہ آنے سے پہلے عدلیہ کی بساط کو لپیٹ دیا گیا۔ اس وقت ایک اور آئینی ماہر ملک محمد قیوم بھی آب و تاب کے ساتھ جگمگا رہے تھے جنہوں نے اپنی آئینی مہارت سے سب کو گرویدہ بنا رکھا تھا اور پی سی او چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر کو لانے میں نمایاں کردار ادا کیا اس وقت وہ بخوبی مسٹر پیرزادہ کی میراث کو پا چکے تھے ۔لیکن حیرانگی اس بات کی ہے کہ اس وقت یہ کام عدلیہ کی بجائے آئِنی تریم کے ذریعے مکمل کرنے کا خیال کسی ماہر کے ذہن میں کیوں نہ آیا؟
پاکستان کے آئینی جادوگر
سید شریف الدین پیرزادہ (Syed Sharifuddin Pirzada) (12 June 1923 – 2 June 2017) پاکستان کی آئینی تاریخ کا ایک ایسا نام ہے جسے غیر رسمی طور پر آئینی جادوگر (Constitutional Wizard) کہا جاتا تھا۔جب بھی وہ سپریم کورٹ کے روسٹرم پر آتے تو حکومتی پالیسی اور ارادوں کا قانونی خاکہ پیش کرتے۔ وہ ہمیشہ اپنے ساتھ کاغذ کا ایک مختصر ٹکڑا رکھتے، مگر اپنی قانونی مہارت سے اعلیٰ عدلیہ کو ایسا مؤقف دیتے کہ بسا اوقات وہی چند سطور ملکی سیاست اور آئینی سمت کا تعین کر دیتیں لیکن ایک بات ناقابل یقین معلوم ہوتی ہے کہ ان کے دماغ میں 26 ویں اور 27ویں ترمیم جیسے خیالات نے جنم کیوں نہیں لیا؟

سید شریف الدین پیرزادہ مختلف ادوار میں وفاقی وزیر قانون وفاقی وزیر خارجہ، اٹارنی جنرل آف پاکستان صدرِ پاکستان کے قانونی مشیر اور جنرل پرویز مشرف (General Pervez Musharraf) کے سینئر قانونی مشیر رہے۔ اس سے قبل وہ قائداعظم محمد علی جناح (Quaid-e-Azam Muhammad Ali Jinnah) کے معاون اور قانونی سیکریٹری بھی رہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ انہیں 1998 میں نشانِ امتیاز (Nishan-e-Imtiaz) سے نوازا گیا، جب میاں محمد نواز شریف (Mian Muhammad Nawaz Sharif) وزیرِاعظم تھے، جبکہ ایک سال بعد انہی کی حکومت جنرل پرویز مشرف کے فوجی اقدام کے نتیجے میں ختم ہوگئی۔
آئینی جادوگر کے کمالات
پاکستان کے اس آئینی جادوگر نے چار فوجی حکمرانوں، جنرل ایوب خان (General Ayub Khan)، جنرل یحییٰ خان (General Yahya Khan)، جنرل ضیاء الحق (General Zia-ul-Haq) اور جنرل پرویز مشرف (General Pervez Musharraf) کے ادوار میں اہم آئینی اور قانونی ذمہ داریاں انجام دیں۔ ناقدین کے مطابق انہوں نے ان فوجی حکومتوں کے اقدامات کے لیے آئین کے اندر قانونی راستے تلاش کیے اور انہیں آئینی جواز فراہم کیا۔
1958 میں جنرل ایوب خان کے مارشل لا (Martial Law) کے بعد شریف الدین پیرزادہ حکومت کے اہم قانونی مشیروں میں شامل ہوگئے۔ انہوں نے 1962 کے آئین (Constitution of 1962) کی تیاری، صدارتی نظام (Presidential System) کے قانونی ڈھانچے اور مختلف آئینی اصلاحات میں حکومت کی معاونت کی۔ 1969 میں جنرل یحییٰ خان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد بھی وہ فوجی حکومت کے قانونی مشیر رہے اور مارشل لا سے متعلق قانونی احکامات اور آئینی معاملات میں اہم کردار ادا کرتے رہے۔
1977 میں جنرل ضیاء الحق کے مارشل لا کے بعد ان کا کردار مزید نمایاں ہوگیا۔ انہیں عبوری آئینی حکم (Provisional Constitutional Order – PCO) کی تیاری، فوجی حکومت کے قانونی دفاع اور بعد ازاں آٹھویں آئینی ترمیم (Eighth Constitutional Amendment) سے متعلق قانونی مشاورت فراہم کرنے والی اہم شخصیات میں شمار کیا جاتا ہے۔ ناقدین کے مطابق ان اقدامات نے فوجی حکومت اور صدر کے اختیارات کو مزید مضبوط کیا۔ 1999 میں جنرل پرویز مشرف کے اقتدار سنبھالنے کے بعد بھی وہ ان کے قانونی مشیروں میں شامل رہے اور آئینی معاملات پر رہنمائی کرتے رہے۔
عمران خان حکومت کا خاتمہ اور آئینی کمالات

3 اپریل 2022 کو قومی اسمبلی (National Assembly) کے ڈپٹی اسپیکر قاسم خان سوری (Qasim Khan Suri) نے آئین کے آرٹیکل 5 (Article 5) اور مبینہ غیر ملکی سازش سائفر (Cipher) کا حوالہ دیتے ہوئے اس وقت کے وزیرِاعظم عمران خان (Imran Khan) کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد (Vote of No Confidence) کو رولنگ کے ذریعے مسترد کر دیا۔ تاہم 7 اپریل 2022 کو سپریم کورٹ (Supreme Court of Pakistan) نے متفقہ فیصلے میں اس رولنگ کو غیر آئینی قرار دے کر کالعدم کر دیا اور قومی اسمبلی بحال کرنے کا حکم دیا۔ بعد ازاں 9 اور 10 اپریل 2022 کی درمیانی شب ہونے والی ووٹنگ میں تحریکِ عدم اعتماد 174 ووٹوں سے کامیاب ہوئی اور عمران خان وزارتِ عظمیٰ سے ہٹ گئے۔
مذید خبریں
سپریم کورٹ میں داماد جج نے سسر جج کی تاریخ کو نصف صدی بعد پھر دہرا دیا۔ – urdureport.com
سال 2025 جس نے عدلیہ کی آذادی کو شدید متاثر کیا – urdureport.com

ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کے بعد سب سے متحرک کردار ادا کرنے والوں میں آئینی ماہر اعظم نذیر تارڑ (Azam Nazeer Tarar) نمایاں تھے اس مرتبہ انہوں نے یہ بھاری ذمہ داری اپنے سر لی۔ انہوں نے سپریم کورٹ میں اس وقت کے چیف جسٹس عمر عطا بندیال (Justice Umar Ata Bandial) کی سربراہی میں قائم پانچ رکنی بینچ کے سامنے حکومتی مؤقف پیش کیا اور پھر سابق ادوار میں بند باب پھر کھلتے چلے گئے۔ بعد ازاں وہ وفاقی وزیر قانون بنے اور آج دن تک عدالتی اصلاحات کے ذریعے جو کام مکمل نہ ہو سکا انہوں نے اس کا بیڑا اٹھایا۔
عدالتی نظام کی تبدیلی
عمران خان کی حکومت کے خاتمے کے بعد عدالتی اصلاحات کے نام پر متعدد آئینی تبدیلیاں متعارف کرائی گئیں۔ اعظم نذیر تارڑ (Azam Nazeer Tarar) وزیر قانون کے طور پر ان اصلاحات کے اہم محرک سمجھے گئے۔ حکومت کا مؤقف تھا کہ یہ اقدامات عدالتی نظام کو زیادہ مؤثر، شفاف اور جوابدہ بنانے کے لیے ضروری ہیں، جبکہ ناقدین نے انہیں عدلیہ کے اختیارات محدود کرنے اور اس کی آزادانہ بساط لپیٹنے کی سازش قرار دیا۔

سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا نام ہمیشہ سے عدالتی تاریخ میں نمایاں طور پر یاد رکھا جائے گا جنہوں نے چیف جسٹس کا عہدہ سنبھلانے کے بعدسیاسی جماعت کے انتخابی نشان کے کیس ،پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ جیسے فیصلے سنا کر تاریخ میں اپنا "نام رقم "کروایا۔حالانکہ آئینی تاریخ اس بات سے پہلے ہی واقف تھی کہ قبل ازیں جسٹس منیر نے مولوی تمیزالدین کیس (1955) میں گورنر جنرل کے اسمبلی توڑنے کو درست قرار دے کر کہہ دیا تھا کہ جس میں پاکستان میں (نظریۂ ضرورت)Doctrine of Necessity کو بنیاد ملی کہ “ضرورت کے تحت غیر آئینی عمل بھی جائز ہو سکتا ہے۔
نئی آئینی ترامیم
26ویں آئینی ترمیم (26th Constitutional Amendment) کے ذریعے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی تقرری کا طریقہ تبدیل کیا گیا، آئینی بینچ (Constitutional Benches) قائم کرنے کی آئینی بنیاد فراہم کی گئی اور جوڈیشل کمیشن آف پاکستان (Judicial Commission of Pakistan – JCP) کی تشکیل میں بھی اہم تبدیلیاں کی گئیں۔ حکومت کے مطابق ان اصلاحات سے ادارہ جاتی توازن بہتر ہوا، جبکہ ناقدین کے مطابق ان سے انتظامیہ اور پارلیمنٹ کا اثر و رسوخ بڑھا۔
جوڈیشل کمیشن میں تبدیلیوں کے بعد وفاقی وزیر قانون (Federal Law Minister)، اٹارنی جنرل (Attorney General) اور پارلیمنٹ کے حکومتی و اپوزیشن ارکان کا کردار پہلے کے مقابلے میں زیادہ مؤثر ہوگیا۔ اس کے نتیجے میں سپریم کورٹ کے ججوں کی تقرری اور آئینی بینچوں کے لیے ججوں کے انتخاب میں پارلیمانی نمائندگی کا کردار نمایاں ہوا۔بات یہاں تک محدود نہ رہی 27ویں آئینی ترمیم آگئی جس میں اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کو ٹرانسفر احماکات نہ ماننے پر فارغ کرنے کا قانون منظور ہوا اور یہ وقت آنے سے قبل ہی چیف جسٹس آف پاکستان کے لیے مضبوط سینیر ترین جج جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ کو استعفیٰ دینا پڑا۔

دوسری جانب اپوزیشن جماعتوں، وکلا تنظیموں اور بعض سابق ججوں نے ان ترامیم پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اور پارلیمانی نمائندوں کی بڑھتی ہوئی شمولیت سے عدلیہ کی آزادی (Judicial Independence) متاثر ہونے اور ججوں کی تقرری کے عمل میں سیاسی اثر و رسوخ بڑھنے کا خدشہ پیدا ہوا۔ حکومت نے ان اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ تمام آئینی ترامیم پارلیمنٹ کے آئینی اختیار کے تحت منظور کی گئیں۔
آئینی جادوگر کا انتقال
سید شریف الدین پیرزادہ 2 جون 2017 کو کراچی میں مختصر علالت کے بعد 93 سال کی عمر میں انتقال کر گئے اور آئینی ماہرین آج بھی اپنی بھیٹک میں ان کے کارناموں کو موضوع بحث ضرور بناتے ہیں۔لیکن شاید اب بھی ایک ایسا ادھورا کام باقی ہے جس کے لیے مزید بھی ایک آئینی ترمیم کی ضرورت ہوگی ۔ابھی 28ویں ترمیم باقی ہے اور کردار بھی باقی ہے۔


