سوشل میڈیا انفلوئنسر ڈاکٹر نبیہا علی خان کی جانب سے عائد کیے گئے الزامات کے بعد ان کے شوہر حارث کھوکھر کا مؤقف بھی سامنے آ گیا ہے۔
ڈاکٹر نبیحہ چاہتی تھیں میں ان کو باہر ہر میٹنگ میں لے کر جاؤں، مردوں کی کر میٹنگ میں تو بیوی کو نہیں بٹھا سکتا، اسے وہم کی بیماری ہے، حارث کھوکھر نے اہلیہ سے اختلافات کی وجہ شک کو قرار دیا pic.twitter.com/kVMqf85CMu
— Muqadas Farooq Awan (@muqadasawann) February 21, 2026
ڈاکٹر نبحیہ کا کہنا تھا کہ ان کے شوہر حارث کھوکھر ان کو وقت نہیں دیتے کہ ان کے والدین برا منا جایں گے۔
شادی کی تو پورے پاکستان میں ڈرامہ لگادیا ،میرے شوھر بارے کوئی بات کرے میں اس کا منہ توڑ دونگی،اب اس ھی شوھر کے خلاف رمضان شو میں ڈرامہ لگانے پہنچ گئی اور ساتھ ڈرامہ کرنے والی وہ عورت جو ریٹنگ کے لئے کسی بھی حد تک گندگی پھیلا سکتی ھے۔ pic.twitter.com/vN4gdpqscP
— صحرانورد (@Aadiiroy2) February 21, 2026
ویڈیو بیان میں حارث کھوکھر نے کہا کہ ان کی اہلیہ شک اور بدگمانی کا شکار ہیں۔ ان کے مطابق دونوں کے درمیان کوئی سنجیدہ تنازع نہیں تھا اور وہ اپنی ازدواجی زندگی میں خوش تھے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے کبھی کوئی غیر قانونی یا نامناسب قدم نہیں اٹھایا، تاہم ان کی اہلیہ کو اکثر ان کی مصروفیات پر شبہ رہتا تھا۔
حارث کے مطابق جب انہوں نے نیا کاروبار شروع کیا تو ان کی اہلیہ کی خواہش تھی کہ وہ ہر جگہ انہیں اپنے ساتھ لے کر جائیں، مگر پیشہ ورانہ ملاقاتوں اور سماجی تقریبات میں ایسا کرنا ہمیشہ ممکن نہیں ہوتا۔
ان کا کہنا تھا کہ مسئلے کی بنیادی وجہ بداعتمادی اور منفی سوچ ہے، جبکہ ان کے درمیان نہ کوئی جھگڑا ہوا، نہ مارپیٹ اور نہ ہی انہوں نے کبھی بدزبانی کی۔
یاد رہے کہ ڈاکٹر نبیہا علی خان نے گزشتہ سال حارث کھوکھر سے منگنی اور شادی کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد مداحوں کی جانب سے انہیں مبارکباد دی گئی۔ تاہم شادی کے چند ماہ بعد ہی اختلافات کی خبریں سامنے آنا شروع ہو گئیں۔
حال ہی میں ایک ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر نبیہا نے بتایا تھا کہ ان کی شادی مشکلات کا شکار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ رشتہ تاحال برقرار ہے، مگر حالات ایسے ہیں کہ معاملہ طلاق تک جا سکتا ہے۔
ڈاکٹر نبیہا کے مطابق اگر ان کا گھر ٹوٹتا ہے تو اس کی ذمہ داری ان کے شوہر کے اہلِ خانہ پر عائد ہوگی۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ ان کے شوہر اپنے والدین کے اثر میں آ کر ان کے ساتھ مناسب رویہ اختیار نہیں کرتے۔
انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ اگر خاندان کو کوئی اور رشتہ منظور تھا تو اس شادی پر رضامندی کیوں ظاہر کی گئی۔
ڈاکٹر نبیہا کا کہنا تھا کہ انہوں نے ازدواجی زندگی کو کامیاب بنانے کے لیے اپنی پیشہ ورانہ مصروفیات کم کیں، سسرال کے گھر کی ذمہ داریاں سنبھالیں اور تعلق کو بچانے کی بھرپور کوشش کی، تاہم اس کے باوجود حالات میں بہتری نہ آ سکی۔
یہ بھی پڑھئیے


