• Home  
  • وفاقی بجٹ 2026-27 پیش، سرکار ملازمین کی تنخواہوں 7 جبکہ ماہانہ اجرت 10 فیصد اضافی سمیت متعدد تجاویز کا اعلان
- ٹاپ سٹوری

وفاقی بجٹ 2026-27 پیش، سرکار ملازمین کی تنخواہوں 7 جبکہ ماہانہ اجرت 10 فیصد اضافی سمیت متعدد تجاویز کا اعلان

اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے قومی اسمبلی میں مالی سال 2026-27 کا وفاقی بجٹ پیش کردیا، جس کا مجموعی حجم 187 کھرب 71 ارب روپے سے زائد ہے۔ بجٹ میں سرکاری ملازمین، پنشنرز، تنخواہ دار طبقے اور کاروباری برادری کے لیے مختلف مراعات اور ٹیکس اصلاحات تجویز کی گئی ہیں۔ قومی […]

اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے قومی اسمبلی میں مالی سال 2026-27 کا وفاقی بجٹ پیش کردیا، جس کا مجموعی حجم 187 کھرب 71 ارب روپے سے زائد ہے۔ بجٹ میں سرکاری ملازمین، پنشنرز، تنخواہ دار طبقے اور کاروباری برادری کے لیے مختلف مراعات اور ٹیکس اصلاحات تجویز کی گئی ہیں۔

قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر سردار ایاز صادق کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ وزیراعظم شہباز شریف کی ایوان آمد پر حکومتی اراکین نے ڈیسک بجا کر ان کا استقبال کیا۔ بعد ازاں وزیر خزانہ نے بجٹ تقریر کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت کا یہ تیسرا بجٹ ہے اور اسے پیش کرنا ان کے لیے اعزاز کی بات ہے۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ گزشتہ برس ملکی دفاع نے نئی تاریخ رقم کی اور پاکستان کی عسکری صلاحیتوں کو عالمی سطح پر پذیرائی ملی۔ ان کے مطابق پاکستان کی سفارتی اور دفاعی حیثیت مزید مستحکم ہوئی ہے جبکہ سعودی عرب اور چین کے ساتھ تعلقات بھی مزید مضبوط ہوئے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ملکی معیشت کا حجم 452 ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے جبکہ فی کس آمدنی 1901 ڈالر ہو گئی ہے۔ زرمبادلہ کے ذخائر بڑھ کر 17 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے ہیں اور بیرون ملک پاکستانیوں کی ترسیلات زر رواں مالی سال میں 41 ارب ڈالر سے زیادہ رہنے کا امکان ہے۔

ترقیاتی منصوبوں کے لیے 3675 ارب روپے مختص

حکومت نے آئندہ مالی سال کے قومی ترقیاتی پروگرام کے لیے 3675 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی ہے۔ اس میں وفاقی ترقیاتی پروگرام کے لیے ایک ہزار ارب روپے جبکہ صوبائی ترقیاتی منصوبوں کے لیے 2224 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔

شاہراہوں، ریلوے، بندرگاہوں اور دیگر بنیادی ڈھانچے کی تعمیر و ترقی کے لیے خصوصی فنڈز مختص کیے گئے ہیں جبکہ ٹرانسپورٹ سیکٹر کے لیے 365 ارب روپے تجویز کیے گئے ہیں۔

سرکاری ملازمین اور پنشنرز کے لیے خوشخبری

بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن میں 7 فیصد اضافے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ کم از کم ماہانہ اجرت میں 10 فیصد اضافے کی سفارش بھی شامل ہے۔

دفاعی بجٹ میں اضافہ

حکومت نے ملکی دفاع کے لیے 3010 ارب 90 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز دی ہے۔ اس رقم میں دفاعی ملازمین کے اخراجات، آپریشنل ضروریات، دفاعی اثاثوں کی خریداری اور سول ورکس کے لیے مختص فنڈز شامل ہیں۔

بی آئی ایس پی اور کفالت پروگرام کا دائرہ وسیع

وزیر خزانہ نے اعلان کیا کہ کفالت پروگرام کو 1 کروڑ 20 لاکھ خاندانوں تک توسیع دی جائے گی۔ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے لیے 838 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 17 فیصد زیادہ ہے۔

آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے لیے فنڈز

بجٹ میں آزاد جموں و کشمیر کے لیے 146 ارب روپے جبکہ گلگت بلتستان کے لیے 88 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔

تنخواہ دار طبقے کے لیے ٹیکس میں کمی

حکومت نے مختلف آمدنی کے سلیبز میں انکم ٹیکس کی شرح کم کرنے کی تجویز دی ہے۔ سالانہ 22 سے 32 لاکھ روپے آمدنی والوں کے لیے ٹیکس کی شرح 23 فیصد سے کم کرکے 20 فیصد کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

اسی طرح 32 سے 41 لاکھ، 41 سے 56 لاکھ اور 56 سے 70 لاکھ روپے آمدنی والے افراد کے لیے بھی ٹیکس کی شرحوں میں کمی تجویز کی گئی ہے۔ تنخواہ دار افراد پر عائد سرچارج ٹیکس ختم کرنے کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔

جائیداد کی خرید و فروخت پر ٹیکس میں کمی

بجٹ میں فائلرز کے لیے جائیداد کی خریداری پر ود ہولڈنگ ٹیکس 2.5 فیصد سے کم کرکے 1.25 فیصد اور فروخت پر 5.5 فیصد سے کم کرکے 2.75 فیصد کرنے کی تجویز شامل ہے۔

سپر ٹیکس میں نرمی

15 کروڑ سے 50 کروڑ روپے تک آمدنی رکھنے والے کاروباروں پر عائد سپر ٹیکس ختم کرنے کی تجویز دی گئی ہے جبکہ 50 کروڑ روپے سے زائد آمدنی والوں کے لیے سپر ٹیکس 10 فیصد سے کم کرکے 8 فیصد کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

ڈیجیٹل بینکنگ میں نمایاں اضافہ

وزیر خزانہ کے مطابق ملک میں ڈیجیٹل بینکنگ استعمال کرنے والوں کی تعداد 13 کروڑ 30 لاکھ تک پہنچ گئی ہے جبکہ سالانہ ڈیجیٹل لین دین 10 ارب سے تجاوز کر چکا ہے۔ مزید برآں 16 لاکھ سے زائد تاجر ڈیجیٹل ادائیگیوں کے نظام سے منسلک ہو چکے ہیں۔

غیر ملکی اثاثوں اور بیرون ملک ادائیگیوں سے متعلق تجاویز

بجٹ میں غیر ملکی اثاثوں پر عائد کیپیٹل ویلیو ٹیکس ختم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اسی طرح کریڈٹ اور ڈیبٹ کارڈز کے ذریعے بیرون ملک ادائیگیوں پر ود ہولڈنگ ٹیکس 0.5 فیصد مقرر کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

گاڑیوں پر نئے ٹیکس

حکومت نے درآمدی گاڑیوں پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد کرنے کی تجویز دی ہے۔ 2000 سے 3000 سی سی تک کی ایس یو ویز اور 3000 سی سی سے بڑی گاڑیوں پر بھی اضافی ڈیوٹی لگانے کی سفارش کی گئی ہے۔ 2 کروڑ روپے سے زائد مالیت کی الیکٹرک گاڑیوں کو بھی اس ڈیوٹی کے دائرے میں لانے کی تجویز دی گئی ہے۔

تاہم الیکٹرک موٹر سائیکلوں، رکشوں اور بسوں کے لیے موجودہ مراعات برقرار رکھنے کا اعلان کیا گیا ہے۔

چھوٹے تاجروں کے لیے آسان ٹیکس نظام

وزیر خزانہ نے سالانہ 20 کروڑ روپے تک فروخت رکھنے والے چھوٹے دکانداروں کے لیے فکس ٹیکس اسکیم متعارف کرانے کی تجویز دی ہے۔ اس نظام کے تحت دکاندار اپنی سالانہ فروخت کا ایک فیصد ٹیکس ادا کریں گے جبکہ انہیں کئی ریگولیٹری شرائط اور معمول کے آڈٹ سے استثنا حاصل ہوگا۔

توانائی اور آبی منصوبوں کے لیے فنڈز

حکومت نے بجلی کے شعبے کے لیے 116 ارب 20 کروڑ روپے مختص کیے ہیں۔ دیامر بھاشا ڈیم، مہمند ڈیم، داسو ہائیڈرو پاور منصوبے اور کراچی کے کے-فور واٹر سپلائی منصوبے کے لیے بھی اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

بجٹ تقریر کے دوران اپوزیشن کا احتجاج

بجٹ اجلاس کے دوران اپوزیشن اراکین نے حکومت کے خلاف نعرے بازی اور احتجاج کیا۔ بعض اراکین پلے کارڈز اٹھا کر ایوان میں آئے جبکہ حکومتی اور اپوزیشن ارکان کے درمیان تلخ کلامی بھی دیکھنے میں آئی۔

اس سے قبل وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ نے بجٹ دستاویزات اور فنانس بل کی منظوری دی، جس کے بعد قومی اسمبلی میں بجٹ پیش کیا گیا۔

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اردو رپورٹ جملہ حقوق محفوظ ہیں

Your license hasn’t been activated yet. Activate it now!