اردوEnglish
جمعرات, 22 اکتوبر 2026
  • Home  
  • فرانس میں شیمونڈا وائرس کا انسان میں پہلا کیس، یہ اتنا خطرناک کیوں؟
- صحت و تندرستی

فرانس میں شیمونڈا وائرس کا انسان میں پہلا کیس، یہ اتنا خطرناک کیوں؟

فرانس کے شہر لیون میں شیمونڈا وائرس سے متاثرہ مریض کی موت ہوگئی، جس کے بعد انسانوں میں اس وائرس کا پہلا دستاویزی کیس سامنے آیا ہے۔ حکام مریض کی موت سے وائرس کے ممکنہ تعلق کی تحقیقات کر رہے ہیں۔

اردو رپورٹ ڈیسک

فرانس میں مویشیوں میں پائے جانے والے شیمونڈا وائرس سے انسان کے متاثر ہونے کا دنیا کا پہلا دستاویزی کیس سامنے آیا ہے۔ وائرس سے متاثرہ مریض کی فرانس کے شہر لیون کے ایک اسپتال میں موت ہوگئی، تاہم حکام تحقیقات کر رہے ہیں کہ آیا وائرس اس موت کا سبب بنا یا نہیں۔

فرانس کی وزارت صحت اور وزارت زراعت نے مشترکہ بیان میں اس واقعے کو انسانوں میں شیمونڈا وائرس کی منتقلی کا پہلا مصدقہ کیس قرار دیا ہے۔ اس سے قبل خیال کیا جاتا تھا کہ یہ وائرس انسانوں کو متاثر نہیں کرسکتا۔

حکام کے مطابق متاثرہ مریض ایک سنگین بیماری کے علاج کے لیے اسپتال میں زیر علاج تھا۔ یہ کیس اس لیے بھی غیرمعمولی قرار دیا گیا ہے کہ مریض کا مدافعتی نظام شدید کمزور تھا۔

شیمونڈا وائرس کیا ہے اور کیسے پھیلتا ہے؟

شیمونڈا وائرس ان وائرسوں کے گروہ سے تعلق رکھتا ہے جو کاٹنے والے چھوٹے حشرات، بالخصوص کولی کوائڈز مِج نامی مکھیوں کے ذریعے پھیلتے ہیں۔

فرانسیسی وزارت صحت کے مطابق ابتدائی تحقیقات سے شبہ ظاہر کیا گیا ہے کہ مشرقی فرانس میں رہنے والا مریض ان مکھیوں میں سے کسی ایک کے کاٹنے سے وائرس کا شکار ہوا۔ اس سال اس علاقے کے مویشیوں میں بھی وائرس کی موجودگی کی تصدیق ہوئی تھی۔

حکام مریض کے وائرس سے متاثر ہونے کے حالات اور اس کی موت سے ممکنہ تعلق کا تعین کرنے کے لیے مزید تحقیقات کر رہے ہیں۔

وائرس کی تاریخ اور مویشیوں پر اثرات

شیمونڈا وائرس کی پہلی شناخت 1960 کی دہائی کے وسط میں نائیجیریا میں ہوئی تھی۔ اس کے بعد افریقہ کے مغربی، مشرقی اور جنوبی علاقوں کے علاوہ جاپان میں بھی مویشیوں میں اس وائرس کے کیسز وقفے وقفے سے سامنے آتے رہے ہیں۔

یہ وائرس کئی دہائیوں سے افریقہ اور ایشیا کے بعض علاقوں میں مویشیوں، خصوصاً گائے، میں پایا جاتا ہے۔

بیلجیئم کے قومی ادارہ صحت سائنسیسانو کے مطابق وائرس سے متاثرہ بالغ گائیوں میں بخار، سستی اور اسہال جیسی علامات ظاہر ہوسکتی ہیں۔ دودھ دینے والی گائیوں میں دودھ کی پیداوار بھی نمایاں طور پر کم ہوسکتی ہے۔

یورپ کے متعدد ممالک میں وائرس کی موجودگی

شیمونڈا وائرس رواں سال پہلی مرتبہ مغربی یورپ میں سامنے آیا۔ آسٹریا، بیلجیئم، فرانس، جرمنی، آئرلینڈ، اٹلی، لیختنشتائن، لکسمبرگ، نیدرلینڈز، پرتگال، اسپین اور سوئٹزرلینڈ میں اس کے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔

فرانس میں اب تک وائرس کے زیادہ تر کیسز مویشیوں، خصوصاً گائیوں، میں سامنے آئے ہیں۔ موسم گرما کے دوران بھیڑوں، بکریوں اور گھوڑوں میں بھی اس وائرس کے چند کیسز رپورٹ ہوئے تھے۔

یورپ کے مختلف ممالک میں وائرس کی موجودگی کے بعد حکام مویشیوں میں اس کے پھیلاؤ کی نگرانی کر رہے ہیں۔

ویکسین دستیاب نہیں، عوام کے لیے خطرہ کم قرار

شیمونڈا وائرس سے بچاؤ کے لیے فی الحال کوئی ویکسین دستیاب نہیں ہے۔ تاہم فرانسیسی حکام اور یورپی مرکز برائے انسداد امراض و کنٹرول کے مطابق موجودہ شواہد کی بنیاد پر عام آبادی کے لیے اس وائرس کا خطرہ نہ ہونے کے برابر ہے۔

حکام کے مطابق انسانی انفیکشن کا یہ غیرمعمولی کیس ایسے مریض میں سامنے آیا جس کا مدافعتی نظام شدید کمزور تھا۔ فی الحال ایسے کوئی شواہد نہیں ملے کہ یہ وائرس انسانوں کے درمیان منتقل ہورہا ہے یا انسانوں میں وبا کی شکل اختیار کر رہا ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے تعاون سے اس کیس کی مزید تحقیقات جاری ہیں تاکہ وائرس کی انسان تک منتقلی کے طریقے اور انسانی صحت پر اس کے ممکنہ اثرات کا تعین کیا جاسکے۔

urdureport.com@2025. All Rights Reserved

Your license hasn’t been activated yet. Activate it now!