اسلام آباد میں وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے ایک بڑی کارروائی کے دوران مبینہ طور پر 500 کلوگرام انسانی پلیسینٹا Placenta برآمد کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ حکام کے مطابق یہ پاکستان میں اپنی نوعیت کا پہلا کیس ہے، جس میں انسانی پلیسینٹا کی مبینہ غیرقانونی خرید و فروخت اور بیرونِ ملک اسمگلنگ میں ملوث ایک منظم گروہ کا سراغ ملا ہے۔
ایف آئی اے نے ہیومن آرگن ٹرانسپلانٹ اتھارٹی (ہوٹا) کے تعاون سے اسلام آباد کے سیکٹر ایف-7 اور ای-11 میں چھاپے مارے، جہاں سے بڑی مقدار میں پلیسینٹا، پروسیسنگ مشینری اور دیگر سامان قبضے میں لیا گیا۔ کارروائی کے دوران تین چینی شہریوں سمیت پانچ افراد کو گرفتار کیا گیا، جبکہ مزید تین افراد سے تفتیش جاری ہے۔

ایف آئی اے کی جانب سے 26 جون 2026 کو جاری کی گئی تصویر، جس میں اسلام آباد سے انسانی پلیسینٹا کی مبینہ غیرقانونی اسمگلنگ کے الزام میں گرفتار کیے گئے افراد کو دکھایا گیا ہے۔
پلیسینٹا کیسے جمع کیا جاتا تھا؟
ابتدائی تحقیقات کے مطابق ملزمان اسلام آباد اور راولپنڈی کے مختلف ہسپتالوں سے تقریباً 800 روپے فی پلیسینٹا کے حساب سے یہ مواد حاصل کرتے تھے۔ بعد ازاں اسے مخصوص مقامات پر محفوظ اور پروسیس کرکے مبینہ طور پر بیرون ملک بھیجنے کی تیاری کی جاتی تھی جہاں مبینہ طور پر اس ی قیمت کروڑوں روپے ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ ملزمان ابتدا میں دعویٰ کرتے رہے کہ یہ بھیڑ کا پلیسینٹا ہے، تاہم دورانِ تفتیش انہوں نے مبینہ طور پر اعتراف کیا کہ یہ انسانی پلیسینٹا ہے۔ تاہم اس دعوے کی حتمی تصدیق فرانزک تجزیے کے بعد ہی ممکن ہوگی۔
لیبارٹری رپورٹ کا انتظار
برآمد شدہ نمونے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کے ذریعے پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی لاہور بھیج دیے گئے ہیں۔ متعلقہ حکام کا کہنا ہے کہ حتمی لیبارٹری رپورٹ آنے کے بعد مزید قانونی کارروائی کی جائے گی۔
پلیسینٹا کیا ہوتا ہے؟
پلیسینٹا حمل کے دوران رحمِ مادر میں بننے والا ایک عارضی عضو ہوتا ہے، جو نال (Umbilical Cord) کے ذریعے بچے سے منسلک رہتا ہے۔ اس کا بنیادی کام بچے کو آکسیجن اور غذائی اجزا فراہم کرنا اور جسم سے فضلہ خارج کرنے میں مدد دینا ہوتا ہے۔ بچے کی پیدائش کے بعد یہ عضو جسم سے خارج ہو جاتا ہے اور طبی فضلہ (Medical Waste) تصور کیا جاتا ہے۔
عام حالات میں اس کا کیا ہوتا ہے؟
طبی ماہرین کے مطابق پیدائش کے بعد پلیسینٹا کو بائیو ہیزرڈ ویسٹ کے طور پر محفوظ طریقے سے تلف کیا جاتا ہے۔ ہسپتالوں میں اسے مخصوص کنٹینرز میں رکھ کر 24 گھنٹوں کے اندر مقررہ ضوابط کے مطابق جلا کر یا دیگر منظور شدہ طریقوں سے ضائع کیا جاتا ہے۔
پلیسینٹا کہاں استعمال ہوتا ہے؟
ماہرین کے مطابق دنیا کے بعض ممالک میں پلیسینٹا سے ادویات، زخم بھرنے والی مصنوعات، کاسمیٹک مصنوعات اور ری جنریٹو میڈیسن میں استعمال ہونے والا مواد تیار کیا جاتا ہے۔ بعض تحقیقات کے مطابق اس میں موجود حیاتیاتی اجزا طبی مقاصد کے لیے کارآمد سمجھے جاتے ہیں، تاہم پاکستان میں انسانی پلیسینٹا کی خرید و فروخت قانوناً ممنوع ہے۔
مذید خبریں
کراچی: تین سالہ بچی کے اغوا مبینہ زیادتی اور قتل،کوئی بوری بند لاش چھوڑ گیا – urdureport.com
سرگودھا آٹھ سالہ بچی زیادتی و قتل ! اصل واقعہ کیسے ہوا – urdureport.com
مقدمہ درج
ایف آئی اے نے ملزمان کے خلاف انسانی اعضا و ٹشوز ٹرانسپلانٹیشن ایکٹ 2010 اور پاکستان پینل کوڈ کی متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔ جرم ثابت ہونے کی صورت میں ملزمان کو دس سال تک قید اور بھاری جرمانے کی سزا ہو سکتی ہے۔
تحقیقات جاری ہیں اور حکام اس بات کا بھی جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا اس نیٹ ورک میں ہسپتالوں کے بعض اہلکار بھی ملوث تھے یا نہیں۔


