اردو رپورٹ ڈیسک
انسداد دہشت گردی عدالت اسلام آباد نے ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کے 30 روزہ جسمانی ریمانڈ کی پولیس کی درخواست مسترد کرتے ہوئے دونوں کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔
ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو سپریم کورٹ کی جانب سے ضمانت اور سزائیں معطل کیے جانے کے بعد تھانہ کوہسار میں درج ایک مقدمے میں دوبارہ گرفتار کیا گیا اور عدالت میں پیش کیا گیا۔

جسمانی ریمانڈ کی درخواست مسترد
پولیس نے عدالت سے دونوں کے 30 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی، تاہم انسداد دہشت گردی عدالت نے درخواست مسترد کردی اور دونوں کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دیا۔
کیس کی سماعت خصوصی عدالت کے جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین نے کی۔
سپریم کورٹ سے ضمانت اور سزائیں معطل
اس سے قبل 17 ستمبر کو سپریم کورٹ نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزائیں معطل کرتے ہوئے انہیں ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔ عدالت نے ضمانت اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیر سماعت مقدمے کے حتمی فیصلے تک دی تھی۔
سپریم کورٹ نے دونوں کو 2،2 لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکوں کے عوض ضمانت دی تھی۔ سماعت کے دوران جسٹس نعیم اختر افغان نے ریمارکس دیے کہ دونوں وکیل ہیں اور عدالت ان کی عزت کا خیال رکھ رہی ہے، تاہم انہیں بھی عدالت کے ڈیکورم کا خیال رکھنا چاہیے۔
جنوری میں 17،17 سال قید کی سزا
ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو جنوری 2026 میں سوشل میڈیا پوسٹس سے متعلق مقدمے میں مختلف دفعات کے تحت 17،17 سال قید کی سزائیں سنائی گئی تھیں۔ عدالت نے ان کے خلاف انسدادِ الیکٹرانک جرائم ایکٹ کے تحت مقدمہ چلایا تھا۔
سپریم کورٹ کی جانب سے سزائیں معطل کیے جانے کے چند گھنٹے بعد دونوں کو تھانہ کوہسار میں درج دوسرے مقدمے میں دوبارہ گرفتار کرلیا گیا، جس کے بعد انہیں انسداد دہشت گردی عدالت میں پیش کیا گیا۔


