پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیرمین عمران خان نے جیل میں اپنی روز مرہ کی مصروفیات اور مشکلات کے بارئے فرینڈ آف دی کورٹ سلمان صفدر کو جو بتایا وہ انہوں نے رپورٹ میں لکھ کر سپریم کورٹ کو پیش کر دیا۔سپریم کورٹ کی ہدایات پر بطور فرینڈ آف دی کورٹ سلمان صفدر نے اڈیالہ جیل کا دورہ کرنے کے بعد اپنی رپورٹ میں یہ بتایا تھا کہ عمران خان کی ایک انکھ کی بینائی صرف 15 فیصد باقی ہے۔

عدالت کو جمع کرائی گئی رپورٹ میں یہ بتایا گیا کہ عمران خان نے سلمان صفدر کو بتایا کہ جو احاطہ انھیں دیا گیا ہے اس میں نگرانی کرنے والے 10 کیمرے ہیں، ایک کیمرے کی پہنچ وہاں تک ہے جہاں وہ شاور لیتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق عمران خان نے سلمان صفدر کو بتایا کہ ’انھیں زیادہ کسی چیز کی خواہش نہیں، وہ صرف ان چیزوں کی فراہمی کی توقع رکھتے ہیں جو ان کی بقا کے لیے ضروری ہیں۔’
عمران خان کے کھانے کا معمول
رپورٹ کے مطابق عمران خان صبح نو بج کر 45 منٹ پر ناشتہ کرتے ہیں۔ پھر تقریباً ساڑھے 11 بجے تک قرآن پڑھتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق عمران خان نے انھیں بتایا کہ صبح ناشے میں وہ کافی کا ایک کپ، دلیہ اور چند کھجوریں لیتے ہیں۔
دوپہر کے کھانے میں کیا کھانا ہے، اس کی ہفتہ وار ترتیب بھی عمران خان خود بناتے ہیں اور اخراجات ان کا خاندان ادا کرتا ہے۔
رات کے کھانے میں وہ صرف پھل، دودھ اور کھجوریں لیتے ہیں۔
اس میں دو دن چکن، دو دن گوشت، دو دن دال اور دو دن چاٹ یا اس نوع کا ہلکا پھلکا کھانا ہوتا ہے۔
دیگر مصروفیات
ناشتے اور تلاوت قران پاک کے بعد وہ ورزش کے لیے دستیاب سامان پر ورزش کرتے ہیں۔ اس سامان میں ایک ورزش کرنے والی سائیکل ہے، نو کلو گرام وزن والے دو ڈمبل اور ایک بار شامل ہیں۔
دوپہر ایک بج کر 15 منٹ پر غسل کرنے کے بعد عمران خان کو احاطے میں چہل قدمی کی اجازت دی جاتی ہے جس میں ان کی مرضی ہوتی ہے کہ وہ بیٹھے رہیں یا واک کریں ۔
عمران خان دوپہر کا کھانا ساڑھے تین بجے سے لے کر چار بجے تک کھاتے ہیں اور شام کے پانچ بجے انھیں ایک بار پھر چہل قدمی کی اجازت دی جاتی ہے۔
شام ساڑھے پانچ سے اگلی صبح 10 بجے تک انھیں جیل کی کوٹھڑی میں بند کر دیا جاتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق عمران خان کو پینے کے لیے نیسلے کا بوتل والا پانی دیا جاتا ہے۔
عمران خان کو جیل کی کوٹھٹری میں دستیاب سہولتیں

رپورٹ کے مطابق عمران خان کو جیل کی ان کی کوٹھڑی میں ایک کرسی، میز، بیڈ اور ہینگر ہے، دن اور رات کے وقت روشنی اور ہوا کا مناسب انتظام کیا ہوا ہے۔،جیل کی کوٹھڑی میں کوئی برتن یا چمچ کانٹے وغیرہ نہیں رکھے جاتے۔
سلمان صفدر کی رپورٹ میں عدالت کو بتایا گیا کہ عمران خان نے انھیں بتایا کہ کپڑے دھونے، صفائی کرنے، بستر کی چادریں بدلنے اور غسل خانہ صاف کرنے میں مدد کے لیے انھیں ایک مشقتی دیا گیا ہے۔
عمران خان نے کہا کہ وہ صفائی کے انتظامات سے مطمئن ہیں اور غسل خانے کی ضرورت کی اشیا بھی مانگنے پر فراہم کر دی جاتی ہیں۔
عمران خان نے بتایا کہ سردیوں کے دوران انھیں درمیانے سائز کا ہیٹر فراہم کیا جاتا ہے اور گرم پانی ہر وقت دستیاب رہتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق عمران خان نے بتایا کہ گرمیوں کے موسم میں حالات زندگی خاص طور پر مشکل ہو جاتے ہیں کیوں کہ ’ایک تو شدید گرمی اور حبس ہوتا ہے، دوسرا، مکھیاں اور مچھر کنٹرول کرنے کے انتظامات بھی ناکافی ہیں۔
عمران خان نے کہا کہ وہ مچھروں کو بھگانے والا لوشن لگاتے ہیں اور ان کے پاس کمرے میں ایئر کولر بھی ہے لیکن زیادہ فائدہ نہیں ہوتا۔‘
عمران خان نے کہا کہ اس وجہ سے گرمیوں کا موسم خاص طور پر مشکل رہتا ہے اور ان کی نیند اور آرام متاثر ہوتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق عمران خان کو فریج فراہم نہیں کیا گیا ہے بلکہ چیزیں ٹھنڈی رکھنے والا ایک ڈبہ دیا گیا ہے لیکن شدید موسم میں اس کا زیادہ فائدہ نہیں ہوتا۔
عمران خان نے بتایا کہ گرمیوں کے مہینوں میں دو یا تین بار وہ فوڈ پوائزننگ کا شکار ہوئے۔
عدالت کو جمع کرائی گئی رپورٹ کے مطابق عمران خان نے سلمان صفدر کو بتایا کہ جو احاطہ انھیں دیا گیا ہے اس میں نگرانی کرنے والے 10 کیمرے ہیں، ایک کیمرے کی پہنچ وہاں تک ہے جہاں وہ شاور لیتے ہیں۔
لیکن ان کی کوٹھڑی کے اندر کوئی کیمرہ نہیں لگایا گیا۔
عمران خان نے کس چیز کا مطالبہ کیا؟
رپورٹ کے مطابق عمران خان نے یہ شکایت کی کہ انھیں اپنے وکیل اور قانونی ٹیم سے ملاقات نہیں کرنے دی جا رہی۔ جس کی وجہ سے وہ اپنے کیسز کی اپ ڈیٹ نہیں لے پا رہے اور اپنی ٹیم کو ہدایات نہیں دے پا رہے۔
سلمان صفدر کو عمران خان نے یہ بھی بتایا کہ ان کی بہنوں اور اہل خانہ کو بھی ان سے ملنے نہیں دیا جا رہا۔
جب کہ نئے سپرنٹنڈنٹ جیل کی تعیناتی کے بعد انھیں ہر منگل کو 30 منٹ کے لیے اپنی بیگم بشریٰ بی بی سے ملنے دیا جاتا ہے۔
انھوں نے بتایا کہ عدالتی احکامات کے باوجود سنہ 2025 میں صرف دو بار ان کی برطانیہ میں موجود اپنے بیٹوں قاسم اور سلیمان سے ملاقات کرائی گئی۔
رپورٹ کے مطابق عمران خان نے سلمان صفدر کو بتایا کہ ’انھیں زیادہ کسی چیز کی خواہش نہیں، وہ صرف ان چیزوں کی فراہمی کی توقع رکھتے ہیں جو ان کی بقا کے لیے ضروری ہیں۔’

رپورٹ میں لکھا ہے گفتگو کے بعد سلمان صفدر سپرنٹنڈنٹ اور ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ کے ہمراہ وہ حالات دیکھنے گئے جن میں عمران خان کو رکھا جا رہا ہے۔ جبکہ عمران خان اپنی اہلیہ سے ملاقات کے لیے چلے گئے۔
سلمان صفدر لکھتے ہیں کہ جس احاطے میں عمران خان کو رکھا گیا ہے اس کے گرد دیواریں 12 فٹ کی ہیں اور ان پر خاردار تاریں لگائی گئی ہیں۔
ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ جیل نے بتایا کہ یہاں پانچ وارڈر اور ایک نائب سپرنٹنڈٹ ہفتے کے ساتوں دن 24 گھنٹے موجود رہتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق احاطے میں ایک 12 ضرب 30 فٹ کا سبز قطعہ بھی ہے۔ بتایا گیا کہ یہاں دن کے وقت عمران خان ورزش کرتے ہیں، چہل قدمی کرتے ہیں اور دھوپ سینکتے ہیں۔
اس کے بعد سلمان کو کچن لے جایا گیا۔ کھانا پکانے کا سامان اور مصالحہ جات وہاں موجود تھے۔ سلمان صفدر نے لکھا ہے کہ وہاں صفائی کچھ زیادہ بہتر ہو سکتی تھی۔
عمران خان کی جیل کی کوٹھڑی میں کیا دیکھا؟
رپورٹ کے مطابق سلمان صفدر نے لکھا کہ جیل کی کوٹھڑی میں ہائی وولٹیج کے تین لائٹ بلب، ایک چھت والا پنکھا، ایک گرم ہوا پھینکنے والا ہیٹر، دو میزیں، ایک دیوار گیر گھڑی، ایک بستر، ایک کرسی اور ایک چھوٹی الماری تھی۔

سلمان صفدر بتاتے ہیں کہ کوٹھڑی کی دیوار پر 32 انچ کا ٹی وی نصب تھا۔ جب اسے چلانے کی درخواست کی گئی تو معلوم ہوا کہ وہ کام نہیں کر رہا تھا۔
عمران خان کی کوٹھٹری میں کپٹرے لٹکانے کے لیے کوئی الماری نہیں تھی اس لیے عمران خان کے کپڑے بکھرے پڑے تھے۔
سلمان صفدر لکھتے ہیں کہ جب معائنہ کیا تو انھیں وہ کرسی بھی غیر آرام دہ محسوس ہوئی جو عمران خان کی کوٹھڑی میں ہے۔
رپورٹ کے مطابق عمران خان کے جیل کی کوٹھڑی میں جو بستر تھا اس پر ایک گدا، چار تکیے اور دو کمبل پڑے تھے۔
عمران خان کے بستر کے نیچے جوتوں کے چار جوڑے رکھے تھے۔ فرش پر ایک قالین، جائے نماز، تسبیح اور دو تولیے موجود تھے ۔
رپورٹ میں لکھا ہے کہ عمران خان کی جیل کی کوٹھڑی میں 100 کتابیں، دو سیب، دو ڈمبیل، ٹشو پیپر، ائیرفریشنر، شیونگ جیل اور شیونگ کٹ پڑی تھی۔
عمران خان کے غسل خانے کے واش بیسن میں گرم اور ٹھنڈے پانی کا انتظام تھا۔ ایک آئینہ بھی غسل خانے میں رکھا گیا تھا۔
سلمان صفدر لکھتے ہیں ٹوائلٹ جیل کے کمرے کے ساتھ ہی ہے لیکن اس میں ہوا باہر پھینکنے کا کوئی نظام نصب نہیں جبکہ صفائی بھی کچھ بہتر ہو سکتی تھی۔
رپورٹ کے مطابق عمران خان نے اپنے تحفظ کے انتظامات، جیل کے اندر زندگی کے حالات اور کھانے کی فراہمی پر اطمینان کا اظہار کیا۔
رپورٹ میں سلمان صفدر نے سفارش کی کہ عمران خان کی آنکھ کی بیماری پر سنجیدگی سے توجہ دی جائے اور ماہرین کی ایک ٹیم سے معائنہ کرایا جائے۔
’عمران خان کے ذاتی ڈاکٹرز کو بھی ان تک رسائی دی جائے، عمران خان جو کتابیں چاہیں ان کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔
عمران خان کو اپنے رشتہ داروں سے ملاقات اور بیٹوں سے بات کی اجازت دی جائے، وکلا سے ملاقات کی اجازت دی جائے۔
یہ بھی پڑھئِے

