وفاقی آئینی عدالت نے سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی رہائی کے لیے مبینہ ’رہائی فورس‘ کی تشکیل کے خلاف دائر درخواست پر اہم پیش رفت کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کو نوٹس جاری کر دیا ہے۔ عدالت نے ان سے 10 روز کے اندر جواب طلب کیا ہے۔
آئینی بینچ کی سربراہی جسٹس امین الدین خان کر رہے تھے، جنہوں نے سماعت کے دوران ریمارکس دیے کہ کسی سزا یافتہ شخص کی رہائی کے لیے اس نوعیت کی فورس کی تشکیل مناسب نہیں۔ عدالت نے اس بات پر بھی زور دیا کہ قانون کی کسی بھی خلاف ورزی کو ہر صورت روکا جانا چاہیے۔
درخواست گزار کا موقف اور عدالتی ریمارکس
یہ درخواست ملک ظہیر ایڈووکیٹ کی جانب سے دائر کی گئی، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ عمران خان سزا یافتہ ہیں اور ان کو قانون کے مطابق سزا سنائی جا چکی ہے اور وہ اس وقت اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔
درخواست گزار کے مطابق عمران خان کی اپیلیں اس وقت اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیرِ سماعت ہیں، اس لیے کسی غیر قانونی اقدام کے ذریعے رہائی کی کوشش آئین کے مطابق درست اقدام نہیں ہو گا۔
درخواست میں یہ سوال بھی اٹھایا گیا کہ ایک منتخب وزیر اعلیٰ کو ایسی فورس بنانے کا کوئی اختیار نہیں وہ کس طرح ایک سزا یافتہ شخص کی رہائی کے لیے فورس بنانے کا اعلان کر سکتا ہے۔
وکیل نے کہا کہ ایسا کوئی اقدام جو کہ صوبائی کابینہ کی منظوری کے بغیر سامنے آیا ہے۔ عدالت نے بھی اس پہلو پر توجہ دیتے ہوئے استفسار کیا کہ آیا اس حوالے سے کابینہ میں کوئی باقاعدہ منظوری دی گئی ہے یا نہیں۔
سماعت کے دوران بینچ کے رکن جسٹس علی باقر نجفی کے استفسار پر بتایا گیا کہ کے پی حکومت کی کابینہ کے کسی اجلاس میں ایسی کوئی تجویز پیش نہیں کی گئی۔
عدالت نے اپنے ریمارکس میں واضح کیا کہ ملک میں امن و امان اور آئین کی پاسداری اولین ترجیح ہونی چاہیے،وفاقی حکومت یقینی بنائے کہ کسی بھی سطح پر قانون کی خلاف ورزی نہ ہو
درخواست گزار نے اپنے دلائل میں ملک کو درپیش سکیورٹی چیلنجز اور اس حوالے سے عدالتی فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ ایسے اقدامات عوامی مفاد کے خلاف ہو سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئِے


