دنیا بھر کے سابق بین الاقوامی کرکٹ کپتانوں نے پاکستان کے سابق وزیرِ اعظم اور قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان عمران خان کی صحت اور جیل میں حالاتِ قید پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومتِ پاکستان سے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔
اس پٹیشن کو سائن کرنے والوں میں آسٹریلیا کے ایلن بارڈر، گریگ چیپل، ایان چیپل، بیلنڈا کلارک، کم ہیوز اور اسٹیو وا، بھارت کے کپل دیو اور سنیل گواسکر، ویسٹ انڈیز کے کلائیو لائیڈ، انگلینڈ کے مائیک آتھرٹن، مائیکل بریئرلی، ڈیوڈ گوور اور ناصر حسین جبکہ نیوزی لینڈ کے جان رائٹ اس اپیل میں شامل سابق کپتانوں میں نمایاں ہیں۔
اس اپیل کی توثیق کرنے والوں میں مائیکل آتھرٹن، ایلن بارڈر، مائیکل بریئرلی، گریگ چیپل، ایان چیپل، بیلمندا کلارک، سنیل گواسکر، ڈیوڈ گوور، کم ہیوز، ناصر حسین، سر کلائیو لائیڈ، کپل دیو، اسٹیفن وا اور جان رائٹ سمیت دیگر معروف سابق کپتان شامل ہیں۔
14 former international cricket captains requesting Pakistan Govt for fair medical treatment, dignified detention conditions and fair trial for Imran Khan These guys including Kapil Dev, Sunil Gavaskar and signed by others. pic.twitter.com/HMtFoQeDCl
— Urdu Report (@UrduReportpk) February 17, 2026
اپنے مشترکہ بیان میں سابق کپتانوں کا کہنا ہے کہ عمران خان کی کرکٹ کے لیے خدمات ناقابلِ فراموش ہیں۔ بطور کپتان انہوں نے پاکستان کو 1992 کے کرکٹ ورلڈ کپ میں تاریخی فتح دلائی، جو مہارت، حوصلے، قیادت اور اسپورٹس مین شپ کا شاندار مظہر تھی اور جس نے دنیا بھر میں نسلوں کو متاثر کیا۔
بیان میں کہا گیا کہ ان میں سے کئی کھلاڑی عمران خان کے خلاف کھیل چکے ہیں، ان کے ساتھ میدان میں شریک رہے یا ان کی آل راؤنڈ کارکردگی، کرشماتی شخصیت اور مسابقتی جذبے سے متاثر ہو کر بڑے ہوئے۔ وہ کرکٹ کی تاریخ کے عظیم ترین آل راؤنڈرز اور کپتانوں میں شمار ہوتے ہیں اور کھلاڑیوں، شائقین اور منتظمین سب میں یکساں احترام رکھتے ہیں۔
سابق کپتانوں نے کہا کہ کرکٹ کے بعد عمران خان نے پاکستان کے وزیرِ اعظم کے طور پر بھی خدمات انجام دیں اور ایک مشکل دور میں ملک کی قیادت کی۔ سیاسی اختلافات سے قطع نظر وہ جمہوری طریقے سے ملک کے اعلیٰ ترین منصب پر فائز ہوئے۔
بیان میں عمران خان کی صحت خصوصاً دورانِ حراست بینائی میں تشویشناک حد تک کمی اور گزشتہ ڈھائی برس سے قید کے حالات پر شدید تشویش ظاہر کی گئی ہے۔
سابق کپتانوں نے حکومتِ پاکستان سے مطالبہ کیا کہ عمران خان کو:
- اپنی پسند کے ماہر ڈاکٹروں سے فوری، مناسب اور مسلسل طبی سہولیات فراہم کی جائیں؛
- بین الاقوامی معیار کے مطابق انسانی اور باوقار حالاتِ قید مہیا کیے جائیں، جن میں قریبی اہلِ خانہ سے باقاعدہ ملاقاتوں کی اجازت شامل ہو؛
- قانونی کارروائی تک منصفانہ اور شفاف رسائی دی جائے اور کسی غیر ضروری تاخیر یا رکاوٹ سے گریز کیا جائے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ کرکٹ ہمیشہ اقوام کے درمیان ایک پل کا کردار ادا کرتی آئی ہے اور میدان میں مقابلہ ختم ہونے کے بعد احترام باقی رہتا ہے۔ عمران خان نے اپنے کیریئر میں اسی جذبے کی نمائندگی کی۔
سابق کپتانوں نے تمام متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ شائستگی اور انصاف کے اصولوں کو برقرار رکھتے ہوئے اس اپیل پر عمل کیا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ اپیل اسپورٹس مین شپ اور مشترکہ انسانیت کے جذبے کے تحت کی گئی ہے اور اس کا کسی بھی قانونی کارروائی پر کوئی اثر مقصود نہیں۔
یہ بھی پڑھئیے


