واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز سے متعلق ایک نیا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اہم بحری گزرگاہ تمام ممالک کے لیے کھلی رہے گی، تاہم ایران کے جہازوں اور ایران سے وابستہ تجارتی سرگرمیوں پر پابندی عائد کی جائے گی۔
صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں اس اقدام کو "ایرانی ناکہ بندی” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد صرف ایران اور اس کے تجارتی شراکت داروں کو آبنائے ہرمز کے استعمال سے روکنا ہے، جبکہ دیگر ممالک معمول کے مطابق اس راستے سے آمد و رفت جاری رکھ سکیں گے۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ آئندہ آبنائے ہرمز کے تحفظ کا کردار ادا کرے گا، اس لیے یہاں سے گزرنے والے تمام تجارتی سامان پر 20 فیصد معاوضہ وصول کرنے کی تجویز دی گئی ہے تاکہ خطے میں سکیورٹی اور بحری تحفظ کے اخراجات پورے کیے جا سکیں۔ ان کے مطابق اس منصوبے پر فوری طور پر عملدرآمد کے لیے انتظامات شروع کیے جا رہے ہیں۔
ایران کی سفارتی کوششیں
دوسری جانب ایران نے کہا ہے کہ وہ امریکہ کے ساتھ کشیدگی میں مزید اضافے سے بچنے کے لیے قطر، پاکستان اور عمان کے ذریعے سفارتی رابطے جاری رکھے ہوئے ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ یہ تینوں ممالک خطے میں تناؤ کم کرنے اور مزید تصادم سے بچانے کے لیے ثالثی کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق سفارتی کوششوں کا مقصد خطے میں استحکام برقرار رکھنا اور جنگ کے دائرہ کار کو وسیع ہونے سے روکنا ہے۔
امریکی حملے، ایران کا جوابی دعویٰ
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے ایران میں فضائی دفاعی نظام، راڈار تنصیبات، میزائل مراکز، ڈرون انفراسٹرکچر اور ساحلی اہداف پر بڑے پیمانے پر حملوں کا دعویٰ کیا ہے۔
ایران کے نشانے
دوسری جانب ایران کا کہنا ہے کہ اس نے اردن، بحرین اور کویت میں امریکی فوجی تنصیبات اور اڈوں کو نشانہ بنایا۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق جنوبی اور مغربی ایران کے مختلف علاقوں، جن میں قشم، بندر عباس اور خوزستان شامل ہیں، پر امریکی حملے کیے گئے جن میں ایک شہری ہلاک جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے۔
ادھر سفارتی ذرائع کے مطابق جنگ بندی کو برقرار رکھنے اور دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے ثالث ممالک کی کوششیں بدستور جاری ہیں۔


