امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے، جس کے بعد خطے میں نئی جنگ کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔

امریکی صدر Donald Trump کی جانب سے ایران پر ممکنہ فضائی حملوں اور فوجی دباؤ بڑھانے کے اشاروں کے بعد تہران نے سخت ردعمل دیا ہے اور احتجاجی مظاہروں میں ہلاکتوں کے اعدادوشمار پر واشنگٹن سے شواہد پیش کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
اقوام متحدہ کے ماہرین نے بھی ایران میں حالیہ کریک ڈاؤن پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے صورتحال کو سنگین قرار دیا ہے، جب کہ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث خطے کی پروازیں بھی متاثر ہونے کی اطلاعات ہیں۔
تہران کا مؤقف اور اعدادوشمار پر تنازع
ایران کے وزیر خارجہ Abbas Araghchi نے کہا ہے کہ حکومت نے حالیہ احتجاجی واقعات میں 3,117 افراد کی فہرست جاری کی ہے، جنہیں انہوں نے دہشتگرد کارروائیوں کا نشانہ قرار دیا۔
ان کے مطابق ان ہلاک شدگان میں تقریباً 200 سکیورٹی اہلکار بھی شامل ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر کوئی فریق سرکاری اعدادوشمار کو چیلنج کرتا ہے تو وہ اپنے شواہد پیش کرے۔
یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ احتجاج کے دوران 32 ہزار افراد ہلاک ہوئے اور ایرانی عوام انتہائی مشکل حالات میں زندگی گزار رہے ہیں۔
دوسری جانب اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندہ برائے انسانی حقوق مائی ساتو سمیت 30 ماہرین نے مشترکہ بیان میں کہا کہ انٹرنیٹ پر پابندیوں کے باعث اصل تعداد کا تعین مشکل ہے۔ امریکی تنظیم HRANA نے 7 ہزار سے زائد ہلاکتوں کی تصدیق اور مزید ہزاروں کیسز کی تحقیقات کا دعویٰ کیا ہے۔
امریکی فوجی تیاری اور سیاسی پہلو
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق صدر ٹرمپ نے مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی موجودگی میں اضافہ کر دیا ہے، جس میں طیارہ بردار بحری جہاز اور جنگی طیارے شامل ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف کئی ہفتوں پر مشتمل ممکنہ فضائی حملوں کی تیاری جاری ہے، تاہم اس حوالے سے کوئی باضابطہ جواز عوام کے سامنے پیش نہیں کیا گیا۔
وائٹ ہاؤس کے بعض عہدیداروں کے مطابق انتظامیہ کے اندر بھی ایران پر حملے کے معاملے پر مکمل اتفاق رائے موجود نہیں۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے قبل جنگی ماحول ری پبلکن پارٹی کے لیے سیاسی طور پر نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی عوام کی اولین ترجیح مہنگائی اور معاشی مسائل ہیں۔
ایران کا ردعمل اور خطے کی صورتحال
ایران پہلے ہی خبردار کر چکا ہے کہ اگر اس کے جوہری مراکز کو نشانہ بنایا گیا تو وہ سخت جواب دے گا۔
صدر ٹرمپ متعدد بار کہہ چکے ہیں کہ ایران کو یورینیم افزودگی روک کر ایک ’منصفانہ معاہدہ‘ کرنا ہوگا، بصورت دیگر فوجی کارروائی کی جا سکتی ہے۔
ادھر ایران کے مختلف شہروں میں ہلاک شدگان کے لواحقین نے یادگاری تقریبات منعقد کیں، جہاں بعض مقامات پر احتجاج اور نعرے بازی بھی دیکھنے میں آئی۔
چند جامعات میں طلبہ کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں، جس سے داخلی کشیدگی میں اضافے کا عندیہ ملتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر امریکا اور ایران کے درمیان براہ راست فوجی تصادم ہوا تو اس کے اثرات نہ صرف خلیج بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ پر مرتب ہوں گے۔
ایسے میں سفارتی کوششیں اور عالمی دباؤ ہی خطے کو ممکنہ جنگ سے بچا سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئیے


