ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے بوشہر جوہری پلانٹ کے قریب مبینہ حملے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہ ہے کہ ’تابکاری کا اخراج ہوا تو صرف تہران ہی نہیں بلکہ خلیجی تعاون کونسل کے دارالحکومتوں میں بھی زندگی کا خاتمہ کر دے گا۔‘
انھوں نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک بیان میں کہا کہ ’یوکرین میں زاپوریژیا جوہری پاور پلانٹ کے قریب جھڑپوں پر مغرب کے غم و غصے کو یاد کریں؟
انہوں نے خبردار کرتے ہوءے کہا کہ اس رائی ل اور امریکہ ہماری بوشہر تنصیب پر اب تک چار بار بمباری کر چکے ہیں۔
اپنے اس بیان میں انھوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ’تابکاری کا اخراج تہران ہی نہیں بلکہ خلیجی تعاون کونسل کے دارالحکومتوں میں بھی زندگی کا خاتمہ کر دے گا۔ ہماری پیٹروکیمیکل تنصیبات پر حملے بھی اصل مقاصد کو ظاہر کرتے ہیں۔‘
تاہم امریکہ نے اس میں ملوث ہونے کی تصدیق نہیں کی۔
بوشہر جوہری پلانٹ کے قریب حملے بارئے ایرانی دعویٰ
ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے بوشہر جوہری پلانٹ کے قریب حملہ کیا گیا ہے، جس کے بعد صورتحال پر تشویش بڑھ گئی ہے۔
ہفتے کی صبح ایرانی سرکاری میڈیا نے رپورٹ کیا کہ حملہ پلانٹ کے نزدیک ہوا، جس کے نتیجے میں وہاں کام کرنے والا ایک ملازم ہلاک ہوگیا۔
تاہم ایران کی ایٹمی توانائی تنظیم کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق پلانٹ کے اہم حصے محفوظ رہے اور کوئی بڑا نقصان نہیں ہوا۔
بین الاقوامی جوہری نگران ادارے International Atomic Energy Agency (آئی اے ای اے) نے بھی تصدیق کی ہے کہ اس واقعے کے بعد علاقے میں تابکاری کی سطح میں کسی اضافے کی اطلاع نہیں ملی۔
دوسری جانب روسی خبر رساں ایجنسی تاس کے مطابق روسی جوہری کمپنی Rosatom نے احتیاطی تدابیر کے طور پر اپنے 198 ملازمین کو پلانٹ سے نکالنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ایران کے وزیر خارجہ Abbas Araghchi نے اس حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر کسی قسم کی تابکاری پھیلی تو اس کے اثرات صرف ایران تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ خلیجی ممالک کے دارالحکومت بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔
ادھر امریکی صدر Donald Trump نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا ہے کہ امریکہ "جوہری ایران سے چھٹکارا پا رہا ہے۔
خلیج تعاون کونسل میں کون کون ممالک شامل ہیں؟
واضع رہے کہ Gulf Cooperation Council (خلیجی تعاون کونسل) مشرقِ وسطیٰ کے خلیجی عرب ممالک کا ایک اہم علاقائی اتحاد ہے، جو 1981 میں قائم کیا گیا تھا۔ اس تنظیم کا مقصد رکن ممالک کے درمیان سیاسی، اقتصادی اور دفاعی تعاون کو فروغ دینا ہے تاکہ خطے میں استحکام اور ترقی کو یقینی بنایا جا سکے۔
اس کونسل میں چھ ممالک شامل ہیں: Saudi Arabia، United Arab Emirates، Qatar، Kuwait، Oman اور Bahrain۔ یہ تمام ممالک خلیج فارس کے گرد واقع ہیں اور کئی معاملات میں ایک دوسرے کے قریبی اتحادی سمجھے جاتے ہیں۔
خلیجی تعاون کونسل مختلف شعبوں میں مشترکہ حکمتِ عملی بنانے پر کام کرتی ہے، جیسے تجارت، توانائی، دفاع اور خارجہ پالیسی۔ آسان الفاظ میں، یہ ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جہاں خلیجی ممالک مل بیٹھ کر اپنے مسائل حل کرتے اور مشترکہ مفادات کا تحفظ کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئِے


