پاکستان کے لیے ایک خوش کن پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں اٹلی نے ساڑھے دس ہزار ورک ویزے جاری کرنے کا اعلان کیا ہے۔
یہ اعلان پاکستان کی وزارتِ داخلہ کی جانب سے جاری کردہ پریس نوٹ میں کیا گیامگر عملدرامد کیسے ہو گا؟

یہ پیش رفت محسن نقوی اور اٹلی کے وزیر داخلہ ماتیو پیناتادوسی کے درمیان ملاقات کے بعد سامنے آئی۔ مگر کای یہ ساڑھے دس ہزار ہنرمند پاکستان سے اٹلی جا سکیں گے؟
ماضی میں بھی کئی ممالک نے پاکستونیوں کے لیے ورک ویزوں کا اعلان کیا مگر اس پر چند سو افراد بھی نہ جا سکے آخر وجہ کیا بنی ؟
اس میں سب سے بڑی وجہ حکومتی سطح پر انتظامی نااہلی ہے آج بھی بیرون ملک یورپ یا دیگر ممالک کے لیے صرف ویزا اپانٹمنٹ کے لیے لوگوں سے لاکھوں روپے تقاضا کیا جاتا ہے ۔
ویزا بائیو میٹرک کے لیے اتنی بڑی رقم اک تقاضا اور پھر لوگ ایجنٹ مافیا کے ہاتھوں بے یارومددگا بنے ہوئے ہیں کیا ایسے میں حکومت ایک مرتبہ پھر کیا یہ اٹلی ورک ویزوں کی آفر بھی ضائع کرنے والی ہے۔
ہنر مند افرادی قوت کی فراہمی اور غیر قانونی امیگریشن کی روک تھام
پریس نوٹ کے مطابق اس اقدام کا مقصد پاکستان سے اٹلی کو ہنر مند افرادی قوت فراہم کرنا اور غیر قانونی امیگریشن کی حوصلہ شکنی کرنا ہے۔ ہر سال سینکڑوں پاکستانی نوجوان غیر قانونی طور پر یونان اور اٹلی کے ساحلوں تک پہنچنے کی کوشش میں جان کی بازی ہار جاتے ہیں۔
اطالوی حکومت کی جانب سے توقع کی جا رہی ہے کہ پاکستان غیر قانونی تارکین وطن کی روک تھام کے لیے مزید مؤثر اقدامات کرے گا۔
غیر قانونی امیگریشن میں کمی اور کریک ڈاؤن
وزارتِ داخلہ کے مطابق گزشتہ سال کے دوران غیر قانونی طور پر بیرون ملک جانے والوں کی تعداد میں 47 فیصد کمی آئی ہے جبکہ انسانی سمگلنگ میں ملوث 1,700 افراد کو گرفتار کیا گیا۔
بیرون ملک روزگار کا سرکاری طریقہ کار
بیرون ملک روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں وزارتِ بیرونِ ملک پاکستانی و انسانی ترقی کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ اس کے ذیلی اداروں میں بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ، اوورسیز پاکستانیز فاؤنڈیشن اور اوورسیز ایمپلائمنٹ کارپوریشن شامل ہیں۔
یہ عمل 1979 کے امیگریشن ایکٹ کے تحت سرانجام دیا جاتا ہے، جس کے تحت سرکاری اور نجی دونوں ذرائع سے افرادی قوت بیرون ملک بھیجی جا سکتی ہے۔
پاکستانی ورکرز کہاں جا رہے ہیں؟
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 1971 سے 2026 تک تقریباً ایک کروڑ 48 لاکھ سے زائد پاکستانی روزگار کے لیے بیرون ملک جا چکے ہیں۔
خلیجی ممالک اس فہرست میں سرفہرست ہیں۔

- سعودی عرب پہلے نمبر پر
- متحدہ عرب امارات دوسرے نمبر پر
- اومان تیسرے نمبر پر
- قطر چوتھے نمبر پر
یورپی ممالک میں برطانیہ، اٹلی اور یونان نمایاں ہیں، جبکہ امریکہ اور جنوبی کوریا بھی اہم منزلیں ہیں۔
ترسیلاتِ زر میں اضافہ
سٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق مالی سال 2025 میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے 38 ارب ڈالر کا زرمبادلہ پاکستان بھیجا جبکہ رواں مالی سال کے اختتام تک 41 ارب ڈالر کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
یورپی مارکیٹ میں اصل رکاوٹ کیا ہے؟
یہ پہلا موقع نہیں جب اٹلی نے ورک ویزوں کا اعلان کیا ہو۔ اس سے قبل بھی تین سال کے لیے سالانہ ساڑھے تین ہزار ویزوں کی یقین دہانی کروائی گئی تھی۔
تاہم ماہرین کے مطابق اصل مسئلہ ویزوں کے اجرا کا نہیں بلکہ سفارت خانوں میں انٹرویو اپائنٹمنٹ کے حصول کا ہے۔ اوورسیز ایمپلائمنٹ پروموٹرز ایسوسی ایشن کے سابق چیئرمین سرفراز ظہور چیمہ کے مطابق یورپی سفارت خانے انٹرویو کی بروقت تاریخیں جاری نہیں کرتے، جس سے ایجنٹ مافیا کو فائدہ ہوتا ہے۔

آف لوڈنگ اور پالیسی تضادات
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک جانب حکومت پروٹیکٹر آف امیگریشن کے ذریعے کلیئرنس دیتی ہے جبکہ دوسری جانب ایئرپورٹس پر بڑی تعداد میں مسافروں کو آف لوڈ کر دیا جاتا ہے، جس سے بیرونی ممالک میں پاکستان کی ساکھ متاثر ہو رہی ہے۔
کیا یورپ نئی امید ثابت ہوگا؟
ماہرین کے مطابق خلیجی مارکیٹ میں چیلنجز کے باوجود یورپی ممالک کی جانب سے آنے والی پیش رفت امید افزا ضرور ہے، تاہم اس کے عملی نتائج کا انحصار حکومتی اقدامات، سفارتی روابط اور انتظامی اصلاحات پر ہوگا۔
وقت ہی بتائے گا کہ یہ اعلانات محض خوشخبری ثابت ہوتے ہیں یا واقعی پاکستانی نوجوانوں کے لیے نئے دروازے کھولتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئِے


