اردو رپورٹ ڈیسک
ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان طے پانے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت قائم اسٹریٹجک سیاسی و دفاعی کمیٹی کا پہلا اجلاس آج 31 اگست کو استنبول میں ہوگا۔
اجلاس میں تینوں ممالک کے وزرائے خارجہ، وزرائے دفاع اور اعلیٰ عسکری قیادت شرکت کرے گی۔ ملاقات کے دوران مشترکہ دفاع، دفاعی صنعت میں تعاون، انسدادِ دہشت گردی اور تینوں ممالک کی مسلح افواج کے درمیان عملی ہم آہنگی سمیت اہم علاقائی و عالمی سلامتی کے امور پر غور کیا جائے گا۔
تینوں ممالک کی اعلیٰ قیادت کی شرکت
ترکیہ کی میزبانی میں ہونے والے اجلاس میں ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان، وزیر دفاع یاشار گیولر اور چیف آف جنرل اسٹاف جنرل سلچوق بائراکتار اولو شریک ہوں گے۔
پاکستان کی نمائندگی نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کریں گے۔
سعودی عرب کی جانب سے وزیر خارجہ فیصل بن فرحان، وزیر دفاع خالد بن سلمان اور چیف آف جنرل اسٹاف جنرل فیاض بن حامد الرویلی اجلاس میں شریک ہوں گے۔
مکہ معاہدے کا تسلسل
یہ اجلاس اس معاہدے کا تسلسل ہے جس پر ترک صدر رجب طیب اردوان، سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور وزیراعظم شہباز شریف نے 7 اگست کو مکہ مکرمہ میں دستخط کیے تھے۔
معاہدے کی نمایاں شق کے تحت کسی بھی ایک رکن ملک پر حملے کو تمام فریقین کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا۔ اس شق کو خطے میں اجتماعی سلامتی کے نئے فریم ورک کی بنیاد قرار دیا جا رہا ہے۔
استنبول اجلاس میں دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے، مشترکہ فوجی مشقوں، دفاعی صنعت میں تحقیق و پیداواری تعاون اور دہشت گردی کے خلاف مشترکہ لائحہ عمل سمیت مختلف امور زیر بحث آئیں گے۔
اجلاس میں کمیٹی کے سیکریٹریٹ کے قیام اور اس کے ادارہ جاتی ڈھانچے سمیت مستقبل کے لائحہ عمل اور روڈ میپ پر بھی غور کیا جائے گا۔
سوشل میڈیا پر بھی بحث جاری
سوشل میڈیا پر اجلاس کو تینوں مسلم ممالک کے درمیان دفاعی تعاون مضبوط بنانے کی اہم پیش رفت کے طور پر سراہا جا رہا ہے۔ بعض صارفین اسے خطے میں سلامتی کی نئی صف بندی قرار دے رہے ہیں، جبکہ کچھ حلقے معاہدے کے عالمی اثرات اور دیگر ممالک کے ممکنہ ردعمل پر بحث کر رہے ہیں۔
پاکستانی صارفین بالخصوص فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی اجلاس میں شرکت کو معاہدے کی اہمیت سے جوڑ رہے ہیں۔
دفاعی و علاقائی امور کے ماہرین کے مطابق مکہ دفاعی معاہدہ تین بڑی مسلم عسکری و اقتصادی طاقتوں کے درمیان ایک اہم تزویراتی پیش رفت ہے۔


