اردو رپورٹ ڈیسک
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان ہونے والے دفاعی معاہدے کو سراہتے ہوئے اسے مشرق وسطیٰ کے ممالک کے ایک دوسرے کے قریب آنے اور اپنے دفاع کو زیادہ مؤثر بنانے کی جانب ’’بڑا، جرات مندانہ اور اہم پہلا قدم‘‘ قرار دیا ہے۔
ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ خطے کے ممالک متحد ہو رہے ہیں اور اب وہ زیادہ مؤثر انداز میں اپنا دفاع کرنے کے قابل ہوں گے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے امریکی صدر کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے معاہدے پر حمایت کے اظہار کو سراہا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان، برادر ملک سعودی عرب اور جمہوریہ ترکیہ کے ساتھ مل کر اپنے ممالک سمیت پورے خطے کے دفاع کو یقینی بنانے میں تعمیری کردار ادا کرتا رہے گا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے گزشتہ سال بھارت کے ساتھ ہونے والی مختصر فوجی کشیدگی کے واضح حوالے کے بغیر امریکی صدر ٹرمپ کی ’’جرأت مندانہ اور فیصلہ کن قیادت‘‘ کو بھی سراہا، جس کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ اس نے جنوبی ایشیا میں جوہری تباہی کو ٹالنے اور لاکھوں جانیں بچانے میں مدد دی۔
وزیراعظم نے کہا کہ پائیدار امن ہی ہماری قوموں کے روشن اور خوشحال مستقبل کے لیے سب سے ضروری پیشگی شرط ہے۔
پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کا دفاعی معاہدہ
تینوں ممالک کے درمیان دفاعی معاہدے پر 7 اگست کو دستخط کیے گئے تھے۔ یہ معاہدہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے باعث خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے اور حوثی باغیوں کے حملے بھی جاری رہے ہیں۔
مشترکہ دفاعی معاہدے کا مقصد تینوں ممالک کے درمیان اجتماعی دفاعی صلاحیت اور بازداریت کو مضبوط بنانا ہے۔ معاہدے کے تحت کسی ایک رکن ملک پر حملے کو تمام رکن ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
ترکیہ کی وزارت دفاع کے مطابق پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب اس معاہدے کے تحت سیاسی اور فوجی طریقہ کار تشکیل دیں گے، جبکہ دفاعی صنعت کے شعبے میں تعاون کو بھی مزید فروغ دیا جائے گا۔
Deeply appreciate President Donald Trump’s kind words of support on the signing of the Makkah Joint Defence Agreement.
Together with the brotherly Kingdom of Saudi Arabia and the Republic of Turkiye, Pakistan will continue to play a constructive role in ensuring the defence of… pic.twitter.com/qdemVBYkLq
— Shehbaz Sharif (@CMShehbaz) August 17, 2026
مزید ممالک کی شمولیت کا امکان
معاہدے پر دستخط کے فوراً بعد ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان نے کہا تھا کہ ترکیہ کو توقع ہے کہ مصر اگلے مرحلے میں اس معاہدے کا حصہ بن جائے گا۔ انہوں نے ترک سرکاری خبر رساں ادارے کو بتایا تھا کہ اس حوالے سے صرف چند تکنیکی معاملات حل طلب ہیں۔
تاہم مصر نے اب تک معاہدے یا ترک وزیر خارجہ کے بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا۔
ترک صدر رجب طیب اردوان نے بھی امید ظاہر کی ہے کہ مزید ممالک اس دفاعی معاہدے میں شامل ہوں گے۔
اردوان کا موقف
اردوان نے کہا کہ اس معاہدے کے حوالے سے ترکیہ کا وژن صرف تین ممالک تک محدود نہیں بلکہ وہ چاہتا ہے کہ یہ معاہدہ مزید وسعت اختیار کرے اور مستقبل میں ایسے حالات پیدا ہوں کہ خطے کے تمام ممالک اس کے پلیٹ فارم کے تحت متحد ہو سکیں۔
دوسری جانب کویت، بحرین اور صومالیہ سمیت متعدد ممالک نے معاہدے کا خیرمقدم کیا ہے۔
ایران کا ردعمل بھی نسبتاً مثبت رہا ہے۔ ایران نے اس پیش رفت کے حوالے سے علاقائی ممالک کے درمیان تعاون کی بنیاد پر سکیورٹی کے ایسے نظام کی حمایت پر زور دیا ہے جس میں خطے کے ممالک باہمی تعاون کے ذریعے اپنی سلامتی کو یقینی بنائیں۔


