اردو رپورٹ ڈیسک
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کے ساتھ جنگ کے بعد ایران کے معاشی مسائل کئی گنا بڑھ گئے ہیں۔ ان کے مطابق تیل کی آمدنی میں کمی، درآمدی اخراجات میں اضافے اور فیکٹریوں کی تباہی نے ملکی معیشت پر شدید دباؤ ڈالا ہے۔
انادولو کے مطابق پزشکیانMasoud Pezeshkian, نے کہا کہ تیل کی فروخت میں کمی سے حکومتی آمدنی متاثر ہوئی ہے، جبکہ جنگ میں بڑی تعداد میں فیکٹریاں تباہ ہونے سے صنعتی پیداوار اور ٹیکس وصولیاں بھی کم ہوگئی ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت کو متاثرہ صنعتی اداروں کی بحالی کے لیے اضافی مالی وسائل بھی فراہم کرنا پڑ رہے ہیں۔
پاسداران انقلاب کا دعویٰ
دوسری جانب ایرانی پاسداران انقلاب کے ایک عہدیدار نے دعویٰ کیا ہے کہ جنگ کے باوجود ایران کی فضائی دفاعی نظام تیار کرنے کی پیداواری صلاحیت کا 85 فیصد سے زیادہ حصہ محفوظ رہا۔
الجزیرہ نے فارس کے حوالے سے بتایا کہ ایرانی عہدیدار کے مطابق میزائلوں اور فضائی دفاعی نظام کی پیداوار جنگ سے پہلے کی سطح سے کم نہیں ہوئی بلکہ بعض شعبوں میں اس میں اضافہ بھی ہوا۔ تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہوئی۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کی سرگرمیاں
ادھر امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر نے مشرق وسطیٰ کے 10 روزہ دورے کے دوران بحیرۂ عرب میں موجود امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن کا دورہ کیا۔
سینٹ کام کے مطابق بریڈ کوپر نے بحری جہاز پر موجود امریکی میرینز اور سیلرز سے ملاقات کی۔
امریکی حکام کے مطابق مشرق وسطیٰ میں 50 ہزار سے زائد امریکی فوجی مختلف مقامات پر تعینات ہیں۔
ایران کی معاشی مشکلات اور دفاعی پیداوار سے متعلق یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب خطے میں امریکی فوجی موجودگی برقرار ہے اور جنگ کے اثرات سے ایران کی معیشت، صنعت اور تجارت متاثر ہو رہی ہے۔
مذید پڑھئِں
آبنائے ہرمز کو امریکی علاقہ قرار دینے کا ٹرمپ کا دعویٰ، ایران بھی ڈٹ گیا – urdureport.com
ایران نے چھ شرائط کی منظوری تک آبنائے ہرمز کھولنے سے انکار کر دیا – urdureport.com


