تہران: ایران نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ معمول کے مطابق کھولنے کے معاملے پر اپنے مؤقف میں سختی برقرار رکھتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اس اہم آبی گزرگاہ کی مکمل بحالی امریکہ کی جانب سے تہران کی چھ شرائط تسلیم کیے جانے سے مشروط ہوگی۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان حسین محبی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز ایران کے لیے صرف تجارتی راستہ نہیں بلکہ ایک اہم جغرافیائی اور تزویراتی اثاثہ ہے، جس پر تہران کو فیصلہ کن اختیار حاصل ہے۔
ان کے مطابق امریکہ کو آبنائے ہرمز کی مکمل بحالی کے لیے ایران کی شرائط ماننا ہوں گی۔ انہوں نے عمان کے ساتھ جاری مذاکرات میں کسی بھی بیرونی مداخلت سے گریز کرنے پر بھی زور دیا اور کہا کہ مسقط کے ساتھ بات چیت آخری مرحلے میں داخل ہوچکی ہے۔

ایران اور عمان کے درمیان مذاکرات جاری
دوسری جانب ایران اور عمان آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی آمدورفت کے لیے نئے انتظامات پر مذاکرات کر رہے ہیں۔ عمانی حکام نے بات چیت کو مثبت اور تعمیری قرار دیا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی تصدیق کی ہے کہ عمان کے ساتھ مذاکرات فیصلہ کن مرحلے میں پہنچ چکے ہیں، تاہم ان کا کہنا ہے کہ کسی مفاہمت تک پہنچنے کا مطلب یہ نہیں کہ آبنائے ہرمز فوری طور پر مکمل طور پر کھول دی جائے گی۔
عراقچی کے مطابق آبنائے سے گزرنے والے بحری ٹریفک کے راستے، اس کے قانونی طریقہ کار اور انتظامی معاملات پر مسقط کے ساتھ بات چیت جاری ہے۔
انہوں نے بتایا کہ قانونی اور تکنیکی پیچیدگیوں کے باعث دونوں ممالک فی الحال ایک عارضی بحری راستہ طے کرنے پر غور کر رہے ہیں، جسے مستقبل میں مرکزی بحری گزرگاہ کے انتظام کی بنیاد بنایا جاسکتا ہے۔
تہران کی اہم شرائط کیا ہیں؟
ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محمد باقر ذوالقدر نے آبنائے ہرمز کی مکمل بحالی کے لیے امریکی اقدامات سے متعلق متعدد شرائط پیش کی ہیں۔
ان میں بنیادی طور پر:
- ایران پر عائد پابندیوں میں نرمی
- جنگ کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات کا معاوضہ
- ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی کا خاتمہ
- ایران کے خلاف امریکی دھمکیوں کا سلسلہ بند کرنا
- ایران کے منجمد اثاثوں کی بحالی
شامل ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ مطالبات مجموعی طور پر ایران کے پہلے سے موجود مؤقف سے مطابقت رکھتے ہیں، تاہم انہیں آبنائے ہرمز کی مکمل بحالی کے لیے پیشگی شرائط کے طور پر پیش کیا جانا تہران کے موجودہ سخت مؤقف کی عکاسی کرتا ہے۔
حتمی منظوری تہران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل سے متوقع
امریکی نیوز ویب سائٹ Axios کے رپورٹر باراک راوِد نے ایک ثالث ملک کے سفارت کار کے حوالے سے بتایا ہے کہ ایرانی مذاکرات کار عمان اور امریکہ کے ساتھ ممکنہ معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے تہران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کی منظوری کے منتظر ہیں۔
رپورٹ کے مطابق یہ منظوری جلد ملنے کی توقع ظاہر کی گئی تھی۔
یہ پیش رفت اس لیے اہم ہے کہ محمد باقر ذوالقدر اسی ادارے کے سیکریٹری ہیں اور رپورٹس کے مطابق آبنائے ہرمز سے متعلق کسی بھی بڑے معاہدے کے حوالے سے ایران کا حتمی فیصلہ اسی ادارہ جاتی نظام کے ذریعے سامنے آنا ہے۔
دوسری جانب ذوالقدر کے اپنے عہدے سے استعفیٰ دینے سے متعلق بھی قیاس آرائیاں جاری ہیں۔ رپورٹس کے مطابق انہوں نے استعفیٰ پیش کیا ہے، تاہم ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اسے قبول کرنے کے بجائے انہیں ذمہ داریاں جاری رکھنے کی درخواست کی ہے۔
امریکہ کو جلد معاہدے کی امید
غیر ملکی خبر رساں ادارے نے ایک امریکی عہدیدار کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے معاملے پر ایران اور عمان کے درمیان ہونے والی بات چیت میں پیش رفت ہوئی ہے۔
امریکی حکام کو توقع ہے کہ مذاکرات کے نتیجے میں جلد ایک سمجھوتا طے پاسکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ممکنہ معاہدے کے اعلان کے بعد امریکہ ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی ختم کرنے پر غور کرسکتا ہے۔
تاہم ایرانی حکام کے بیانات سے واضح ہوتا ہے کہ تہران آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر معمول پر لانے کے معاملے کو صرف عمان کے ساتھ طے پانے والے انتظامی سمجھوتے تک محدود نہیں سمجھتا۔
آبنائے ہرمز کے لیے نیا بحری راستہ زیر غور
ایران اور عمان کے درمیان ایک ایسے نئے نظام پر بھی بات ہورہی ہے جس کے تحت آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کے لیے مخصوص راستہ مقرر کیا جائے گا۔
مجوزہ نظام میں راستے کی انتظامی اور مالیاتی نگرانی دونوں ممالک مشترکہ طور پر کرسکتے ہیں، جبکہ اس راستے کو استعمال کرنے والے بحری جہازوں سے فیس وصول کیے جانے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔
اگر یہ انتظام حتمی شکل اختیار کرلیتا ہے تو اسے وسیع تر ایران۔امریکہ تنازع کے مکمل خاتمے کے بجائے ایک محدود اور عبوری پیش رفت تصور کیا جائے گا۔
تاہم اس کے ذریعے آبنائے ہرمز میں تجارتی سرگرمیوں کو بحال کرنے اور موجودہ کشیدگی کم کرنے کا راستہ ضرور پیدا ہوسکتا ہے۔
عمان نے جہازوں کی حفاظت پر زور دے دیا
عمان نے بھی آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی آمدورفت کے حوالے سے مذاکرات کو مثبت قرار دیا ہے۔
عمانی وزارت خارجہ نے ہفتے کے روز جاری بیان میں آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں پر مسلسل حملوں کی مذمت کی، تاہم بیان میں کسی ملک کو براہ راست ذمہ دار قرار نہیں دیا گیا۔
وزارت خارجہ کے مطابق آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے طریقہ کار سے متعلق مذاکرات ایک مثبت اور تعمیری ماحول میں جاری ہیں۔
عمان نے تمام متعلقہ فریقوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو مذاکرات میں حاصل ہونے والی پیش رفت کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
امریکی نائب صدر کا ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق بڑا دعویٰ
دوسری جانب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ نے ایران کے جوہری پروگرام کو تباہ کر دیا ہے اور ملک کی روایتی عسکری صلاحیتوں کو بھی ختم کر دیا ہے۔

فاکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں وینس نے کہا کہ امریکی کارروائیوں کے نتیجے میں ایران کی غیر روایتی عسکری صلاحیت بھی نمایاں طور پر متاثر ہوئی ہے۔
امریکی نائب صدر کے مطابق واشنگٹن اس بات کا جائزہ لے رہا ہے کہ آیا تہران مستقبل میں ایسی طویل المدتی تبدیلیاں کرنے کے لیے تیار ہے جن سے دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری آسکے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران ایسی تبدیلیوں کے لیے تیار نہ ہوا تو امریکہ اس پر دباؤ برقرار رکھے گا۔
وینس نے مزید کہا کہ امریکی حکومت مشرق وسطیٰ میں تیل اور گیس کی پیداوار بڑھانے کے امکانات پر بھی کام کررہی ہے تاکہ توانائی کی دستیابی میں اضافے کے ذریعے امریکی صارفین کے لیے ایندھن اور توانائی کی قیمتوں میں کمی لائی جاسکے۔
آبنائے ہرمز کیوں اہم ہے؟
آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین تزویراتی آبی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے اور عالمی توانائی کی ترسیل میں اس کا کردار غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔
اسی وجہ سے آبنائے میں جہاز رانی پر کسی بھی قسم کی پابندی یا رکاوٹ عالمی تیل کی قیمتوں، توانائی کی منڈیوں اور بین الاقوامی تجارت پر فوری اثر ڈال سکتی ہے۔
موجودہ صورتحال میں ایران اور عمان کے درمیان جاری مذاکرات کسی ممکنہ عبوری بحری انتظام کی راہ ہموار کرتے دکھائی دے رہے ہیں، لیکن تہران کی جانب سے امریکہ کے لیے رکھی گئی شرائط اس بات کا اشارہ بھی دے رہی ہیں کہ آبنائے ہرمز کی مکمل اور معمول کی بحالی کا معاملہ ابھی حتمی مرحلے تک نہیں پہنچا۔
یوں ایک طرف عمان اور ایران مذاکرات کے ذریعے جہاز رانی کے لیے عملی حل تلاش کر رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب تہران امریکہ سے وسیع تر سیاسی اور معاشی مطالبات منوانے پر اصرار کررہا ہے۔


