• Home  
  • نئے انتظامی یونٹس کا فیصلہ عوام کی مرضی سے ہونا چاہیے، محسن نقوی
- پاکستان

نئے انتظامی یونٹس کا فیصلہ عوام کی مرضی سے ہونا چاہیے، محسن نقوی

اردو رپورٹ ڈیسک وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ نئے انتظامی یونٹس بنانے یا نہ بنانے کا فیصلہ کسی ایک شخص، حکومت یا سیاسی جماعت کی خواہش پر نہیں بلکہ عوام کی رائے اور آئینی طریقہ کار کے مطابق ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی بڑھتی ہوئی آبادی کے پیش […]

اردو رپورٹ ڈیسک

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ نئے انتظامی یونٹس بنانے یا نہ بنانے کا فیصلہ کسی ایک شخص، حکومت یا سیاسی جماعت کی خواہش پر نہیں بلکہ عوام کی رائے اور آئینی طریقہ کار کے مطابق ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی بڑھتی ہوئی آبادی کے پیش نظر انتظامی ڈھانچے پر ازسرنو غور کی ضرورت ہے، تاہم کوئی بھی اقدام آئین سے ماورا نہیں ہوگا۔

قومی پالیسی مکالمے سے خطاب کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ کسی کو بھی غیر آئینی اقدام کا اختیار نہیں دیا گیا۔ ان کے مطابق تمام ذمہ داران آئین کی پاسداری کا حلف اٹھا چکے ہیں اور کسی صورت غیر آئینی اقدام نہیں ہونے دیں گے۔ تاہم آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے انتظامی بہتری کے لیے کئی راستے موجود ہیں۔

نئے انتظامی یونٹس پر حتمی فیصلہ عوام کا ہونا چاہیے

محسن نقوی نے کہا کہ اگر پاکستان کے عوام نئے انتظامی یونٹس چاہتے ہیں تو انہیں قائم کیا جانا چاہیے، لیکن عوام کی مخالفت کی صورت میں ایسا فیصلہ مسلط نہیں کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے واضح کیا کہ یہ فیصلہ نہ کسی ایک شخص کا ہے، نہ حکومت کا اور نہ ہی کسی ایک سیاسی جماعت کا۔ اس معاملے میں عوام کی رائے کو بنیادی اہمیت حاصل ہونی چاہیے۔

بڑھتی آبادی کے ساتھ انتظامی ضروریات بھی بدل گئیں

وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ پاکستان کو وجود میں آئے 79 برس ہو چکے ہیں اور اس دوران ملک کی آبادی کئی گنا بڑھ گئی ہے۔ ان کے مطابق جیسے ایک خاندان کے افراد بڑھنے پر ایک گھر کے بجائے دو، چار یا آٹھ گھروں میں منتقل ہو سکتے ہیں، اسی طرح آبادی بڑھنے کے ساتھ انتظامی ضروریات بھی تبدیل ہوتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر نئی تحصیلیں اور اضلاع قائم کیے جا سکتے ہیں تو نئے انتظامی یونٹس کے قیام پر بھی غور کیا جا سکتا ہے۔

تعلیم، صحت اور صاف پانی بنیادی مسائل

محسن نقوی نے کہا کہ بنیادی سوال یہ ہونا چاہیے کہ حکومت عوام کو کیا سہولتیں دے رہی ہے۔ تعلیم، صحت، صاف پانی اور انصاف ہر شہری کا حق ہیں۔

انہوں نے کہا کہ 79 برس گزرنے کے باوجود تقریباً ڈھائی کروڑ بچے اسکول نہیں جا سکے، ہر 10 میں سے 4 بچوں کو مناسب خوراک دستیاب نہیں اور صرف 55 فیصد پاکستانیوں کو صاف پانی میسر ہے۔

20 لاکھ مقدمات زیر التوا ہونے کا ذکر

وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ عدالتوں میں آج بھی تقریباً 20 لاکھ مقدمات زیر التوا ہیں اور لوگ انصاف کے حصول کے لیے مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔

ان کے مطابق یہ صورتحال کسی ایک حکومت کی کارکردگی کا نتیجہ نہیں بلکہ گزشتہ 79 برس کا مجموعی نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایسے حقائق ہیں جنہیں سرکاری طور پر بھی تسلیم کیا جاتا ہے اور ان مسائل پر قابو پانے کے لیے کوششیں جاری ہیں۔

نوجوان روزگار اور میرٹ کے مواقع چاہتے ہیں

محسن نقوی نے کہا کہ والدین آج بھی اپنے بچوں کی تعلیم، صحت اور انصاف کے لیے انتظار کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق صرف ماضی پر بات کرنے کے بجائے یہ دیکھنا ہوگا کہ موجودہ اور آنے والی نسل حکومت سے کیا توقعات رکھتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ نوجوان بنیادی طور پر روزگار اور میرٹ کے مواقع چاہتے ہیں۔ ان کا سوال ہے کہ یونیورسٹی کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد روزگار کہاں ہے، ملازمت کے مواقع موجود ہیں تو کیا وہ میرٹ پر ہیں اور کیا اپنے علاقے میں ترقی کے مواقع دستیاب ہیں۔

انتظامی ڈھانچے کو بہتر بنانے پر زور

محسن نقوی نے کہا کہ انتظامی ڈھانچے کو ’ری سیٹ‘ کرنے سے مراد نظام کو توڑنا نہیں بلکہ اس کی خامیوں کو دور کرنا ہے تاکہ حکومتی نظام کا فائدہ عام شہری تک پہنچ سکے۔

انہوں نے کہا کہ انتظامی اصلاحات کا عمل آئین، جمہوری اصولوں، سیاسی اتفاق رائے اور عوام کی خواہش کے مطابق آگے بڑھنا چاہیے۔

ایک الگ بیان میں انہوں نے کہا کہ نئے انتظامی یونٹس کے معاملے پر جذباتی ہونے کی ضرورت نہیں اور یہ کوئی فوری فیصلہ نہیں۔ ان کے مطابق پہلے ماہرین اور متعلقہ حلقوں کو نئے یونٹس کے فوائد اور نقصانات کا جائزہ لینا چاہیے، پھر تجاویز عوام کے سامنے رکھ کر ان کی رائے حاصل کی جائے۔

بڑے شہروں میں ترقی کے ارتکاز پر سوال

محسن نقوی نے کہا کہ صوبوں میں ترقی اور سہولتیں چند بڑے شہروں تک محدود ہو کر رہ گئی ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ بلوچستان میں کوئٹہ، خیبر پختونخوا میں پشاور، پنجاب میں لاہور اور سندھ میں کراچی کے علاوہ اسی سطح کے دوسرے بڑے شہر کیوں نہیں بن سکے۔

انہوں نے کہا کہ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ زیادہ تر توجہ انہی شہروں تک محدود رہتی ہے جہاں فیصلہ ساز خود رہتے ہیں۔ محسن نقوی کے مطابق انہوں نے پنجاب کے ہر ضلع کا دورہ کرنے کی کوشش کی، تاہم ایک سال کی مسلسل کوشش کے باوجود وہ صوبے کے 70 فیصد سے زیادہ علاقوں کا دورہ نہیں کر سکے۔

قومی پالیسی مکالمے میں اہم شخصیات کی شرکت

یہ گفتگو لاہور کی یونیورسٹی آف مینجمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی میں پاکستان پولیٹیکل سائنس کنسورشیم کے زیر اہتمام منعقدہ نیشنل پالیسی ڈائیلاگ کے دوران ہوئی۔

تقریب میں سابق وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق، سینئر صحافی مجیب الرحمان شامی، سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، وزیر مملکت عون ثقلین چوہدری، فہد حسین اور حامد میر سمیت دیگر شخصیات نے پہلے پینل میں شرکت کی۔

دوسرے پینل میں وفاقی وزیر تعلیم ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی، اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان، وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین، سابق گورنر مخدوم سید احمد محمود، سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر محمد احسن بھون، صدر پاکستان کسان اتحاد خالد کھوکھر اور سابق صوبائی وزیر شیخ محمد تنویر شریک ہوئے۔

تقریب کے مہمان خصوصی وفاقی وزیر داخلہ و منشیات کنٹرول سید محسن رضا نقوی تھے، جنہوں نے اختتامی خطاب کیا۔

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اردو رپورٹ جملہ حقوق محفوظ ہیں

Your license hasn’t been activated yet. Activate it now!