اردوEnglish
ہفتہ, 17 اکتوبر 2026
  • Home  
  • قومی اسمبلی سےخیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کی منظوری، اپوزیشن نے چیلنج کر دی
- پاکستان

قومی اسمبلی سےخیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کی منظوری، اپوزیشن نے چیلنج کر دی

قومی اسمبلی نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق قرارداد کثرتِ رائے سے منظور کر لی۔ پی ٹی آئی نے فیصلے کو پشاور ہائی کورٹ میں چیلنج کرتے ہوئے جمہوری حکومت کی بحالی کا مطالبہ کیا ہے۔

اردو رپورٹ ڈیسک

قومی اسمبلی نے بدھ کو خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق قرارداد چار گھنٹے سے زائد بحث کے بعد کثرتِ رائے سے منظور کر لی۔ حکومتی اور اپوزیشن ارکان نے قرارداد پر تفصیلی اظہارِ خیال کیا، جبکہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ارکان نے فیصلے کی مخالفت میں نعرے لگائے۔

اجلاس کے دوران وفاقی حکومت اور خیبر پختونخوا کی پی ٹی آئی قیادت کے درمیان سیاسی کشیدگی بھی نمایاں رہی۔ کارروائی کے اختتام پر قومی اسمبلی کا اجلاس جمعہ کی صبح 11 بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔

پشاور ہائی کورٹ میں ایمرجنسی چیلنج

پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا ہے کہ پارٹی نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کو پشاور ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ان اقدامات کے ذریعے صوبے کی منتخب جمہوری حکومت ختم کر دی گئی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ عدالت صوبے میں جمہوری حکومت بحال کرے گی۔

بیرسٹر گوہر کے مطابق درخواست پر جلد سماعت کی استدعا بھی کی گئی ہے، جبکہ پارٹی اس فیصلے کے خلاف اپنی آئینی اور قانونی جدوجہد جاری رکھے گی۔

پی ٹی آئی کا اعلان

قومی اسمبلی میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے وفاقی حکومت کے اقدام کو جمہوریت پر شب خون قرار دیا اور کہا کہ ان کی جماعت ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق تمام حکومتی نوٹیفکیشنز مسترد کرتی ہے۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکومت نے دہشت گردی کا جواز پیش کرتے ہوئے منتخب حکومت کو ختم کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کا خاتمہ پورے پاکستان میں ہونا چاہیے اور کسی بھی مسلح گروہ کو ملک میں کہیں بھی محفوظ پناہ گاہ نہیں ملنی چاہیے۔

بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) کا حوالہ دیتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ اس تنظیم کے پیچھے بھارت ہے۔ انہوں نے سیکیورٹی اور سیاسی معاملات سے متعلق حکومتی پالیسی پر بھی تنقید کی۔

وزیر قانون کا ایمرجنسی کے فیصلے کا دفاع

وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے قومی اسمبلی میں ایمرجنسی کے نفاذ کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا میں اندرونی خلفشار اور بیرونی دراندازی کے باعث یہ اقدام ضروری سمجھا گیا۔

انہوں نے صوبائی حکومت پر دہشت گردی کے خلاف سنجیدہ اقدامات نہ کرنے کا الزام عائد کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے سیکیورٹی خدشات کے بجائے سیاسی مفادات کو ترجیح دی اور سیکیورٹی اہلکاروں اور شہریوں کی قربانیوں کو نظر انداز کیا۔

اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ ایمرجنسی کے اعلان کے بعد 10 روز کے اندر پارلیمان سے اس کی منظوری حاصل کرنا ضروری تھا۔

دہشت گردی کے واقعات کے اعداد و شمار پیش

وزیر قانون نے اپنے مؤقف کی تائید میں دہشت گردی کے واقعات کے اعداد و شمار بھی پیش کیے۔ ان کے مطابق 2024 تک دہشت گردی کے 2,911 واقعات پیش آئے، جبکہ 15 اکتوبر 2025 سے اب تک 3,787 واقعات ریکارڈ کیے گئے۔

انہوں نے کہا کہ پاک فوج نے قربانیاں دے کر علاقے میں امن قائم کرنے اور دہشت گردی پر قابو پانے کی کوششیں کیں۔ ان کے بقول، امن و امان کی بگڑتی صورت حال کے پیش نظر غیرمعمولی اقدامات ناگزیر ہو گئے تھے۔

اعظم نذیر تارڑ نے واضح کیا کہ ایمرجنسی کا فیصلہ خوشی سے نہیں کیا گیا بلکہ اسے آخری آپشن کے طور پر اختیار کیا گیا۔

حکومت اور اپوزیشن کے مذاکرات کا حوالہ

وفاقی وزیر قانون نے خیبر پختونخوا کی قیادت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ صوبے میں امن و امان کے مسائل کے باوجود وفاق کے خلاف سیاسی محاذ آرائی کے اعلانات کیے گئے۔

انہوں نے بتایا کہ صدر مملکت اور وزیراعظم کی خواہش پر مذاکرات شروع کیے گئے تھے اور حکومت نے اختلافات کو جمہوری طریقے سے حل کرنے کی بھرپور کوشش کی۔ ان کے مطابق مفاہمت کے لیے تیار کیے گئے مسودوں میں کئی مرتبہ ترامیم بھی کی گئیں۔

تاہم، اعظم نذیر تارڑ نے الزام لگایا کہ دوسری جانب سے دہشت گردی اور قومی سلامتی کے معاملات کے بجائے پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کی رہائی اور ان سے ملاقاتوں کے مطالبات پر زیادہ توجہ دی جاتی رہی۔

وزیر قانون کا کہنا تھا کہ کسی زیرِ حراست شخص کی رہائی کا اختیار عدالت کے پاس ہے، جبکہ رحم کی اپیل کی صورت میں صدر مملکت اپنے آئینی اختیارات استعمال کر سکتے ہیں۔

قومی سلامتی کو سیاست پر ترجیح دینے کا مؤقف

اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ وفاقی حکومت کے لیے سیاست سے زیادہ ریاست اہم ہے اور دہشت گردی قومی سلامتی کا معاملہ ہے، جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ آیا صوبائی حکومت نے دہشت گردی کے متاثرین اور ان کے اہل خانہ کے لیے اپنی ذمہ داریاں مناسب طور پر ادا کیں۔ وزیر قانون نے سہیل آفریدی کے صوبے سے باہر دوروں پر بھی تنقید کی اور کہا کہ اس دوران سیکیورٹی کے مسائل بدستور موجود تھے۔

انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے مذاکرات اور جمہوری ذرائع سے معاملات حل کرنے کی کوشش کی، تاہم بالآخر ایمرجنسی کے نفاذ کا فیصلہ آخری چارے کے طور پر کیا گیا۔

urdureport.com@2025. All Rights Reserved

Your license hasn’t been activated yet. Activate it now!