اردو رپورٹ ڈیسک
نیپال میں تباہ کن سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 734 ہوگئی ہے جبکہ 2,498 افراد تاحال لاپتا ہیں۔ ملک کے ڈیزاسٹر مینجمنٹ ادارے کے مطابق امدادی کارروائیاں پانچویں روز میں داخل ہوگئی ہیں۔
امدادی ٹیمیں اب تک 3,700 سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کرچکی ہیں۔ تاہم شدید سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ، خراب موسم اور دشوار گزار علاقوں کے باعث متاثرہ مقامات تک رسائی میں مشکلات برقرار ہیں۔
ریسکیو آپریشن میں 18 ہزار سے زائد اہلکار حصہ لے رہے ہیں۔ حکام نے امدادی سامان پہنچانے کے لیے ہیلی کاپٹروں کا استعمال بڑھا دیا ہے جبکہ بعض علاقوں میں ریسکیو کے لیے ڈرونز استعمال کرنے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔
غیر ملکی شہری بھی متاثر
سیلاب سے بڑی تعداد میں غیر ملکی شہری بھی متاثر ہوئے ہیں۔ نیپال ٹورازم بورڈ کے اعداد و شمار کے مطابق 261 غیر ملکی شہریوں کو ریسکیو کیا جاچکا ہے جبکہ 320 تاحال لاپتا ہیں۔
ریسکیو کیے گئے غیر ملکیوں میں 167 بھارتی، 40 چینی، 8 یوکرینی، 4 جرمن، 4 مالٹی اور 3 امریکی شہری شامل ہیں۔
سرنگوں میں پھنسے ہائیڈرو پاور ملازمین کی تلاش
ریسکیو اہلکار سیلابی ملبے سے بھری سرنگوں میں پھنسے ہائیڈرو پاور منصوبوں کے ملازمین تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
نیپالی حکومت کے مطابق کئی سرنگوں میں 100 سے زائد کارکن اب بھی زندہ پھنسے ہوسکتے ہیں۔ ٹریشولی تھری اے اور ٹریشولی تھری بی ہائیڈرو پاور منصوبے ریسکیو کارروائیوں کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔
نیشنل ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن اینڈ مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق بدھ کی صبح مٹی اور ملبے کی ایک بڑی لہر کی زد میں آنے کے بعد 933 ہائیڈرو پاور کارکن لاپتا ہیں۔
ٹریشولی تھری اے منصوبے میں فوجی ریسکیو ٹیموں نے ہفتے کی شام ڈرل مشینوں کے ذریعے مٹی سے بھری سرنگ کے بالائی حصے تک راستہ بنانے کی کوشش کی۔ اس کے بعد سرنگ کے اندر ہوا اور کیمرے بھیجے گئے۔
تاہم رات بھر ہونے والی شدید بارش اور دریاؤں میں پانی کی سطح بڑھنے سے کارروائی متاثر ہوئی۔ نیپالی فوج کے مطابق رات تقریباً 2 بجے بارش شروع ہونے کے بعد پانی کی سطح بلند ہوئی اور کھدائی کا علاقہ زیر آب آگیا۔
بین الاقوامی امدادی ٹیمیں بھی شریک
قدرتی آفت سے متعلق حکام کی جانب سے جاری تصاویر میں امدادی کارکنوں کو کیچڑ میں آگے بڑھتے اور سیلاب سے جمع ہونے والے بڑے پتھر ہٹاتے دیکھا گیا۔
نیپال کے وزیراعظم کے دفتر کے مطابق مسلسل بارش اور مشکل حالات کے باوجود ریسکیو ٹیموں نے رات بھر کام جاری رکھا۔ ممکنہ طور پر سرنگوں میں پھنسے افراد کی تلاش کے لیے جدید سرچ کیمروں اور خصوصی مانیٹرز کا بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔
امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق چین اور نیپال کی سرحد کے قریب آنے والی اس تباہی کی وجہ گلیشیئر کا منہدم ہونا تھا۔ بھارت اور چین کی خصوصی سرنگ ریسکیو ٹیمیں بھی امدادی کارروائیوں میں شامل ہوگئی ہیں۔
نیپال کی خصوصی پہاڑی ریسکیو ٹیمیں بھی تلاش کے عمل میں حصہ لے رہی ہیں۔ یہ ٹیمیں دنیا کی بلند ترین چوٹیوں، بشمول ماؤنٹ ایورسٹ، پر کوہ پیماؤں کی مدد کرتی ہیں۔
11 ہائیڈرو پاور اسٹیشن بند
نیپال الیکٹریسٹی اتھارٹی کے مطابق سیلاب سے 11 ہائیڈرو پاور اسٹیشن اور ایک سولر پاور اسٹیشن نے کام کرنا بند کردیا ہے۔ ان تمام تنصیبات کی مجموعی پیداواری صلاحیت 431.1 میگاواٹ ہے۔
اتھارٹی کے مطابق متاثرہ منصوبے نیپال کی مجموعی نصب شدہ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت کا تقریباً 10 فیصد ہیں۔ اس کے علاوہ زیر تعمیر 15 ہائیڈرو پاور منصوبے بھی متاثر ہوئے ہیں، جن کی مجموعی منصوبہ بند پیداواری صلاحیت 470 میگاواٹ ہے۔


