اس وقت یہ بحث زیر گردش ہے کہ دنیا کے طاقتوں کو انکھیں دکھانے والی ریاست شمالی کوریا کا وارث کون ہو گا ،کیا کم جونگ اُن کی کم سن بیٹی شمالی کوریا کی اگلی حکمران ہوں گی؟

سوال یہ ہے: کیا دنیا جلد ایک کم سن لڑکی کو جوہری ہتھیاروں سے لیس ریاست کی سربراہ کے طور پر دیکھے گی؟
پیانگ یانگ کی فوجی پریڈ میں جب میزائلوں کی گرج سنائی دیتی ہے اور ہزاروں سپاہی یک زبان ہو کر سلامی پیش کرتے ہیں، تو سب کی نظریں عموماً ایک ہی شخصیت پر مرکوز ہوتی ہیں: کم جونگ اُن۔
لیکن اب اس منظر میں ایک نیا چہرہ بھی نمایاں ہونے لگا ہے — ایک کم سن لڑکی، سیاہ چمڑے کے کوٹ اور سن گلاسز میں ملبوس، جو باپ کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر کھڑی ہے۔ کیا یہ محض ایک بیٹی ہے؟ یا شمالی کوریا کے مستقبل کی تصویر؟
خاموش اشارے، بلند سوالات
حالیہ پارٹی کانگریس میں کم جونگ اُن نے ایک بار پھر جنوبی کوریا اور امریکہ کو سخت پیغام دیا اور جوہری پروگرام کو مزید وسعت دینے کا اعلان کیا۔ مگر عالمی میڈیا کی توجہ ایک اور سوال پر مرکوز رہی: کیا ان کی بیٹی کم جو اے اقتدار کی اگلی وارث ہوں گی؟
اگرچہ کوئی باضابطہ اعلان سامنے نہیں آیا، لیکن جنوبی کوریا کی انٹیلی جنس کے مطابق کم جونگ اُن اپنی بیٹی کو جانشین کے طور پر تیار کر رہے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ وہ اہم پالیسی معاملات میں بھی موجود رہتی ہیں۔
کم جو اے پہلی بار 2022 میں منظر عام پر آئیں، جب وہ اپنے والد کے ساتھ ایک میزائل تجربے کا معائنہ کر رہی تھیں۔ تب سے وہ فوجی پریڈز، ہتھیاروں کے معائنے اور ریاستی تقریبات میں نمایاں نظر آ رہی ہیں۔
ان کے وجود کا پہلا ذکر 2013 میں باسکٹ بال اسٹار Dennis Rodman نے کیا تھا، جب انہوں نے پیانگ یانگ کے دورے کے بعد ان کا نام ظاہر کیا۔ لیکن شمالی کوریا نے آج تک سرکاری طور پر نہ ان کا نام جاری کیا ہے اور نہ عمر — یہی پراسراریت ان کی شخصیت کو مزید دلچسپ بناتی ہے۔
شخصیت پرستی کا نیا باب؟

شمالی کوریا کے ماہر Cheong Seong-chang کے مطابق سرکاری میڈیا میں کم جو اے کو جس انداز میں پیش کیا جا رہا ہے، وہ اتفاقی نہیں۔
انہیں “محترم بچی” جیسے القابات دیے جا رہے ہیں — ایسے الفاظ جو عموماً سپریم لیڈر کے لیے مخصوص ہوتے ہیں۔ تصاویر میں وہ اکثر مرکز میں کھڑی دکھائی دیتی ہیں، جبکہ اعلیٰ فوجی افسران ان کے قریب جھک کر گفتگو کرتے نظر آتے ہیں۔
شمالی کوریا میں طاقت کا اصل سرچشمہ فوج ہے۔ اگر کم جو اے مستقبل کی رہنما ہیں، تو انہیں ایک ممکنہ سپریم کمانڈر کے طور پر عوام کے سامنے پیش کیا جا رہا ہے — بالکل اسی طرح جیسے ماضی میں کم جونگ اُن کو متعارف کرایا گیا تھا۔
مردانہ غلبے کی ریاست میں لڑکی کا کردار

لیکن کیا ایک خاتون شمالی کوریا جیسے سخت گیر اور مردانہ غلبے والے معاشرے کی قیادت کر سکتی ہے؟
سابق شمالی کوریائی سفارتکار Ryu Hyun-woo اس خیال کو بعید از قیاس قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق ملک کا نظریاتی ڈھانچہ "پیکٹو نسل” پر مبنی ہے — یعنی ملک کے بانی Kim Il Sung کی براہِ راست اولاد کو قیادت کا حق حاصل ہے۔
اگرچہ کم جو اے اس نسل سے تعلق رکھتی ہیں، مگر روایتی سوچ میں قیادت ہمیشہ مرد کے ہاتھ میں رہی ہے۔ فوجی اشرافیہ کے لیے ایک خاتون سپریم کمانڈر کو قبول کرنا آسان نہ ہوگا۔
بدلتا ہوا سماج، نئی حقیقتیں
تاہم تصویر کا دوسرا رخ بھی ہے۔
1990 کی دہائی کے قحط کے دوران، جب ریاستی نظام کمزور پڑ گیا تھا، خواتین نے گھروں کو سہارا دیا، کاروبار کیے، بلیک مارکیٹ چلائی اور خاندانوں کو زندہ رکھا۔ آج فیکٹریوں اور پارٹی عہدوں پر خواتین کی موجودگی بڑھ رہی ہے۔
محقق Song Hyun-jin کے مطابق اگر کم جونگ اُن فیصلہ کر لیں تو کم جو اے کی جنس ان کے راستے کی رکاوٹ نہیں بنے گی۔ شمالی کوریا کو جدید جمہوری منطق سے نہیں بلکہ شاہی روایت سے سمجھنا ہوگا — جیسے کسی قدیم بادشاہت میں خون کی نسبت سب سے بڑی سند ہوتی ہے۔
کم خاندان: اقتدار کا تسلسل
شمالی کوریا میں اقتدار ہمیشہ کم خاندان کے گرد گھومتا رہا ہے — Kim Il Sung سے لے کر Kim Jong Un تک۔ ہر منتقلی نے دنیا کو حیران کیا، مگر روایت برقرار رہی۔
حالیہ دنوں میں کم جونگ اُن کی بااثر بہن Kim Yo Jong کو اہم عہدہ دیا گیا ہے۔ کچھ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ وہ ممکنہ طور پر کم جو اے کی سیاسی سرپرست کا کردار ادا کر سکتی ہیں۔
توجہ کا کھیل یا مستقبل کی تیاری؟
کچھ مبصرین کا کہنا ہے کہ کم جونگ اُن اپنی سخت گیر شبیہ نرم کرنے اور عالمی توجہ حاصل کرنے کے لیے بیٹی کو منظر عام پر لا رہے ہیں۔ مگر دیگر کے مطابق یہ ایک سوچی سمجھی حکمت عملی ہے — اقتدار کی بتدریج منتقلی کی تیاری۔
سوال اب بھی وہی ہے: کیا دنیا جلد ایک کم سن لڑکی کو جوہری ہتھیاروں سے لیس ریاست کی سربراہ کے طور پر دیکھے گی؟
شمالی کوریا میں فیصلے اچانک بھی ہوتے ہیں اور خاموشی سے بھی۔ لیکن ایک بات واضح ہے — پیانگ یانگ کے افق پر اب صرف ایک لیڈر کا سایہ نہیں، بلکہ ایک ممکنہ وارث کی پرچھائیں بھی دکھائی دینے لگی ہے۔
یہ بھی پڑھئیے

