مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی خصوصاً آبنائے ہرمز کی بندش نے عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ کر دیا۔ اگر عالمی بحران برقرار رہا تو پیٹرولیم قیمتوں میں اضافہ ناگزیر ہو سکتا ہے
اس وقت تیل کی قیمت 115 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی۔اس کے باوجود پاکستان میں گزشتہ دو ہفتوں سے پیٹرول کی قیمت میں اضافہ نہیں کیا گیا۔
پاکستان میں تیل کی قیمت میں اضافہ
ایران پر اس رائی ل اور امریکہ کے حملوں کے بعد 7 مارچ کو پاکستان میں پیٹرول کی قیمت میں 55 روپے فی لیٹر اضافہ کیا گیا تھا، جس کے بعد قیمت 322.17 روپے فی لیٹر پر برقرار ہے۔
حال ہی میں وزیراعظم نے پیٹرول میں 95 روپے اور ڈیزل میں 203 روپے فی لیٹر اضافے کی تجویز مسترد کر دی۔
حکومت کے مطابق اگر عالمی قیمتوں میں اضافے کو مکمل طور پر عوام تک منتقل نہیں کیا ۔اگر ایسا کیا جاتا تو پیٹرول کی قیمت 544 روپے اور ڈیزل 790 روپے فی لیٹر تک پہنچ سکتی تھی۔
حکومت نے عوام کو ریلیف دینے کے لیے اب تک 125 ارب روپے کا بوجھ خود برداشت کیا ۔
آئی ایم ایف اور تیل پر سبسڈی
یہ سوال اہم ہے کہ آئی ایم ایف پروگرام میں رہتے ہوئے حکومت یہ ریلیف کیسے دے رہی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ یہ سبسڈی نہیں بلکہ اخراجات میں کمی اور کفایت شعاری کے ذریعے ممکن بنایا گیا ہے۔
سرکاری اخراجات میں کمی اور دیگر اقدامات کے ذریعے وسائل بچا کر عوام کو ریلیف دیا جا رہا ہے۔
تاہم ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ یہ صورتحال زیادہ دیر تک برقرار نہیں رکھی جا سکتی۔ عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے اوپر جا چکی ہیں ۔ پاکستان نے اپنے بجٹ میں 80 ڈالر فی بیرل کا تخمینہ رکھا تھا۔ ہر 10 ڈالر اضافے سے ملک کو سالانہ ڈیڑھ سے دو ارب ڈالر اضافی خرچ برداشت کرنا پڑتا ہے۔
اگر مشرقِ وسطیٰ میں جنگ طویل ہو جاتی ہے تو حکومت کو مشکل فیصلے کرنا پڑ سکتے ہیں۔
ٹارگٹڈ سبسڈی کس کو ملے گی
ممکنہ اقدامات میں پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ، مخصوص طبقات کے لیے ٹارگٹڈ سبسڈی، یا پیٹرول کی راشن بندی شامل ہو سکتی ہے۔ خاص طور پر موٹر سائیکل اور رکشہ صارفین کے لیے محدود مقدار میں سستا پیٹرول فراہم کرنے کی تجاویز زیر غور ہیں۔
ماہرین کے مطابق اگر ایندھن کی کمی پیدا ہوتی ہے تو اس سے نہ صرف مہنگائی میں اضافہ ہوگا ۔ ملکی معاشی شرح نمو بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ ماضی میں روس-یوکرین جنگ کے دوران بھی ایسی صورتحال دیکھنے میں آئی تھی۔ اس وقت سبسڈی دینے سے پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ بڑھ گیا تھا۔
موجودہ حالات میں حکومت اخراجات کم کر کے وقتی ریلیف تو دے رہی ہےماہرین کا کہنا ہے کہ اگر عالمی بحران برقرار رہا تو پیٹرولیم قیمتوں میں اضافہ ناگزیر ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھئِے


