بھارت کے نوجوان کھلاڑی ایشان کشن نے 40 گیندوں پر 77 رنز کی برق رفتار اننگز کھیلی اور ان ہی کی بدولت انڈیا کی ٹیم نے پاکستان کو 176 رنز کا ہدف دیا اور پاکستانی ٹیم 61 رنز سے یہ میچ ہار گئی۔
ہر ذہن مین سوال یہ ابھر رہا ہے کہ کیا پاکستان کی جانب سے کوئی بھی ایسا کھلاڑی نہیں جو دس اوورز تک ہی کریز پر رک سکے یا کم از کم کوئی سینیر اپنے تجرنے کا جادو دکھا سکے۔
پاکستان ان سینیر کھلاڑیوں کا بوجھ کیوں اٹھا رہا ہے، جبکہ یہ سینیرز نوجوان ٹیلنٹڈ کھلاڑیوں اک مسلسل راستہ بھی روکے ہوئے ہیں صرف ایک جملے کے بل بوتے پر کہ سٹار کو نہ کھلایا تو سپانسرز کہاں سے آئیں گے۔
سٹار بلے بازبابر اعظم سات گیندوں کا سامنا کرنے کے بعد پانچ رنز بنا کر آؤٹ ہو گئے۔جبکہ باقی دو سٹار شاداب خان اور شاہین شاہ آفریدی نے بھی کسی کارکردگی کا مظاہرہ نہ کیا اور انڈین بلے بازوں کے سامنے بے بس ہو گئے۔
اگر ایسا ہے تو پاکستان ان سٹار کھلاڑیوں کا اب تک بوجھ کیوں برداشت کر رہا ہے جبکہ انہی کی وجہ سے نوجوانوں کو ٹیم میں جگہ بھِ نہیں مل پاتی۔
پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان محمد یوسف نے ایکس پر شاہین، بابر اور شاداب پر تنقید کی۔
Time’s up for Shaheen, Babar, and Shadab, Pakistan’s T20 squad needs new performers, not empty wins against weaker sides #T20worldcup
— Mohammad Yousaf (@yousaf1788) February 15, 2026
سابق کرکٹ اسٹار شعیب اختر نے کہا کہ انڈیا کی ٹیم بہت آگے چلی گئی ہے، ہم بہت پیچھے رہ گئے ہیں، ایسے لوگوں کو اسٹار بنایا ہے جو 10 اوورز بھی نہیں کرسکتا، ایسے لوگوں کو اسٹار بناؤ گے تو یہی ہوگا۔
جس کو کرکٹ کا علم نہیں اس کو چیرمین بنایا ہے جاہل کو ذمہ داری دینا بڑا جرم ہے،شعیب اختر کی تنقیدhttps://t.co/J28njce9lX
— Urdu Report (@UrduReportpk) February 16, 2026
قومی ٹیم کے سابق کپتان شاہد آفریدی نے واضح طور پر کہا کہ اگر فیصلہ ان کے ہاتھ میں ہو تو وہ شاہین شاہ آفریدی، بابر اعظم اور شاداب خان کو بھی کچھ عرصے کے لیے باہر بٹھا کر نوجوان کھلاڑیوں کو موقع دیں۔
ان کا کہنا تھا کہ برسوں سے انہی سینیئرز کو دیکھ رہے ہیں، لیکن اہم مواقع پر توقعات پوری نہیں ہوتیں، اس لیے جونیئر کھلاڑیوں کو اعتماد اور مواقع فراہم کیے جانے چاہئیں۔
واحد تبدیلی جو پاکستان کو انڈیا کے خلاف میچ میں اُترنے سے پہلے اپنی الیون میں لانا چاہیے تھی، وہ سلمان مرزا کی شمولیت تھی جو اس پچ پر اتنے ہی موثر ہو سکتے تھے جتنے ہاردک پانڈیا ثابت ہوئے۔لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔
پاکستان کا جب بھی کوئی بڑا میچ ہوتا ہے تو ایسی باتیں خوب دل کو بھا جاتی ہیں مگر کچح وقت گزر جائے تو تب تک سب کچھ بھلا دیا جاتا ہے جب تک کوئی نیا سانحہ نہ ہو۔
یہ بھی پڑھئِے


