لاہور: پاکستان کرکٹ بورڈ نے ICC Men’s T20 World Cup میں قومی ٹیم کی ناقص کارکردگی پر سخت اقدام اٹھاتے ہوئے اسکواڈ کے ہر کھلاڑی پر 50، 50 لاکھ روپے جرمانہ عائد کر دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ میگا ایونٹ سے جلد اخراج اور غیر تسلی بخش نتائج کے بعد کیا گیا۔
پی سی بی حکام نے کھلاڑیوں کو واضح پیغام دیا ہے کہ آئندہ مالی مراعات کارکردگی سے مشروط ہوں گی۔ جبکہ سنٹرل کنٹریکٹس میں بھی سختی متوقع ہے۔ بورڈ نے ٹیم کی مجموعی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ شروع کر دیا ہے۔
ورلڈ کپ مہم کی صورتحال
ٹورنامنٹ میں پاکستان کی مہم غیر یقینی کا شکار رہی۔ ابتدائی میچ میں نیدرلینڈز کے خلاف ٹیم شکست سے بال بال بچی۔ امریکا کو شکست دینے کے باوجود اعتماد بحال نہ ہو سکا، جبکہ بھارت کے خلاف میچ میں کارکردگی توقعات پر پوری نہ اتر سکی۔
گروپ مرحلے میں نمیبیا کو شکست دے کر سپر 8 مرحلے میں رسائی حاصل کی گئی، تاہم نیوزی لینڈ کے خلاف میچ بارش کی نذر ہو گیا۔
انگلینڈ کے ہاتھوں شکست نے سیمی فائنل کی راہ مشکل بنا دی۔ بعد ازاں انگلینڈ نے نیوزی لینڈ کو ہرایا، مگر سری لنکا کے خلاف پاکستان کی سست فتح مطلوبہ رن ریٹ بہتر نہ کر سکی اور یوں نیوزی لینڈ سیمی فائنل میں پہنچ گیا جبکہ گرین شرٹس ایونٹ سے باہر ہو گئے۔
ٹیم میں بڑی تبدیلیوں کا امکان
ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹیم کی ازسرنو تشکیل پر غور جاری ہے اور چند سینئر کھلاڑیوں کو ٹی 20 فارمیٹ سے وقتی طور پر باہر رکھنے کی تجویز زیر غور ہے۔
رپورٹس کے مطابق بابر اعظم سمیت بعض ناموں پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ نئی حکمت عملی کے تحت نوجوان کھلاڑیوں کو زیادہ مواقع دینے کا امکان ہے۔
مالی مراعات اور تنقید
پی سی بی کی موجودہ پالیسی مالی نظم و ضبط پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔ اے کیٹیگری کھلاڑی کو ماہانہ 45 لاکھ روپے جبکہ آئی سی سی ریونیو شیئر سے تقریباً 20 لاکھ 70 ہزار روپے ملتے ہیں۔
بی کیٹیگری کے کھلاڑی کو 30 لاکھ روپے ماہانہ اور 15 لاکھ 52 ہزار 500 روپے آئی سی سی شیئر دیا جاتا ہے۔
کرکٹ تجزیہ کاروں کے مطابق بلند معاوضوں کے مقابلے میں حالیہ نتائج مایوس کن رہے ہیں۔ گزشتہ برسوں میں پاکستان نے ٹی 20 کرکٹ میں غیر مستقل مزاجی کا مظاہرہ کیا ہے اور اہم ایونٹس میں دباؤ برداشت کرنے میں مشکلات کا سامنا کیا۔
شائقین کرکٹ نے سوشل میڈیا پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے جبکہ سابق کھلاڑیوں نے ڈسپلن، فٹنس، فیلڈنگ اور بہتر اسٹرائیک ریٹ پر توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
پی سی بی کے حالیہ فیصلے سے واضح ہے کہ کارکردگی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا اور آئندہ سیریز میں ٹیم کو اپنی ساکھ بحال کرنے کا بڑا چیلنج درپیش ہوگا۔
یہ بھی پڑھئِں


